مظفرآباد سے شروع ہونے والی مہم ’’ خواتین پر تشدد کی روک تھام‘‘زور وشور سے جاری

مظفرآباد سے شروع ہونے والی مہم ’’ خواتین پر تشدد کی روک تھام‘‘زور وشور سے جاری
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 دسمبر2021ء)آزاد جموں وکشمیر کے بیس کیمپ مظفرآباد سے شروع ہونے والی مہم ’’ خواتین پر تشدد کی روک تھام‘‘زور وشور سے جاری، گذشتہ روز گرلز ووکیشنل سینٹر لاہور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اس تقریب کی مہمان خصوصی چئیرپرسن وویمن کمیشن آزاد جموں وکشمیر تہمینہ صادق خان تھیں تقریب میں مس فرحت یاسین، ڈاکٹر پروفیسر خالدہ تسنیم، ملک نگینہ ورک اور شازیہ ریحان کے علاوہ سماجی، سیاسی، صحافتی، طلباء وطالبات کے علاوہ مختلف ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تہمینہ صادق خان نے کہا کہ پاکستان و آزادکشمیر میں خواتین پر تشدد، ظلم وجبر میں دن بدن خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے خواتین پر جتنا ظلم اور تشدد کر لیا جائے وہ سہہ لیتی ہیں ان خواتین کو چاہیے کہ وہ پولیس اسٹیشن جا کر بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنی اوپر ہونے والی ذیادتی کی کمپلین درج کروائیں پولیس کا کام ہے آپ کی داد رسی کرنا۔

(جاری ہے)

ہم ایسے معاشرے میں رہتی ہیں جہاں اگر خواتین کے حقوق کی بات کی جائے تو وہ بات دبا دی جاتی ہے ہمارا حکومت پاکستان اور آزادکشمیر سے بھرپور مطالبہ ہے کہ ہر معاشرے کے اندر خواتین کے جو حق ہیں ان کو ان کی دہلیز پر ملنے چاہیے۔خواتین پر ظلم اور تشدد کرنے کے بجائے اگر اپنا رویہ درست کر کے پیار سے بات کرنا چاہیے۔خواتین پر تشدد کی روک تھام کے حوالہ سے مختلف قوانین بنائے گئے لیکن ان قوانین پر کبھی بھی عملدرآمد نہیں ہوا اس موقع پر تقریب سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں معاشرتی ریوں میں تبدیلی کے بغیر خواتین اور خاص طور پر کم عمر معصوم بچیوں پر جسمانی تشدد کا خاتمہ ناممکن نظر آتا ہے خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والے معصوم بچیاں جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اب وقت ہے ہم سب کو مل کر چلنا ہو گا ہم سب مل کر خواتین کی آواز بننا ہو گا۔

Your Thoughts and Comments