بند کریں
صحت صحت کی خبریں پاکستان میں ہڈیوں سے بھربھرے پن کے مریضوں کی تعداد 1 کروڑ ہے، ڈاکٹر لال محمد کاکڑ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/08/2014 - 21:37:05 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 21:06:44 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 20:54:28 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 20:52:28 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 19:56:19 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 19:07:16 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 18:27:41 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 17:47:32 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 17:05:31 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 17:05:30 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 16:26:52

پاکستان میں ہڈیوں سے بھربھرے پن کے مریضوں کی تعداد 1 کروڑ ہے، ڈاکٹر لال محمد کاکڑ

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28اگست۔2014ء) بلوچستان کے معروف آرتھو پیڈک سرجن صدر پاکستان آرتھو پیڈک سوسائٹی بلوچستان چیپٹر ڈاکٹر لال محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ہڈیوں سے بھربھرے پن (اوسٹو پورس) کے مریضوں کی تعداد 1 کروڑ ہے جن میں سے 80 فیصد خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز گریژن اکیڈمی اکیڈمی میں طلباء و طالبات کو ہڈیوں کے بھربھرے پن کے حوالے سے لیکچر کے دوران کیا اس موقع پر گریژن اکیڈمی کی پرنسپل عظمیٰ خالد بھی موجود تھیں ڈاکٹر لال محمد کاکڑ نے کہاکہ ہڈیوں میں بھربھرے پن کی بیماری خصوصاً خواتین میں کیلیشیم وٹامن ڈی اور خوراک کا کم استعمال کرنے سمیت دھوپ میں نہ بیٹھنے کی وجہ سے ہوتا ہے اسی طرح مردوں میں یہ بیماری سگریٹ اور شراب نوشی سمیت نمک کے زیادہ استعمال سے پھیلتی ہے اس کے علاوہ شوگر اور گردوں کے مریض اس بیماری کا بہت جلد شکار ہوتے ہیں اس لئے اس بیماری سے بچنے کیلئے کیلیشیئم ڈیری پروڈکٹ زیادہ استعمال کرنی چاہئیں اور وٹامن کے حصول کیلئے دھوپ میں بیٹھنے کیساتھ ساتھ ورزش اور واک کو اپنا روز کا معمول بنانا چاہیے انہوں نے بتایا کہ (اوسٹو پورس) ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بیماری 18 سے 25 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں میں زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جس کی بنیادی وجہ کیلیشیئم اور وٹامن ڈی کی کمی ہے کیونکہ بچے اور بچیاں صبح ناشتے کئے بغیر سکول جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بیماری ان پر بہت جلد اثر انداز ہوتی ہے اس لئے بچوں اور بچیوں کو صبح ناشتے میں انڈا ضرور دینا چاہیے ناشتے کے بغیر انہیں سکول جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اگر بچیوں کو شکایت ہے تو انہیں ماہر گائنالوجسٹ سے رابطہ کرنا چاہیے انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہڈیوں کے بھربھرے پن کے لوگوں کی بڑی تعداد ہے اس وقت پاکستان میں 1 کروڑ لوگ ہڈیوں کے بھربھرے پن کا شکار ہیں جس میں 80 فیصد خواتین ہیں انہوں نے کہاکہ لوگوں میں ہڈیوں میں بھربھرے پن سے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کا ادراک نہیں کرسکتے اس لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو ہڈیوں میں بھربھرے پن کے حوالے سے معلومات ہونی چاہئیں تاکہ وہ اپنی خوراک کے ذریعے کیلیشیئم اور وٹامن ڈی کو حاصل کرسکیں بچوں اور بچیوں کو وٹامن ڈی اور کیلیشیئم سے بھرپور غذاء دینی چاہیے تاکہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں اس موقع پر پرنسپل گریژن اکیڈمی عظمیٰ خالد نے ڈاکٹر لال محمد کاکڑ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہڈیوں میں بھربھرے پن سے متعلق طلباء و طالبات کو آگاہی دی اور انہیں اس سے بچاؤ کے طریقے بتائے۔

28/08/2014 - 19:07:16 :وقت اشاعت