بند کریں
صحت صحت کی خبریںجماعت اسلامی اور اسلامی جمہوری اتحاد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز کو سختی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/08/2014 - 20:29:53 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 17:16:33 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 16:34:34 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 15:57:55 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 12:31:39 وقت اشاعت: 03/08/2014 - 20:00:57 وقت اشاعت: 03/08/2014 - 16:26:52 وقت اشاعت: 03/08/2014 - 15:30:07 وقت اشاعت: 03/08/2014 - 15:28:49 وقت اشاعت: 03/08/2014 - 13:36:25 وقت اشاعت: 02/08/2014 - 22:09:10

جماعت اسلامی اور اسلامی جمہوری اتحاد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز کو سختی سے رد کردیا، خیبر پختونخوا اسمبلی صوبے کے عوام کی امانت ہے ،عوام نے صوبائی اسمبلی توڑنے کی تجویز کو پسند نہیں کیا ،پی ٹی آئی اگر صوبائی حکومت چھوڑنا چاہتی ہے تو یہ اسکا حق ہے ،پی ٹی آئی کو صوبائی حکومت توڑنے کے فیصلے سے قبل بھی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا،امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی اتحاد کے سربراہ اور صوبائی وزیر صحت شاہرام خان ترکئی طویل ملاقات کے بعد متفقہ فیصلہ

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3اگست۔2014ء)خیبر پختونخوا حکومت میں شامل جماعت اسلامی اور اسلامی جمہوری اتحاد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز کو سختی سے رد کردی ہے ، خیبر پختونخوا اسمبلی صوبے کے عوام کی امانت ہے اور صوبے کے عوام نے صوبائی اسمبلی توڑنے کی تجویز کو پسند نہیں کیا ،پی ٹی آئی اگر صوبائی حکومت چھوڑنا چاہتی ہے تو یہ اسکا حق ہے اگر چہ اصولی طور پر پی ٹی آئی کو صوبائی حکومت توڑنے کے فیصلے سے قبل بھی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا تاہم اکثریتی جماعت ہونے کے ناطے اگر پی ٹی آئی صوبے کی حکومت توڑتی ہے تو ہم ان کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں ،لیکن صوبائی اسمبلی کی توڑنے کی جہاں تک بات ہے جماعت اسلامی اور عوامی اتحاد اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق اور عوامی اتحاد کے سربراہ اور صوبائی وزیر صحت شاہرام خان ترکئی نے جماعت اسلامی کے صوبائی دفتر المرکز الاسلامی میں ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے قائدین نے مشترکہ میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتیں موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطہ رکھیں گی ،مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا کہ جہاں تک پی ٹی آئی کی آزادی مارچ کا تعلق ہے تو یہ انکے پارٹی کا فیصلہ ہے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں ویسے بھی 14اگست خوشی کا دن ہے اور نواز شریف کو بھی چاہئے کہ وہ فراخ دلی کا مظاہرہ کریں اور پی ٹی آئی کو اپنا مظاہرہ کرنے دیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے جماعت اسلامی یا عوامی جمہوری اتحاد کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ہمیں میڈیا کے ذرئعے معلوم ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ صرف حکومتی حد تک اتحادی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ ہمیں اس حوالے سے اعتماد میں لیتے تاہم جہاں تک حکومت یا صوبائی اسمبلی توڑنے کی بات ہے تو اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی ،پرویز خٹک اور اعجاز چوہدری پر مشتمل وفد کو انہوں نے پیر 4 اگست کو اسلام آباد میں ملاقات کا وقت دیا ہے اب دیکھیں گے وہ کیا کہتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صوبائی اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد کیا حکمت عملی اپنائینگی،تو سراج الحق نے کہا کہ جب وہ موقعہ آئیگا تو اس وقت دیکھیں گے ،ایک اور سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ صوبے میں ایسی کوئی سورتحال نہیں کہ جس کی وجہ سے صوبائی اسمبلی توڑدی جائے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی جمہوری اتحاد کے سربراہ شاہرام خان ترکئی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے جو کچھ میڈیا کے سامنے رکھا ہے وہ عوامی جمہوری اتحاد کا بھی مئوقف ہے اور یہی مئوقف بریفنگ سے قبل ہونے والی میٹنگ میں طے ہوا ہے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے حوالے عوامی جمہوری اتحاد کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا قبل ازیں اجلاس میں دونوں جماعتوں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں جمہوری ادارے چلتے رہنے چاہئے اور جمہوریت کسی بھی صورت ڈی ریل نہیں ہونی چاہئے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ملک میں انتخابی عمل صاف اور شفاف ہونا چاہئے اور ملک میں ایک آزاد اور خواد مختار اور مئوثر الیکشن کمیشن ہونا چاہئے ۔

03/08/2014 - 20:00:57 :وقت اشاعت