مرگی کے علاج کیلئے معالجین کو صحیح طریقہ کار سے آگاہی کرانا بہت ضروری ہی: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2021ء)ایپی لیپسی فائونڈیشن پاکستان کی صدرڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ مرگی ایک قابل علاج مرض ہے، جس کے مکمل خاتمے کیلئے ادویات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مختلف قسم کی سرجری بھی کی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ کچھ ایسی ڈیوائسز (Devices) بھی ہیں جو کہ مرگی کے دوروں کو روکنے میں کامیاب ثابت ہوتی ہیں جن کو پاکستان لانے کی کوششیں ہورہی ہیں مگر جو ڈیوائسزپہلے سے دستیاب ہیں ان کے بارے میں بھی آگاہی موجود نہیں ہے۔

وہ ہلٹن فارما کی میزبانی میں ’’مرگی کے مناسب علاج کی تربیت‘‘ کیلئے اسکردو میں منعقدہ ورکشاپ میں شریک معالجین سے خطاب کررہی تھیں۔یہ ورکشاپ ملک کی معروف نیورولوجسٹ اور ایپی لیپسی ایکسپرٹ آغاخان یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور سائوتھ سٹی اسپتال ، کراچی کے ڈاکٹر راشد جمعہ کی زیرنگرانی منعقد کی جارہی ہے جو کہ اس کے کورس ڈائریکٹر بھی ہیں۔

(جاری ہے)

ورکشاپ کے شرکاء سے ڈاکٹر راشد جمعہ، ڈاکٹر میمونہ، ڈاکٹر ٹیپوسلطان، ڈاکٹر محمد واسع اور ڈاکٹر امجد نے بھی خطاب کیا۔’’کی فن پینری مرگی منی فیلوشپ ایسوسی ایشن آف ونسٹن ، امریکہ‘‘ کے اس کورس کو مقامی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا گیا تاکہ مرگی کے معالجین کی مدد کی جاسکے اور مریضوں کا درست سائنسی طریقے اور سمجھ بوجھ کے ساتھ علاج کو ممکن بنایا جاسکے۔

ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ اس ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد معالجین کی تربیت کے علاوہ ملک میں مرگی کے مرض کی دستیاب ادویات کے درست اور جائز استعمال کی تربیت دینا بھی ہے ۔ اس ورکشاپ میں اس مرض کی تشخیص کے لئے ای جی ٹیسٹ سے متعلق معلومات اور تربیت بھی دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرگی ایک ایسی بیماری ہے جس میں تشنج کی طرح دورے پڑنے لگتے ہیں ۔

مریض بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس پر کسی جِن یا آسیب کا سایہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں میں خوف کا عالم پیدا ہو جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے ’’ایپی لیپسی فائونڈیشن پاکستان‘‘ کوشاں ہے اور لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے وقتاًً فوقتاًً آگاہی مہم کا انعقاد کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف عام لوگوں میں ہی مرگی کی بیماری کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کا نہیں ہے بلکہ معالجین / ڈاکٹرز کو بھی اس بیماری کے علاج کے صحیح طریقہ کار سے آگاہی کرانی بہت ضروری ہے۔

پاکستان میں پہلے ہی نیورولوجسٹ کا فقدان ہے اور 1.3 ملین شہریوں کو علاج کے لئے صرف ایک نیورولوجسٹ دستیاب ہے اس لئے اس ورکشاپ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ہمیں نان نیورولوجسٹ معالج کو خصوصی طور پر اس قابل علاج مرض کی تشخیص کرنا، منیجمنٹ کرنا، مرگی کی کس قسم کیلئے کون سی دوا تجویز کی جانی چاہئے جو کہ مریض کیلئے موثر ثابت ہواور اس کو کب سرجری کیلئے بھیجا جائے یا اس کو کب ادویات پر رکھنا ہے، ان ساری چیزوں کی مکمل تربیت کیلئے اس ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments