کچھ مصروف سینٹرز میں ویکسین کی کمی دیکھنے میں آئی ،سینٹرز پر ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی جارہی ہے، ڈاکٹر فیصل سلطان

یہ وقتی خلا ہے جو پٴْر ہوجائیگا، ویکسی نیشن جاری رہے گی اور جون کے بعد اضافی کھیپ ملنے پر اس میں خاطر خواہ بہتری آجائے گی، معاون خصوصی

کچھ مصروف سینٹرز میں ویکسین کی کمی دیکھنے میں آئی ،سینٹرز پر ویکسین ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2021ء)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ ملک کے کچھ مصروف سینٹرز میں ویکسین کی کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم ہم ویکسین کی اضافی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 'ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو ویکسین کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں اور اس وقت بھی ملک میں ویکسینز کی تقریباً 20 لاکھ خوراکیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 2 ہزار سے زائد ویکسی نیشن سینٹرز موجود ہیں اور ہر سینٹر میں آنے والوں کی تعداد میں فرق ہے تو ممکن ہے کہ کچھ سینٹرز میں ویکسینز کی کمی واقع ہو اور کچھ مصروف سینٹرز میں یقینا ہوئی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس صورتحال میں ہم تمام صوبائی و مقامی حکام سے رابطے میں ہیں اور وہ بھرپور کوششیں کر رہے ہیں کہ کسی ایک سینٹر میں ویکسین کی کمی ہو تو دوسرے سینٹر سے اسے پورا کیا جاسکے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں ویکسین کی قلت ہے اور کئی جگہ معمولی تاخیر دیکھنے میں آئی ہے، ہم ویکسین کی اضافی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں اور جیسے ہی ہمیں اضافی ویکسین فراہم ہوں گی اس میں 20 جون کے بعد خاطر خواہ بہتری آئے گی، لہٰذا عوام مقامی انتظامیہ اور ویکسی نیشن عملے سے تعاون کریں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ یہ وقتی خلا ہے جو پٴْر ہوجائے گا، ویکسی نیشن جاری رہے گی اور جون کے بعد اضافی کھیپ ملنے پر اس میں خاطر خواہ بہتری آجائے گی۔ انہوںنے کہاکہ ویکسین کی دو خوراکوں کے درمیان 3 سے 4 ہفتے کے وقفے کی تجویز بالکل درست ہے لیکن ویکسین کی دوسری خوراک میں زیادہ وقفہ آنے پر بھی کوئی حرج یا نقصان نہیں اور لوگ دوسری خوراک 6 یا 7 ہفتے کے اضافی وقت کے بعد بھی لگوا سکتے ہیں اور پہلی خوراک کا اثر ضائع نہیں ہوگا۔معاون خصوصی نے عوام سے ویکسین کی موجودگی اور اسے لگوانے کے باجود کورونا کے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) پر باقاعدگی سے عملدرآمد کی اپیل کی۔

Your Thoughts and Comments