بند کریں
صحت صحت کی خبریںایبولاوائرس کا خظرہ،تین افریقی ممالک کیلئے حج اور عمرے کے ویزوں پر پابندی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/08/2014 - 14:03:44 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 13:50:13 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 13:13:37 وقت اشاعت: 05/08/2014 - 13:01:01 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 22:26:20 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 20:29:53 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 17:16:33 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 16:34:34 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 15:57:55 وقت اشاعت: 04/08/2014 - 12:31:39 وقت اشاعت: 03/08/2014 - 20:00:57

ایبولاوائرس کا خظرہ،تین افریقی ممالک کیلئے حج اور عمرے کے ویزوں پر پابندی

جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔4اگست 2014ء)سعودی عرب کی وزارت صحت نے تین افریقی ممالک سیرالیون ،گنی اور لائبیریا میں ای بولا وائرس کے پھیلنے کے بعد ان کے شہریوں کو عمرے اور حج کے لیے ویزوں کے اجرا پر پابندی عاید کردی ۔وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر خالد مرغیلانی نے بتایا کہ ان کی وزارت اس سلسلے میں حج اور خارجہ امور کی وزارتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر ای بولا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملک کے تمام داخلی راستوں پر متعین حکام کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور ای بولا کی تشخیص اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وزارت کے اہلکاروں کو ضروری تربیت دے دی گئی ہے۔وزارت حج کے انڈر سیکریٹری برائے حج امور ڈاکٹر حسین شریف نے کہا کہ حج کے موقع پر صحت عامہ اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام پیشگی ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

سعودی عرب کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان خالد الخیبری نے بتایا کہ سعودی مملکت اور ان تینوں افریقی ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں نہیں چلتی ہیں اور صرف حج کے موسم میں ان ممالک سے براہ راست پروازیں آتی ہیں۔واضح رہے کہ حال ہی میں تین افریقی ممالک سیرالیون، لائبیریا اور گنی میں ای بولا کا مہلک وائرس پھیلا ہے اور اس کے نتیجے میں جنوری سے اب تک سات سو تیس افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

ای بولا وائرس سے متاثرہ شخص کو سردی لگتی ہے،اعصاب اور سر میں شدید درد ہوتا ہے اور گلے اور سینے میں جلن ہوتی ہے،مریض کو نزلہ اور زکام کے ساتھ بخار ہوجاتا ہے اور اس کا معدہ اور مثانہ متاثر ہوتا ہے جس کے بعد اس کا خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔اس مرحلے پر پہنچنے والے مریض بالعموم موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اب تک اس مہلک وبائی مرض کی کوئی دوا یا ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے۔اس سال اب تک تیرہ سو افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔یہ مہلک وائرس 1976 میں پہلی مرتبہ پھیلا تھا اور اس سے متاثر ہونے والے دوتہائی مریض جان کی بازی ہار گئے تھے لیکن اب اس کا شکار مریضوں کی شرح اموات کم ہو کر پچپن فی صد رہ گئی ہے۔

04/08/2014 - 20:29:53 :وقت اشاعت