تھلیسمیا سے آگاہی کا عالمی دن، جیکب آباد میں الحسینی بلڈ بینک اورتھلیسمیا سینٹر ایک سال سے بند

تھلیسمیا سے آگاہی کا عالمی دن، جیکب آباد میں الحسینی بلڈ بینک اورتھلیسمیا ..
جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2021ء) تھلیسمیا سے آگاہی کا عالمی دن، جیکب آباد میں الحسینی بلڈ بینک اورتھلیسمیا سینٹر ایک سال سے بند، سندھ حکومت نے تھلیسمیا سینٹر کے 2کروڑ روپے ہڑپ کرکے تھلیسمیا میں مبتلا 450 بچوں کی زندگی داؤ پر لگا دی، تھلیسمیا سینٹر بند ہونے سے علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث ایک سال کے دوران 10 بچے فوت ہوگئے مزید اموات کا خدشہ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق تھلیسمیا سے آگاہی کا عالمی دن(آج) 8مئی کو ملک بھر منایا جاتا ہے جیکب آباد میں تھلیسمیا کے مریضوں کے لیے قائم الحسینی بلڈ بینک اور تھلیسمیا سینٹر سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث ایک سال بند ہوچکا ہے جس کی وجہ سے زیر علاج 450 سے زائد بچے علاج کی سہولت سے محروم ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوچکے ہیں، تھلیسمیا سینٹر بند ہونے سے علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے ایک سال کے دوران 10بچے فوت ہوچکے ہیں جبکہ مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، الحسینی بلڈ بینک میں جیکب آباد سمیت سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے آنے والوں 450 سے زائد بچوں کا علاج کیا جاتا ہے تھلیسمیا سینٹر کا سالانہ بجٹ 3 کروڑ روپے تھا جس میں سے ڈیڑھ کروڑ سندھ حکومت اور ڈیڑھ کروڑ الحسینی بلڈ بینک ادا کرتا تھا لیکن سندھ حکومت نے دو سال قبل اپنے حصے کا بجٹ دینا بند کردیا اور سندھ حکومت الحسینی بلڈ بینک کی دو کروڑ روپے کی مقروض ہوگئی جو ابھی تک ادا نہیں کئے گئے، الحسینی بلڈ بینک نے کئی بار سندھ حکومت کو لکھا کہ وہ فلفور بجٹ جاری کرتے ہوئے بقایا جات بھی ادا کریں تاکہ معصوم بچوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں لیکن سندھ حکومت نے بقایا جات ادا کرنے کے بجائے بجٹ ہی بند کردی بجٹ کی عدم فراہمی کے باعث الحسینی بلڈ بینک نے مالی خسارے کے باعث تھلیسمیا سینٹر بند کردیا جیکب آباد قائم الحسینی بلڈ بینک اور تھلیسمیا سینٹر ایک سال بند ہے اور وہاں زیر علاج 450 سے زائد بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں اور تھلیسمیا میں مبتلا بچے اب علاج کے لیے دربدر ہوگئے ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے الحسینی بلڈ بینک کے فنڈز بند ہونے کے خلاف تھلیسمیا میںمبتلا بچوں اور ان کے والدین نے احتجاج کیا تھا لیکن سندھ حکومت نے ان کی کوئی دادرسی نہیں کی، الحسینی بلڈ بینک تھلیسمیا سینٹر میں کام کرنے والے سید مختیار شاہ نے رابطہ کرنے بتایا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث الحسینی بلڈ بینک نے ایک سال قبل تھلیسمیا سینٹر بند کردیا ہے جس کی وجہ سے 450 سے زائد بچوں کو ملنے والی علاج کی سہولت چھین لی گئی ہے اور بچے اب علاج کے لیے دربدرہوگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ الحسینی بلڈ بینک سے معاہدہ ختم کرکے نیا معاہدہ محمدی بلڈ بینک سے کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ بھی بجٹ پر مسائل چل رہے ہیں اس لیے وہ ابھی تک فعال نہیں ہوئی، انہوں نے بتایا کہ الحسینی بلڈ بینک کا سالانہ خرچہ 3 کروڑ روپے تھا جس میں سے ڈیڑھ کروڑ سندھ حکومت دیتی تھی لیکن سندھ حکومت نے بجٹ دینا بند کردی تو الحسینی بلڈ بینک نے مالی خسارے کے باعث سینٹر بند کردیا انہوں نے کہا کہ تھلیسمیا سینٹر میں 450 سے زائد بچے زیر تھے اور فی بچے کا ماہانہ خرچہ 30 ہزار روپے تھا تھلیسمیا میں مبتلا غریب بچے ہر ماہ 30 ہزار روپے خرچ نہیں کرسکتے اس لیے وہ پریشان ہیں، انہوں نے کہا کہ الحسینی بلڈ بینک میں 16 ملازم کام کرتے تھے جن کو فارغ کردیا گیا ہے اب ہم کچھ لوگ محمدی بلڈ بینک کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیں امید ہے کہ عید کے بعد سندھ حکومت بجٹ جاری کرے گی تو بچوں کا علاج شروع کیا جائے گا، دوسری جانب وفاقی وزیر محمد میاں سومرو نے جیکب آباد میں تھلیسمیا سینٹر بند ہونے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ پیچوہو اور سیکریٹری صحت کو خط لکھ کر سینٹر بحال کرنے کی اپیل کی ہے، وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کو لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ 500 بچوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے اس لیے جلد تھلیسمیا سینٹر کے فنڈز دیکر بحال کیا جائے۔

Your Thoughts and Comments