افغانستان میں طالبان پولیو ویکسین کی گھر گھر مہم چلانے پر متفق

آٹھ نومبر کو پولیو ویکسینیشن مہم شروع ہوگی جس کا مقصد ملک کے تمام بچوں کو قطرے پلانا ہے،بیان

افغانستان میں طالبان پولیو ویکسین کی گھر گھر مہم چلانے پر متفق
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اکتوبر2021ء)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)اور یونائیٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ (یونیسیف)نے کہا ہے کہ طالبان کی حکومت نے پولیو ویکسین کی مہم چلانے پر اتفاق کر لیا اور اگلے ماہ افغانستان میں رضاکار گھر گھر جاکر پولیو مہم شروع کریں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دونوں عالمی اداروں نے بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کی جانب سے طالبان قیادت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جاتا ہے کہ افغانستان بھر میں گھر گھر جاکر پولیو کی ویکسین پلانے کے مہم بحال کرنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں رواں برس پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ ملک میں پولیو کے دوبارہ سر اٹھانے سے محفوظ رکھنے اور بیرونی دنیا میں وائرس کی منتقلی سے بچانے کے لیے پولیو ویکسنیشن مہم کا دوبارہ آغاز اہمیت کا حامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تین ماہ بعد 8 نومبر کو پولیو ویکسینیشن مہم شروع ہوگی جس کا مقصد ملک کے تمام بچوں کو قطرے پلانا ہے، جس میں دور دراز علاقوں کے 30 لاکھ بچے بھی شامل ہیں جو اس سے قبل رسائی نہ ہونے کے باعث رہ گئے تھے۔افغانستان میں یونیسیف کے نمائندے ہیروے لوڈوویک نے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ہمیں پولیو کے خاتمے کے لیے ایک زبردست مہم چلانے کی اجازت دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے افغانستان بھر میں ہر گھر میں ہر بچے تک ویکسین پہنچائی جائے اور ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دسمبر میں پاکستان میں پولیو ویکسین کی دوسری مہم رابطے کے تحت چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔افغانستان میں مغربی طاقتوں کی حمایت سے تشکیل پانے والی سابق حکومت نے اگست میں خاتمے سے قبل جو اعداد و شمار اکٹھے کیے تھے اس کے مطابق 2021 میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ 2020 میں 56 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

پولیو کا جب تک مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا ہے اس وقت تک تمام ممالک میں صحت کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں صحت کا نظام ناقص ہے کیونکہ وہاں اس مرض کی منتقلی کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔اقوام متحدہ کے اداروں نے بیان میں کہا کہ جب سے دو ماہ قبل طالبان نے حکومت سنبھالی ہے ملک میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ان کی قیادت سے مسلسل مذاکرات کیے جا رہے تھے۔واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اب تک پولیو کا مرض موجود ہے، جو بچوں کو زندگی بھرکے لیے معذور بنا دیتا ہے اور پھیلنے والی بیماری ہے۔دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں دہائیوں بعد ہوا تھا لیکن پاکستان اور افغانستان تاحال اس پر قابوپانے میں ناکام ہیں۔

Your Thoughts and Comments