بند کریں
صحت صحت کی خبریں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی ،میزبان اضلاع میں پولیووائرس پھیلنے کاخدشہ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/07/2014 - 11:36:26 وقت اشاعت: 09/07/2014 - 18:39:56 وقت اشاعت: 09/07/2014 - 14:27:14 وقت اشاعت: 09/07/2014 - 13:35:49 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 19:43:03 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 18:55:19 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 18:45:33 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 18:18:15 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 18:08:27 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 18:04:49 وقت اشاعت: 08/07/2014 - 18:04:49

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی ،میزبان اضلاع میں پولیووائرس پھیلنے کاخدشہ

پشاور(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 9جولائی 2014ء)پاکستان بھرمیں سب سے زیادہ پولیوسے متاثرہ شمالی وزیرستان ایجنسی سے آبادی کے انخلاء کے نتیجہ میں میزبان اضلاع میں پولیوکے پھیلاؤکے خدشات جنم لے چکے ہیں جن کی روک تھام کیلئے ایف آربنوں،ضلع بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان،کوہاٹ،کرم،ہنگومیں40سے ز ائدمقامات پرپولیوویکسی نیشن کے ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کرکے اب تک نقل مکانی کرنے والے اڑھائی لاکھ بچوں کوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے جاچکے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمرکے81ہزار648بچے،پانچ سے دس سال تک کی عمرکے58ہزار137بچے اوردس سال سے زائدعمرکے71ہزار744بچے شامل ہیں عالمی ادارہ اطفال (یونیسف)کی ترجمان نے والدین پرزوردیاہے کہ گرمی کے موسم میں پولیوکے پھیلاؤکے خطرات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کوپولیوسے بچاؤکے قطرے ضرورپلائیں۔

صحت کے قومی اورعالمی اداروں کے مطابق شمالی وزیرستان ایجنسی میں بچوں کوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلانے کی مہمات کئی سالوں سے معطل ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں پولیوکے پھیلاؤکاباعث بننے والاوائرس وسیع پیمانے پرپایاجارہاہے جس کااندازہ اس امرسے لگایاجاسکتاہے کہ سال رواں کے دوران پاکستان میں مجموعی طورپرپولیوکے90کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں68کیس وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات فاٹامیں پائے گئے اورفاٹاکے ان68پولیوکیسوں میں سب سے زیادہ تعدادشمالی وزیرستان ایجنسی میں پائے گئے جن کی تعداد55ہے اس کے بعدخیبرایجنسی میں6بچے پولیوسے متاثرہوئے جبکہ سال رواں کے دوران جنوبی وزیرستان میں پولیوکے مصدقہ کیسزکی تعداد5رہی صحت کے ان عالمی اداروں کے مطابق موسم گرماکی شدت کے ساتھ ساتھ پولیو وائرس کے پھیلاؤمیں بھی اضافہ ہوتاہے اس لئے اس وقت جب شمالی وزیرستان ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیزمیں3لاکھ سے زائدبچے شامل ہیں جن علاقوں میں یہ آئی ڈی پیزمنتقل ہوں گے وہاں پولیوکے وائرس کے پھیلاؤکے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت شمالی وزیرستان ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کوشمالی وزیرستان سے انخلاء کے وقت مختلف علاقوں میں داخلہ کے مقامات پرپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے جارہے ہیں اس مقصدکیلئے ایف آربنوں میں میرزلی چیک پوسٹ،سالگزئی چیک،سردی خیل چیک پوسٹ،جانی خیل فورٹ چیک پوسٹ،روچاچیک پوسٹ اورسیدگئی چیک پوسٹ پرپولیوویکسینشن کیلئے ٹرانزٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں جبکہ ضلع بنوں میں یہ ٹرانزٹ پوائنٹس ممش خیل،ہنجال،غریدشیراحمد،فاطمہ خیل،بزن خیل،ڈومیل،اسپرگہ،غوری والہ،ہوید،ماماخیل،کینجرپل،میرشیرخان قلعہ،جانی خیل اڈہ،ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں چونڈہ چیک پوسٹ،ضلع ٹانک میں تراکی،ستانہ گل چیک پوسٹ،ضلع لکی مروت گاندی،پینرو،زندی فلک شیر،تختی خیل اڈہ،تجوڑی اڈہ،نذری اڈہ،ولئی شگئی اوردرحق عزیزچیک پوسٹ کے مقامات پرپولیوویکسینیشن ٹرانزٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں جہاں سے گذرنے والے شمالی وزیرستان ایجنسی کے آئی ڈی پیزکوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے جارہے ہیں اس کے ساتھ افغانستان نقل مکانی کرنے کے بعدپاکستان واپس آنے والے شمالی وزیرستان ایجنسی کے آئی ڈی پیزکوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلانے کیلئے علی زئی میں ٹرانزٹ پوائنٹ بنایاگیاہے جبکہ اس کے ساتھ کوہاٹ ٹنل،ہنگومیں پھاٹک،ڈالان،بلندخیل اورتورپل چیک پوسٹ کے مقامات پریہ ٹرانزٹ پوائنٹ بنائے گئے ہیں عالمی ادارہ اطفال(یونیسف)کی ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں میں اب تک2لاکھ40ہزار85افرادکوان ٹرانزٹ پوائنٹس پرپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے جاچکے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمربچوں کی تعداد81ہزار6سو48ہے جبکہ پانچ سال سے دس سال تک کی عمرکے58ہزار137بچوں کوپولیوکے قطرے پلائے گئے ہیں اورشمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں میں10سال سے زائدعمرکے جن بچوں کوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے گئے ہیں ان کی تعداد71ہزار7سو44ہے اورپولیوویکسینیشن کایہ عمل بدستورجاری ہے تاکہ نہ صرف ان آئی ڈی پیزبچوں کوپولیوسے محفوظ رکھاجاسکے بلکہ ان بچوں کے ذریعہ آنے والے پولیووائرس سے بنوں،ٹانک،ڈیرہ اسماعیل خان ،کوہاٹ،لکی مروت،کرک اوران دیگراضلاع کے بچوں کوبھی محفوظ رکھاجاسکے ترجمان کے مطابق اس ضمن میںآ ئی ڈی پیزاورخصوصاوالدین کاتعاون قابل قدرہے اورتوقع ہے کہ مقامی آبادی یاآئی ڈی پیزاورخصوصاوالدین کاتعاون قابل قدرہے اورتوقع ہے کہ مقامی آبادی یاآئی ڈی پیزکے میزبان خاندان اورآبادیاں بھی اپنے بچوں کوپولیوسے بچانے کیلئے انہیں ویکسینشن کے قطرے پلائیں گے۔

08/07/2014 - 18:55:19 :وقت اشاعت