عوام کورونا ویکسین سے متعلق افواہوں پر یقین نہ کریں، رضوان ملک

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2021ء)عوام کورونا ویکسین سے متعلق افواہوں پر یقین نہ کریں، اس کے سنجیدہ نوعیت کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں، تمام طرح کی ویکسینز عالمی ادارہ صحت اور ملکی اداروں سے اجازت   کے بعد لگائی جاتی ہیں،میڈیا ویکسین کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں کردار ادا کرے، وبا کے خیبرپختونخوا بشمول ضم شدہ اضلاع سے مکمل خاتمے کیلئے سب کا ویکسنیشن کرانا لازمی ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے وزیراعلی محمود خان کی زیر قیادت عوام کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے بہتر اقدامات اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی اٹھائے گی، یہی وجہ ہے کہ عوام نے کورونا  کی وبا کی پہلی دوسری اور تیسری وبا کے دوران خیبرپختونخوا حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

’’اے پی پی‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر برائے خزانہ وصحت تیمور سلیم جھگڑا کے ترجمان رضوان ملک نے کہا ہے کہ کورونا کی  وبا کے دوران ہماری معیشت کو باقی دنیا کے مقابلے میں کم نقصان اٹھانا پڑا تاہم چھوٹے کاروبار اور روزانہ اجرت حاصل کرنے والا طبقہ شدید متاثر ہوا، اس تمام تر صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں خود، اپنے خاندان، عزیز و اقارب اور دوستوں کو ویکسنیشن کیلئے راغب کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

رضوان ملک نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مزید 150کے قریب ویکسینیشن سینٹرز فعال ہوئے ہیں، یومیہ ایک لاکھ شہریوں کی کورونا سے بچائو کی ویکسینیشن کا ہدف مقرر کیا ہے جس کی جانب بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 1ہفتے کے دوران صوبے میں مزید 150 سینٹرز فعال ہونے سے ان کی تعداد 4 سو سے زیادہ  ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد 1ہزار تک لے کر جائیں گے اور اس سلسلے میں محکمہ صحت کو ٹاسک حوالے کر دیا گیا۔

اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان میں 30، بنوں میں 24، ایبٹ آباد میں 23، پشاور، سوات اور ہری پور میں 20، 20ویکسینیشن سینٹرز فعال ہیں۔ کئی اضلاع میں مزید ویکسینیشن سینٹرز کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں ان کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یومیہ 40ہزار کے قریب شہریوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے،خیبرپختونخوا میں اب تک 3لاکھ 13ہزار سے زائد شہریوں کی کورونا سے بچا کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ 9لاکھ 17ہزار سےزیادہ شہریوں نے ویکسین کی پہلی خوراک لے لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت خیبر پختونخوانے این سی او سی کی ہدایات کے مطابق ویکسینیشن سینٹرز  رات 10بجے تک کھلے رکھنے اور جمعہ کی بجائے اتوار کو ویکسینیشن کی چھٹی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔۔ممبرخیبرپختونخوا اسمبلی مومنہ باسط کاکہناہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے عوام کو کورونا کی وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے بہتر اقدامات اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی اٹھائے گی، یہی وجہ ہے کہ عوام نے کورونا کی وبا کی پہلی دوسری اور تیسری وبا کے دوران خیبرپختونخوا حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے ،کوروناویکسینیشن سے انکارقومی فریضے سے انکارہے ،افواہوں سے دوررہے صرف ویکسینینش ہی کوروناکاعلاج ہے ۔

انہوں نے کہاکہ زندگی کومعمول پرلاناہے توکوروناویکسین ضرورلگوائیں،کوروناویکسینیشن جان بچاتی ہے جان نہیں لیتی یہ آپ کوکوروناوائرس سے محفوظ رکھتی ہے ، 30یااس سے زائدعمرکے افرادکسی بھی قریبی ویکسنیشن سنٹرجاکرمفت ویکسین لگواسکتے ہیں ۔پشاورمیں رکشہ ڈرائیورنورخان نے کہاہے کہ کوروناویکسین میں نے لگوائی ہے لہٰذاآپ بھی ویکسین لگوالے ،اللہ تعالیٰ آپ کوکورونابیماری سے محفوظ رکھے گا۔

ممبرخیبرپختونخوااسمبلی آسیہ خٹک نے کہاہے کہ آج پوری دنیاسمیت پاکستان کوکورونا کی وباء کاچیلنج درپیش ہے ،وزیراعظم عمران خان اوروزیراعلیٰ محمودخان کی قیادت میں کوروناوباء کاڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں ،ہم نے کامیابی سے کوروناکی تیسری لہرکامقابلہ کیاجس کاساراکریڈٹ عوام کوجاتاہے جنہوں نے کوروناوباء کے دوران حکومت کے ساتھ بھرپورتعاون کیاتاہم عوام کوچاہئے کہ وہ کوروناویکسین ضرورلگوائیں ،ویکسین بالکل محفوظ ہے ،عوام 1166پراپنے شناختی کارڈ سے رجسٹریشن کرکے قریبی ویکسینیشن سنٹرجاکرمفت ویکسین لگواسکتے ہیں۔

پشاورمیں ویکسینیشن سنٹرکے انچارج ڈاکٹراسدکاکہناہے کہ ہمارے صحت محکمے کے سٹاف نے خودویکسینیشن کی ہے جس سے ان پرکوئی سائیڈایفیکٹ نہیں ہوا،ویکسینینش بالکل محفوظ ہے جوآپ کوکوروناوائرسے محفوظ رکھتے ہیں ،30یااس سے زائدعمرکے افرادکسی بھی قریبی ویکسنیشن سنٹرجاکرمفت ویکسین لگواسکتے ہیں۔پشاور کے علاقے جانی خیل سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رضاء اللہ جو کہ حیات میڈ یکل کمپلیکس پشاور میں پلمونالوجی ورڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کا کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ کرونا وائرس پر زیادہ یقین نہیں رکھتے زیادہ تر ایسے لوگ موجود ہیں جو کرونا ویکسین لگونے کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں لوگوں کا خیال ہے کرونا کوئی نئی بیماری نہیں ہے اور یہ تو عام زکام ہی ہے اور عام بخار اور لوگ کرونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ڈاکٹر رضاء للہ نے بتایا کہ ہمارے گائوں میں ابھی اس طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہ کرونا وائر س سے انکاری ہے تاہم جب ان کوتیزبخارہوا، ٹمپریچر کافی تیز تھا اور باقی علامات بھی ان میں کرونا کے تھے لیکن انہوں نے ٹیسٹ نہیں کیا، یہاں لوگ ٹیسٹ اس لیے نہیں کرواتے کیونکہ انکو ڈر لگتا ہے ہسپتال جانے سے ان کو لگتا ہے کہ ہسپتال سے واپس نہیں آئیں گے، کروناویکسین محفوظ ہے اور اس کو ضرور لگانا چاہئے۔

حاملہ یا دودھ پلانے والی مائیں کو کورونا ویکسینشن کے حوالے سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کووڈ 19ویکسینشن کے انچارج ڈاکٹر محمد زبیر بھٹی کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین منظور شدہ ہیں جو آپ دوران حمل بھی استعمال کر سکتے ہیں اور دودھ پلانے والی خواتین بھی استعمال کر سکتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ویکسین بچوں میں منتقل ہوتی ہیں تو یہ بات غلط ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے جو عام میڈیسن ہیں تو یہ اس طرح کی نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان میں قوت مدافعت پیدا کرتی ہے اور اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

انہوں نے کرونا ویکسین کے ری ایکشن کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب تک 3لاکھ 13ہزار سے زائد شہریوں کی کورونا سے بچائو کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ 9لاکھ 17ہزار سے زائد شہریوں نے ویکسین کی پہلی خوراک لے لی ہے تاہم ابھی تک کرونا ویکسین کے ری ایکشن کا کیس سامنے نہیں آیا جبکہ ایل آر ایچ میں کسی کو کوئی مسئلہ کرونا ویکسین سے نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ سائیڈ ایفیکٹ میں تھوڑا سر درد یا بخار ہو سکتا ہے اور یہ اچھا ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ویکسین نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،ویکسین محفوظ ہے اور اس کو ضرور لگانا چاہئے۔

Your Thoughts and Comments