فیصل آباد میں کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح 3فیصد پر آگئی،

گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید11کیس رپورٹ ہوئے،ترجمان ڈی ایچ اے

فیصل آباد میں کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح 3فیصد پر آگئی،
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2021ء)فیصل آباد میں گزشتہ روزکورونا پازیٹو مریضوں کی شرح 3 فیصد پر آگئی  جبکہ  گذشتہ 24گھنٹوں میں کوروناکے مزید11 پازیٹومریض رپورٹ ہوئے ہیں،فیصل آباد میں اب تک کووڈ۔19سے جاں بحق افراد کی کل تعدا د920اور ایکٹو کیسز کی تعداد336 ہو گئی ہے،الائیڈ  ہسپتال میں اس وقت کووڈ۔19کے101،ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 30اور غلام آباد ہسپتال میں 11 مریض داخل ہیں اسی طرح180کنفرم مریض گھروں پر آئسولیشن میں ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی فیصل آباد کے ترجمان نے ہفتہ کو اے پی پی کو بتایا کہ فیصل آباد کی سرکاری اور پرائیویٹ لیبارٹریز میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 367افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے356افراد کے ٹیسٹ نیگیٹواور11افراد کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ فیصل آباد میں اب تک کووڈ۔19سے جاں بحق ہونے والے افراد کی کل تعداد920 اور ایکٹو کیسز کی تعداد336 ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اب تک کووڈ۔19کے20068 مریض صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت الائیڈ ہسپتال میں کووڈ۔19کے101 مریض، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں کووڈ۔19کے30مریض اورگورنمنٹ جنرل ہسپتال غلام محمد آباد فیصل آباد میں بھی اس وقت کووڈ۔19 کے11 مریض داخل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کووڈ۔19 کے کنفرم180 مریض گھروں پر آئسولیشن میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں کووڈ۔19 کے مریضوں کیلئے مخصوص کئے گئے تینوں ہسپتالوں میں کل 622 بیڈز مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت الائیڈ ہسپتال فیصل آبادمیں 339 بیڈز کووڈ۔19 کے مریضوں کیلئے مخصوص کئے گئے ہیں جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کووڈ۔19 کے مریضوں کیلئے133 اورگورنمنٹ جنرل ہسپتال غلام محمد آباد فیصل آباد میں 150بیڈز مخصوص ہیں۔

انہوں نے بتا یا کہ الائیڈہسپتال میں اس وقت کووڈ۔19کیلئے مختص 26 وینٹی لیٹرز سمیت شہر کے ڈی ایچ کیو اور غلام محمد آباد ہسپتال میں مجموعی طور پر 47وینٹی لیٹرز مخصوص کئے گئے ہیں جنہیں بوقت ضرورت زیر استعمال لایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ الائیڈ،ڈی ایچ کیو و جنرل ہسپتال غلام محمد آباد میں کووڈ۔19کے ممکنہ مریضوں کیلئے آکسیجن کی سہولت والے بیڈز وادویات دستیاب ہیں لیکن پھر بھی احتیاطی تدابیرپرعمل درآمد ناگزیر ہے۔

Your Thoughts and Comments