بند کریں
صحت صحت کی خبریں ڈاکٹرز کا اخلاق اچھا ہو تو مریض آدھا ٹھیک ہو جاتا ہے،پروفیسر ڈاکٹر فرخ اقبال

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:40:35 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:32:29 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:31:00 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:21:53 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:21:31 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:14:33 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 16:10:45 وقت اشاعت: 29/08/2014 - 14:40:17 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 21:51:53 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 21:42:50 وقت اشاعت: 28/08/2014 - 21:37:05

ڈاکٹرز کا اخلاق اچھا ہو تو مریض آدھا ٹھیک ہو جاتا ہے،پروفیسر ڈاکٹر فرخ اقبال

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29اگست۔2014ء) شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کے چیئرمین اینڈ ڈین پروفیسر ڈاکٹر فرخ اقبال نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کا اخلاق اچھا ہو تو مریض آدھا ٹھیک ہو جاتا ہے، ڈاکٹرز میں گروپ بندیاں ختم کرنے اور شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کو بہترین ادارہ بنانے کا عزم کیا ہوا ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے کچھ جائز مطالبات کو پورا کردیا ہے جبکہ باقی مطالبات کے حل کیلئے وائی ڈی اے کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، پنجاب حکومت نے تھری یا فور لائن بجٹ دینے کا کہا تھا لیکن اب سنگل لائن بجٹ دے دیا ہے اخراجات پورے کرنے کیلئے ہم نے اپنے آپ کو پرائیویٹائز کیا ہے، میڈیکل کالج کی عمارت کی تعمیر، رجسٹرڈ فیکلٹی اور بی ڈی ایس پروگرام کو جلد شروع کردیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔

29اگست۔2014ء“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، پروفیسر ڈاکٹر فرخ اقبال نے کہا کہ یہ ادارہ بنیادی طور پر شیخ زیدمیڈیکل کمپلیکس ہے جس کے 6 ذیلی ادارے ہیں جن میں شیخ خلیفہ بن زید میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، شیخ فاطمہ انسٹی ٹیوٹ آف نرسنگ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی، فیڈرل پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، شیخ زید ہسپتال اور نیشنل ہیلتھ ریسرچ شامل ہے، اسی طرح شیخ زید ہسپتال کے دو بڑے شعبے میڈیسن اور سرجری ہیں جن کے پھر ذیلی شعبے ہیں تمام شعبوں پر قاتل فیکلٹی ممبران تعینات کئے گئے ہیں بنیادی طور پر یہ ٹرشری ہسپتال ہے، تین ہزار تک سٹاف ہے، انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 2012ء میں یہ ادارہ وفاقی حکومت سے پنجاب حکومت کی نگرانی میں آ گیا ہے شروع میں کافی مشکلات ہوئیں لیکن اب معاملات ٹھیک ہیں، شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کا اپنا بورڈ آف ٹرسٹی ہے جس سے لوگوں میں تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ہسپتال ٹرسٹ بن گیا اور پرائیویٹ ہو گیا ہے لیکن یہ ٹرسٹ نہیں ہے بلکہ پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ایک خودمختار ادارہ ہے، ڈاکٹر فرخ نے ہسپتال کی آمدنی واخراجات کے بارے بتایا کہ ہسپتال میں غریبوں اور مستحق لوگوں کو ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں جبکہ باقی ہسپتالوں کی نسبت علاج ومعالجے کے ریٹ مختلف ہیں، اخراجات حکومتی گرانٹ اور ہسپتال کی آمدنی سے پورے کئے جاتے ہیں، انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کیلئے حکومت نے اگرچہ کوئی بجٹ مختص نہیں کیا لیکن حکومت ضرورت کے مطابق گرانٹ جاری کرتی ہے جیسے ابھی حکومت نے ایک ارب 94 کروڑ روپے کی گرانٹ دی ہے، حکومت نے پہلے کہا تھا کہ تھری یا فور لائن بجٹ دیں گے، تنخواہوں کا علیحدہ بجٹ، میڈیکل سازوسامان، آلات سرجری اور دیگر چیزوں کیلئے الگ بجٹ دیا جائے گا لیکن اب ہمیں سنگل لائن بجٹ دے دیا ہے اس لئے ہم نے اپنے آپ کو پرائیویٹائز کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں کل اس وقت 713 بیڈز ہیں اب 270 بیڈز پر مشتمل سیکنڈ فلور کھولنا ہے جو بالکل تیار ہے صرف وزیراعلیٰ پنجاب کا افتتاح کرنا باقی ہے، انہوں نے کہا کہ سیٹ اپ میں 300 کے قریب نئے بیڈز شامل کرنا مشکل کام ہے، اس کیلئے بھی حکومت سے گرانٹ کا مطالبہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ شیخ زید ہسپتال کی ایمرجنسی انتہائی مصروف ایمرجنسی ہے جس میں 25 سے زائد بیڈز ہیں، ایمرجنسی کا خود بھی دورہ کرتا ہوں اور ایڈمنسٹریٹر سے بھی رپورٹ لیتا ہوں، سارے کام تحریری شکل میں کیے جاتے ہیں، زبانی کلامی کام نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ شیخ زید میڈیکل کالج میں 500طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں کالج کی عمارت کیلئے کڈنی سنٹر کے قریب بے نظیر بھٹو شہید کے نام پر پلاٹ موجود ہے جس کی بنیاد گورنر ہاؤس پنجاب میں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے رکھی، کالج کی عمارت کیلئے بحریہ ٹاؤن کے قریب 600 کنال زمین کا منصوبہ بھی زیر غور تھا لیکن جب وفاقی سے صوبے میں آئے تو منصوبہ موخر ہو گیا، شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کے چیئرمین ڈاکٹر فرخ نے میڈیکل کالج کی عمارت کی جلد تعمیر، فیکلٹی رجسٹرڈ کروانے اور جلد بی ڈی ایس پروگرام شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا، انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن 2009ء سے چلتی آ رہی ہے ان کے کچھ مطالبات درست ہیں جن کو پورا کردیا گیا ہے باقی مطالبات کے حل کیلئے وائی ڈی اے کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، کچھ مطالبات پی ایم ڈی سی سے متعلق ہیں، الاؤنسز کی ڈیمانڈ تھی تو وہ حکومتی الاؤنسز کے مطابق کردیئے ہیں، ایک مطالبہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے سے متعلق ہے 150 سیٹوں کا کہا تھا اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، پھر اسی طرح فیکلٹی رجسٹریشن کا بھی مطالبہ ہے تو میں واضح کردوں کہ ہماری فیکلٹی بڑی سکون میں رہتی ہے، رجسٹریشن تب ہوتی ہے جب فارم پر کر کے دیں گے، آج فائل منگوائی تو کچھ نے فارم پر ہی نہیں کیے، جنہوں نے فارم پر کیے ان میں کچھ فارم نامکمل ہیں، انہوں نے شیئر سسٹم کے بارے بتایا کہ شیئر سسٹم کے تحت 60 فیصد گورنمنٹ، 30 فیصد ہسپتال اور 10 فیصد پیرامیڈیکل کو ملتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میری بطور چیئرمین سلیکشن میرے تعلیمی کیریئر ، تجربے، سنیارٹی کی بنیاد پر شفاف اور میرٹ پر ہوئی ہے لیکن اگر کوئی میری مخالفت یا گروپ بندیاں کررہا ہے تو اس سے درخواست ہے کہ آؤ مل کر شیخ زید میڈیکل کمپلیکس کو بہترین ادارہ بنانے میں کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ یہاں 25 سال سے کام کررہا ہوں، میرا چیئرمین کا عہدہ اللہ کی امانت ہے لہٰذا میں اس عہدے پر نہایت ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دینے کیلئے کوشاں ہوں، انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے ہمیں تعلیم وتحقیق پر زیادہ توجہ دینا ہو گی، میڈیسن کا شعبہ ایسا ہے جس میں تیزی سے تبدیلی آ تی ہے، نئی نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کیلئے نئے علاج دریافت کرنا پڑتے ہیں، جیسے پچھلے سالوں میں ڈینگی بخار نے ہر دوسرے فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو اس کا خاتمہ نئے علاج اور عوام میں آگاہی مہم سے ممکن ہوا، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کا اخلاق اچھا ہو تو مریض آدھا خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن یہاں بعض ڈاکٹرز بے زار بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، ڈاکٹر فرخ نے اپنی ابتدائی ، اعلیٰ تعلیم اور گھریلو مالی حالات سے متعلق بتایا کہ کسی کو امید نہیں تھی کہ سنٹرل ماڈل ہائی سکول میں داخل ہو جاؤں گا لیکن میری خواہش تھی خود انٹری ٹیسٹ فارم لایا، وہاں سے میٹرک بورڈ کے امتحانات میں چوتھی پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی، کلاس سے سکالر شپ ملنا شروع ہوا جو ایم بی بی ایس فائنل ایئر تک ملتا رہا، ایم بی بی ایس کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے کیا، اکیڈمک کیئریر میں 13 کے قریب میڈلز ملے، سفارش نہ ہونے کے باعث جاب کیلئے بڑی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، 1983ء میں انگلینڈ سے ایف آر سی پی کیا، 86ء میں یو ایس اے سے ایم آر سی پی کیا، 89ء میں واپس آکر شیخ زید ہسپتال میں کنٹریکٹ پر اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی ہوا، 95ء میں ایسوسی ایشن پھر 2004ء میں پروفیسر بنا، انہوں نے کہا کہ میرے ماموں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں جاب کرتے تھے جو مہینے کے 40روپے دیتے، بڑی بہن ٹیچر تھیں جن کی تنخواہ 150 روپے تھی، سکالر شپ لینے شروع کیے تو گھر کا خرچہ بھی کرتا، ماں سے 2روپے مانگتا تو والدہ سمجھتی کہ پیسے اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں، میری ماں نے کبھی گھر سے باہر نہیں جانے دیا، کیرم بورڈ سے لے کر گلی ڈنڈا جیسی ساری کھیلیں گھر کے اندر ہی کھیلتے، ہم دو بھائی ہیں آمنے سامنے پڑھتے وہ کیلکولیٹر سے کھیلتا رہتا اور میں ہڈیاں جوڑتا رہتا وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور میں ڈاکٹر بن گیا، انہوں نے کہا کہ انگلینڈ گیا تو انگریزوں نے کہا کہ یہاں رہو، حوصلہ افزائی کریں گے لیکن میں نے ملک میں جاب کرنا بہتر سمجھا۔

29/08/2014 - 16:14:33 :وقت اشاعت