بند کریں
صحت صحت کی خبریںمویشی پالنے والوں،مویشیوں کے بیوپاریوں،قصابوں اور ڈاکٹروں کو کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/07/2014 - 20:11:55 وقت اشاعت: 17/07/2014 - 14:23:42 وقت اشاعت: 17/07/2014 - 13:17:12 وقت اشاعت: 17/07/2014 - 13:17:12 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 18:01:59 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 17:32:44 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 15:46:39 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 14:56:50 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 13:57:12 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 13:22:41 وقت اشاعت: 16/07/2014 - 13:16:41

مویشی پالنے والوں،مویشیوں کے بیوپاریوں،قصابوں اور ڈاکٹروں کو کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات کی ہدایت

لاہور ( اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 16جولائی 2014ء) مشیر وزیراعلی پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے کانگو وائرس سے بچاؤ کے لئے مویشی پالنے والوں، مویشیوں کے بیوپاریوں،قصابوں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کو حفاظتی اقدامات کے بارے میں ضروری آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ کانگو بخار کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں۔

انہوں نے یہ بات بدھ کے روز یہاں صوبے میں کانگو وائرس کی صورتحال اور موسم بہار میں بھیڑ، بکریوں اور دیگر پالتو جانورں میں چیچڑوں کی افزائش اور عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی بڑے پیمانے پر نقل وحمل کو مد نظر رکھتے ہوئے کانگو وائرس کے ممکنہ خدشہ کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کے سلسلہ میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز، ایڈیشنل سیکرٹری صحت( ٹیکنیکل) ڈاکٹر سلمان شاہد، ڈین آئی پی ایچ پروفیسر معاذ احمد،چیف بیکٹریالوجسٹ پنجاب ڈاکٹر زرفشاں طاہر، عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر جمشید، ڈائریکٹر ہیلتھ(CDC) ڈاکٹر احمد عفیفی، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اپیڈیمک ایمر جنسی اینڈ رسپانس ڈاکٹر ظفر اسلام اور محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال میانوالی، چکوال، راولپنڈی، جھنگ اور ملتان سے کل 13 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ لائیوسٹاک کے افسران نے بتایا کہ کانگو وائرس جانوروں کی جلد پر موجود چیچڑوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور کھلے میدانوں،چراگاہوں والے علاقے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی بڑے پیمانے پر نقل وحمل کے علاوہ مویشی منڈی میں لائے جانے والے ہزاروں جانوروں کی وجہ سے بھی یہ مرض پھیلنے کے امکانات رہتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر اسلام نے بتایا کہ کانگو وائرس کی علامات ڈینگی سے مماثلت رکھتی ہیں اور کانگو بخار میں بھی ہیمریجک فیور ہوتا ہے تاہم ڈینگی انسانوں سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوتا جبکہ کانگو وائرس ایک متاثرہ شخص کے خون اور دیگررطوبتوں کے لگنے سے تندرست آدمی میں منتقل ہو جاتا ہے۔خواجہ سلمان رفیق نے ہدایت کہ عیدالاضحی سے قبل متاثرہ اضلاع میں خصوصی طور پر قصابوں، مویشی پالنے والے افراد اور مویشی منڈیوں کے بیوپاریوں کے لئے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے آگاہی سیمینارزمنعقد کرائے جائیں اورڈاکٹروں کو کانگو وائرس کے مریض کو ہینڈل کرنے کے سلسلہ میں ضروری تربیت کا فوری اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے ہسپتالوں میں حفاظتی کٹس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

16/07/2014 - 17:32:44 :وقت اشاعت