بند کریں
صحت صحت کی خبریںقبائلی علاقوں میں مزید تین پولیو کیس سامنے آگئے ‘ فاٹا میں پولیو مہم کیلئے تیاریاں شروع

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/09/2014 - 16:27:05 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 15:12:22 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 15:10:54 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 13:43:53 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 13:29:59 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 12:45:44 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 12:04:00 وقت اشاعت: 03/09/2014 - 23:32:15 وقت اشاعت: 03/09/2014 - 22:12:43 وقت اشاعت: 03/09/2014 - 21:13:17 وقت اشاعت: 03/09/2014 - 21:07:53

قبائلی علاقوں میں مزید تین پولیو کیس سامنے آگئے ‘ فاٹا میں پولیو مہم کیلئے تیاریاں شروع

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4 ستمبر۔2014ء) طبی حکام نے خیبرایجنسی میں دو اور جنوبی وزیرستان ایجنسی میں پولیو کا ایک کیس سامنے آنے کے بعد فاٹا میں انسداد پولیو مہم کیلئے تیاریاں شروع کردی ہیں۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ) اسلام آباد نے تصدیق کی کہ ویکسین سے محروم رہنے والے مزید تین بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

بچوں میں خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ کے ایک گاؤں بلول خیل کا رہائشی چھ ماہ کا منصف ولد محمد وزیر، تحصیل باڑہ کے ہی ایک اور گا?ں اخون طالب کا اٹھارہ ماہ کا بلال ولد نور سلیم اور جنوبی وزیرستان کے گاؤں خزا پنگا کی اٹھارہ ماہ کی نازیہ شامل ہیں۔ملک بھر میں رواں برس کے دوران 122 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے فاٹا میں 89 کیسز ریکارڈ کیے گئے جس سے پوری دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگا ۔

عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ شمالی، جنوبی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں انسداد پولیو کی مہم نہ چلنے کے باعث اس مرض کی وباء کسی بھی پھوٹ سکتی ہے۔شمالی وزیرستان میں جون 2012 کے بعد سے طالبان نے پولیو مہم پر پابندی عائد کررکھی ہے اور اب تک وہاں رواں برس 61، خیبرایجنسی میں سترہ اور جنوبی وزیرستان میں آٹھ کیسز ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔فاٹا کی ایجنسیوں کے باعث اس سے ملحق صوبے خیبرپختونخوا کے بچوں میں بھی اس موذی مرض کا خطرہ بڑھ گیا کیونکہ وہاں رواں برس سامنے آنے والے بیس کیسز میں سے تین میں فاٹا کے وائرس کو ڈٹیکیٹ کیا گیا۔

فاٹا کے ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویز کمال نے بتایا کہ انہوں نے نقصان پر کنٹرول کے لیے اقدامات شروع کردیئے ہیں ہم نے ایف آر بنوں میں بڑے پیمانے پر ویکسینشن کے ذریعے قابو میں آنے والے نو امراض جن میں خسرہ اور پولیو شامل ہیں، کے ذریعے بچوں کو تحفظ فراہم کیا ۔ڈاکٹر پرویز کمال نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشنز کے بعد طبی عملے کو بنوں منتقل کردیا گیا ہے تاکہ بے گھر قبائلی افراد کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

ڈاکٹر کمال نے بتایا کہ فاٹا میں ایک اور انسداد پولیو مہم آٹھ ستمبر سے ان علاقوں میں شروع کی جارہی ہے جہاں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ویکسنیشن کی حکمت عملی پر غور کیا گیا" سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ہم باڑہ کے سو فیصد بچوں کو ویکسین کے عمل کا حصہ نہیں بناسکے ہیں یہی وجہ ہے کہ چار ویکسنیشن مہموں کے باوجود وہاں کیسز سامنے آئے ہیں۔فاٹا ہیلتھ ڈائریکٹر نے بتایا کہ حکومت پاک فوج کی حمایت سے فاٹا میں ویکسنیشن مہموں کو چلارہی ہے، تاکہ سو فیصد بچوں کو ویکسین دی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ مکمل کوریج کے بغیر یہ مرض بچوں کو اپنا شکار بناتا رہے گا۔

04/09/2014 - 12:45:44 :وقت اشاعت