بند کریں
صحت صحت کی خبریںخیبرپختونخوا میں ساڑھے 6 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/07/2014 - 13:17:09 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 20:56:25 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 19:52:55 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 18:48:21 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 18:19:32 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 16:02:14 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 15:45:57 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 15:45:57 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 15:40:55 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 15:24:37 وقت اشاعت: 10/07/2014 - 13:52:57

خیبرپختونخوا میں ساڑھے 6 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا

بنوں(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 10جولائی 2014ء) فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(ایف ڈی ایم اے) کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کے تازہ اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق اب تک لگ بھگ آٹھ لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ایف ڈی ایم اے کے مطابق حکام کی جانب سے اب تک رجسٹر کیے گئے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد سات لاکھ 87 ہزار 883 ہے جبکہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی کل تعداد 62 ہزار 493 ہے۔

ادارے کے مطابق ان میں دو لاکھ گیارہ ہزار 549 مرد، دو لاکھ 36 ہزار 883 خواتین جبکہ بچوں کی کل تعداد تین لاکھ 39 ہزار 456 ہے۔حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام(ای پی آئی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم خٹک نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے بچوں میں پولیو کا مرض پھیلنے کا شدید خطرہ ہے کیونکہ 2012 سے وہاں پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے اور اب جبکہ یہ بچے نقل مکانی کر رہے ہیں تو اس سے مقامی آبادی میں بھی مرض پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ڈاکٹر رحیم کے مطابق ان افراد کے نقل مکانی کرنے کے بعد اب ہمیں خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں چھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد مقامی اور غیر مقامی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان ہمارے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ 2014 میں اب رپورٹ ہونے والے پولیو کے 88 کیسز میں سے 60 کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے کیونکہ یہ لوگ نقل کر چکے ہیں تو ہمارے پاس انہیں حفاظتی قطرے پلانے کا نادر موقع ہے۔

ڈاکٹر رحیم کے مطابق زیادہ تر افراد نقل مکانی کر کے ابتدائی طور پر بنوں میں قیام کر رہے ہیں جس کے بعد وہ دیگر اضلاع کی جانب سفر کرتے ہیں اور اب تمام یونین کونسلز میں صحت کا انصاف 2 نامی پروگرام کے تحت قطرے پلائے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ہنگو، کرک، ٹانک اور کوہاٹ میں بھی اسی مہم کے تحت پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب تک اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ ان علاقوں میں کن کن مقامی بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں لہٰذا حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نقل مکانی کرنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ مقامی بچوں کو بھی قطرے پلانے کا فیصلہ کیا ہے جن کی کل تعداد چھ لاکھ ساٹھ ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔ڈاکٹر رحیم کے مطابق محکمہ صحت ماہِ رمضان میں پانچ مراحل میں پولیو کے قطرے پلانے کا عمل مکمل کرے گی جن میں سے دو مکمل ہو چکے ہیں جبکہ تیسرے مرحلے کا آغاز 12 جولائی سے ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ عیدالفطر کے بعد ان شہروں میں بچوں کو دیگر بیماریوں سے بچاوٴ کی مہم بھی چلائی جائے گی۔

10/07/2014 - 16:02:14 :وقت اشاعت