بند کریں
صحت صحت کی خبریںسول اسپتال کراچی کے پیرامیڈیکل ملازمین کے مطالبات منظور ہونے پر نیاز حسین بھٹو نے بھوک ہڑتال ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/08/2014 - 13:33:50 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 13:21:41 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 13:21:41 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 12:57:00 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 12:56:52 وقت اشاعت: 27/08/2014 - 21:27:14 وقت اشاعت: 27/08/2014 - 19:46:36 وقت اشاعت: 27/08/2014 - 19:44:12 وقت اشاعت: 27/08/2014 - 19:39:43 وقت اشاعت: 27/08/2014 - 17:15:58 وقت اشاعت: 27/08/2014 - 16:22:48

سول اسپتال کراچی کے پیرامیڈیکل ملازمین کے مطالبات منظور ہونے پر نیاز حسین بھٹو نے بھوک ہڑتال ختم ہونے کی ہدایت جاری کردی

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27اگست۔2014ء)پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر نیا ز حسین بھٹو بدھ کو تمام مرکزی عہدیدارو ں کے ساتھ ہیلتھ سیکرٹیری اقبال حسین درانی کے ساتھ میٹنگ میں پیرا میڈیکل ملازمین کے منظور شدہ مطالبات جوکہ ست کاروائی کا شکار تھے بدھ کو سکیرٹیری ہیلتھ اقبال حسین درانی کے ساتھ میٹنگ کرکے منظور شدہ مطالبات کی پیش رفت کی سیکرٹیری صحت نے موقع پر ہدایت کی اور تمام منظور شدہ مطالبات مکمل ہونے تک کی یقین دہانی کرائی اسی موقع پر سول ہسپتال کے پیرا میڈیکل ملازمین کے مطالبات بھی منظور کیئے ۔

سول ہسپتال کراچی کے پیرمیڈیکل ملازمین کے مطالبات منظور ہونے پر مرکزی صدر نیاز حسین بھٹو نے بھوک ہرتال ختم ہونے کی ہدایت جاری کردی آپ اور آپ سے پہلے سابقہ سیکرٹیری صحت انعام اللہ دھاریجو صا حب نے کمال مہربانی کرتے ہوئے پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے کے پیش کردہ 20 مطالبات میں سے 17 مطالبات منظور کرتے ہوئے منٹس آف میٹنگ جاری فرمادیئے ہیں۔

مسائل کو حل اور ان پر عمل درآمد گی کیلئے دو کمیٹیاں ایک ایڈیشنل سیکرٹیری ایڈمن اور دوسری ڈپٹی سیکرٹیری کی سربراہی میں تشکیل فر مادی ہیں ۔ ڈپٹی سیکرٹیری کی سر براہی میں تشکیل کردہ کمیٹی نے ایسوسی ایشن کے نمائدوں سے کئی بار اپنا قیمتی وقت نکال کر ہفتہ کے روز سیکرٹیریٹ بند ہونے کے باوجود اپنے تمام اسٹاف کو گھروں سے بلاکر میٹنگ کرکے مسائل اور منظور شدہ مطالبات پر پیش رفت کیلئے کوششیں فرمائی ہیں ۔

افسوس کہ ایڈیشنل سیکرٹیری ایڈمن کی سر براہی میں پنجاب پیڑن پر سروس اسٹرکچر 400 سے زیادہ مختلف کیڈرز کو 35-30 کیڈرز میں مرج کرنے کیلئے تشکیل دی گئی تھی اس کی دسمبر 2013 سے تا حال ایسوسی ایشن کے نمائدوں سے ایک بھی میٹنگ نہ ہوئی اور نہ کوئی آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود ہمارے منظور شدہ مطالبے پر کوئی پیش رفت ہوئی ۔ ہماری درخواست ہے کہ ایسوسی ایشن کے منظور شدہ مطالبات جس کے منٹس جاری ہوچکے ہیں اس کے ہر پوائنٹ پر ترجیی بنیادوں پر عمل درآمد گی کو یقینی بنانے کیلئے احکامات جاری فرمائے جائیں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے جاری کردہ 04 دسمبر 2013 کو منٹس آف میٹنگ کی فوٹو کاپیاں اس درخواست منسلک کرتے ہیں ۔

دیگر مسائل و مطالبات مندرجہ ذیل ہیں : 1۔ منٹس آف میٹنگ میں نمبر 16 پر ہمارے مطالبے کی غلط تشریح کی گئی ہے ۔ ہماری درخواست ہے کہ مطالبے کے مطابق اس میں درستگی فر مائی جائے ۔2 ۔ منٹس آف میٹنگ میں نمبر 10 پر ہمارے مطالبے کو سابقہ سیکرٹیری نے اوور رول فر مادیا تھا آپ سے درخواست ہے اس پر ہمدردی سے غور فرماکر پیرا میڈیکل ملازم کے خلاف ہونے والی ہر ایک انکوائری کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی میں صدر یا جنرل سیکرٹیری کو ممبر کا درجہ دیا جائے ۔

سابقہ سیکرٹیری نے محترم عاشق حسین میمن صاحب (مرحوم) نے ایسوسی ایشن کی درخواست پر ہمارے عہدیداروں کو ابزرور کی حیثیت سے انکوائری میں شرکت کرنے کے احکامات صادر فرمائے تھے اور حد یہ کہ مرحوم نے اپنے دفتر میں ایسوسی ایشن کے صوبائی جنرل سیکرٹیری کے خلاف پرسنل ہیئرنگ کے دن ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر کو ابزرور کی حیثیت سے طلب فرمایا تھا کہ انصاف ہوتا نظر بھی آئے اور عہدیدار خود بھی دیکھے ۔

جناب اعلیٰ افسوس کہ واضع ہدایت کے باوجود ماتحت افسران اس پر عمل نہیں کرتے ۔ ہماری درخواست ہے کہ افسران کے ظلم وذیاتی اور ناانصافی سے بچانے اور پیرامیڈیکل ملازم کو حقیقی انصاف دلانے کیلئے ایسوسی ایشن کے نمائدے کو انکوائری کمیٹی میں ممبر کی حیثیت دینے کے احکامات صادر فرماکر چھوٹے ملازمین کو انصاف دلانے میں کردار ادا فرمائیں ۔

جناب ظلم و ذیاتی کی ایک مثال آپکی خدمت میں پیش کرتے ہیں ویکسینٹر و یلفیر ایسوسی ایشن ضلع لاڑکانہ کے ضلعی جنرل سیکرٹیری امتیاز علی ابڑو گاوی ویکسینٹر کو اس لیئے نوکری سے نکالا گیا کہ اس نے اپنے ویکسینٹرز کے حقوق اور اپنے ساتھیوں گاوی ویکسینٹرز کیلئے قانونی جدوجہد کی ۔جبکہ یہ شخص اپنی بارہ سالہ سروس میں نہ کبھی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا اور نہ کبھی فیلڈ ورک سے دور اور نہ کبھی اس کے THO نے کوئی شکایت کی اور نہ کبھی تعلقہ فوکل پرسن نے ۔

صرف اس لیئے اس کو سزا دی کے کہ یہ ضلع کے جنر ل سیکرٹیری تھے اور ملازمین کے حقوق کیلئے DHO صاحب کے دفتر میں مسائل کو لیکر جاتے تھے ۔ ماتحت افسران خود جائز مسائل حل نہیں کرتے اگر کوئی عہدیدار مسائل کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کی ایکٹوٹیزز کو غیر قانونی قرار دیکر نوکری سے نکالا جاتا ہے ہماری درخواست کہ کمیٹی میں ممبر شپ کے ساتھ ساتھ امتیاز علی ابڑو کو گاوی ویکسینٹر کو بحال کیا جائے 2004 کے منٹس آف میٹنگ اور سابقہ سیکرٹیری صحت کا جاری کردہ لیٹر منسلک کرتے ہیں۔

3 ۔ جناب حج مشین ڈیوٹی پر ہر سال دیگر ملازمین کے ساتھ پیر امیڈیکل ملازمین کو سعودی عرب ڈیوٹی پر بھیجا جاتا ہے اس سال کو چھوڑ کر ماضی میں اپنے اپنے لوگوں میں ڈیوٹی سخاوت سے بانٹی گئی حد یہ ہے کہ تمام پیرامیڈیکل کی سیٹیں ایک ہی ہسپتال یا ایک ہی ضلع میں بانٹی گئی اور پسندیدہ اور سفارش ملازم کو اس ڈیوٹی پر بار بار بھیجا گیا ۔ ہماری درخواست ہے کہ تمام اضلاع اور ہسپتالوں کے ملازمین کو یہ حق دینے کیلئے ایسوسی ایشن ہذٰا کیلئے مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے جناب اس سے یہ ہوگا کہ پیرا میڈیکل ملازمین کے ساتھ ذیاتی نہیں ہوگی اور ان کے اپنے نمائدے حقدار ملازم کی درست نشاندہی کرینگے۔

4۔ منٹس آف میٹنگ کے نمبر 14 پر ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ حاضر سروس ملازمین کے بچوں کو نوکریوں میں کوٹہ دیا جائے ۔زبانی 25% کی مہربانی فرمانے کی آفر کی گئی تھی لیکن ہمارا مطالبہ33% تھا آپ سے درخواست ہے کہ میڈیکل ملازمین کے بچوں کیلئے 33% نوکریوں میں کوٹہ مقرر کرکے ملازمین کے ساتھ انصاف فرمائیں اور دعائیں حاصل کریں ۔5 ۔ منٹس آف نمبر 19 پر گاوی ویکسینٹرز کو مستقل کرنے کیلئے جناب نے فالواپ کا حکم صادر فرمایا تھا اور آپ کے تعاون اور ہمدردانہ کردار کی وجہ سے ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ اور حیدرآباد سرکٹ بینچ نے تین اور دو ماہ کے اندر ان کو مستقل کرنے کے آرڈر جاری فرمائے ہیں ۔

ہماری درخواست ہے کہ وقت مقرر کے اندر ان غریب ملازمین کو مستقل کیا جائے اور نوٹیفکیشن جاری فرمائیں۔6 ۔ جناب سندھ کی کسی بھی ٹیچنگ اور جنرل ہسپتال میں سے کسی ایک میں بھی پروفیسر ایم ایس نہیں ہے صرف کراچی سول ہسپتال میں ایک پروفیسر کو پانچ سال سے ہسپتال پر مسلط کیا گیا ہے جبکہ ہیلتھ ڈپاڑٹمنٹ میں اللہ کا شکر ہے کہ کئی 20 گریڈ کے ایماندار محنتی اور باصلاحیت سینئر ڈاکٹرز موجود ہیں جو کہ محکمہ صحت کے ماتحت ہیں ایک پروفیسر جس کا کام تعلیم دینا ہے اس کو ایم ایس بنانے سے یہ صاحب نہ پراپر تعلیم دے رہا ہے اور نہ ہی اپنا وارڈ جو اس کو سول ہسپتال میں دیا گیا ہے ۔

درخواست ہے کہ ہسپتال مریضوں اور ملازمین کے مفاد میں کسی اہل اور ایماندار ڈاکٹر کو ایم ایس سول ہسپتال مقرر کیا جائے۔

27/08/2014 - 21:27:14 :وقت اشاعت