بند کریں
صحت صحت کی خبریںشمالی وزیرستان کے بچوں میں ملیریا، قے اور دست کی بیماریاں پھیلنے لگیں

صحت خبریں

وقت اشاعت: 02/07/2014 - 20:55:31 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 19:39:24 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 18:57:53 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 18:44:18 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 18:30:38 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 18:24:40 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 18:23:06 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 18:09:41 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 16:50:28 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 16:29:04 وقت اشاعت: 02/07/2014 - 14:11:54

شمالی وزیرستان کے بچوں میں ملیریا، قے اور دست کی بیماریاں پھیلنے لگیں

بنوں(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔2جولائی 2014ء) خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے شمالی وزیرستان کے لاکھوں آئی ڈی پیز کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے اعلانات تک ہی محدود ہوگئے بچوں میں ملیریا  قے اور دست کی بیماریاں پھیلنے لگیں ۔ بنوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ا سٹاف اورادویات کی کمی کے باعث آئی ڈی پیز پریشان اوربجلی کی لوڈشیڈنگ اور ائیر کنڈیشنرز کی خرابی نے صور تحال کو مزید ابتر بنادیا ۔

آئی ڈی پیز کے بچوں میں ملیریا، قے اور دست کی بیماریاں پھیلنے لگیں۔شدید گرمی نے بنوں کے وویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج خواتین اور بچوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوکردیا گرمی اور سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث گذشتہ روز بھی ایک سات دن کا بچہ جان کی بازی ہار گیا اور دوسرا بچہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ہسپتال کے بیشتر اے سی ناکارہ ہیں،تاہم اس کے باوجودکسی حکومتی شخصیت یا وزیر نے ہسپتال کادورہ کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔

ہسپتال میں رقت انگیز مناظر دیکھنے کوملے ۔ہسپتال کی وارڈوں میں مریض تکلیف اور گرمی کے باعث تڑپ رہے تھے ۔ ایمرجنسی کی صورت میں ادویات دستیاب تھیں نہ ہی وارڈز میں اے سی کام کر رہے تھے جبکہ صفائی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی جس کے باعث ہسپتا ل کی وارڈوں میں کھڑا ہونا بھی مشکل تھا ۔ ایک سو بیس بستروں کے اس ٹیچنگ ہسپتال میں کل 6ڈاکٹر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جبکہ آئی ڈی پیز کی آمد کے باوجود اضافی عملہ تعینات نہیں کیا گیا ۔

ہسپتال ا سٹاف کے مطابق روزانہ 800 کے قریب مریض آرہے ہیں جن کے لئے اضافی ا سٹاف ہے اور نہ ہی ادویات کا کوئی بندوبست کیا گیا ہے البتہ او پی ڈی شفٹ کے اوقات کوبڑھا دیا گیا ہے ۔ہسپتال آنے والے آئی ڈی پیز کے بچوں میں ملیریا، قے اور دست کی بیماریاں عام ہوچکی ہیں ۔ ہسپتال میں موجود درپہ خیل شمالی وزیرستان کے ہاشم علی نے بتایا کہ ادویات نہ ہونے کی وجہ سے اس کا سات دن کا ایک بچہ جاں بحق ہو گیا ہے دوسرا موت و حیات کے کشمکش میں مبتلا ہے اس کے بچوں کو دست کی بیماری لاحق تھی ، اسپتال میں ڈرپ سمیت دیگر ایمرجنسی ادویات دستیاب نہیں ہیں نہ ہی اب تک وفاقی یا صوبائی حکومت نے ایمرجنسی ادویات فراہم کی ہیں۔

صفائی کی صورت حال انتہائی ابتر ہے وارڈز میں بھی بیٹھا نہیں جاتا ۔ بچوں کے وارڈ میں ائیر کنڈیشنڈ کئی دنوں سے خراب تھا اور وارڈ میں بچے اپنی ماؤں کے ساتھ شدید گرمی سے بلکتے رہے۔ حتیٰ کہ لیبر روم کا ائرکنڈیشنڈ بھی ناکارہ ہو نے سے حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا تھا ۔ہسپتال کی نرسز بھی صورت حال سے نالاں نظر آئیں۔ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ نے بتایا کہ انہیں ہسپتال میں ادویات اور انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ شمالی وزیرستان سے لاکھوں آئی ڈی پیزکے آنے کے بعد وویمن اینڈ چلڈرن ٹیچنگ ہسپتال بنوں پر دباؤ بڑھ گیا اور مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں چوبیس گھنٹوں میں صرف چار گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے جبکہ ہسپتال میں موجود جنریٹر اے سی چلانے کے قابل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری نرسز کی تعداد44سے زائد ہے تاہم ڈاکٹروں کی تعداد کم ہے جو تقریباً 6ہے۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے دعوؤں کے باوجود ابھی تک ہسپتال کو ایمرجنسی ادویات فراہم نہیں کی گئی۔

02/07/2014 - 18:24:40 :وقت اشاعت