بند کریں
صحت صحت کی خبریںدنیا میں ہر 40 سیکنڈ بعد ایک خودکشی ہوتی ہے،عالمی ادارہ صحت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/09/2014 - 21:12:21 وقت اشاعت: 05/09/2014 - 16:27:00 وقت اشاعت: 05/09/2014 - 16:07:18 وقت اشاعت: 05/09/2014 - 15:57:12 وقت اشاعت: 05/09/2014 - 14:53:57 وقت اشاعت: 05/09/2014 - 13:07:41 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 21:44:00 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 21:34:24 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 21:22:47 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 21:15:37 وقت اشاعت: 04/09/2014 - 20:19:55

دنیا میں ہر 40 سیکنڈ بعد ایک خودکشی ہوتی ہے،عالمی ادارہ صحت

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5 ستمبر۔2014ء) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے کہاہے کہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے اور یہ تعداد کسی بھی جنگ یا قدرتی آفت میں مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا بھر میں خودکشیوں کے حوالے سے مرتب کی گئی پہلی رپورٹ میں ان اموات کا ذمے دار میڈیا کو قرار دیا گیا ہے جہاں سلیبریٹیز کی اموات کو کوریج دینے سے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے شعبہ دماغی صحت کی ڈائریکٹر شیکھر سیکسینا نے جنیوا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 40 سیکنڈ میں ایک خودکشی بہت بڑی تعداد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال 15 لاکھ افراد کی اموات ہوتی ہیں جن میں آٹھ لاکھ افراد خودکشی سے مرتے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ خودکشی کے باعث مرنے والوں کی زیادہ تعداد کا تعلق وسطی اور مشرقی یورپ اور ایشیا سے ہے جن میں سے 25 فیصد کرنے والوں کا تعلق امیر ملکوں سے ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق خواتین کے مقابلوں میں خودکشی کرنے والے مردوں کی تعداد دگنی ہے جبکہ اپنی جان لینے کے لیے سب سے زیادہ عام طریقہ کار گلے میں پھندا ڈالنا یا گولی مارنا ہے تاہم دیہی علاقوں میں اس کام کیلئے زہریلی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر 70 سال یا اس سے زائد ہوتی ہے تاہم کچھ ملکوں میں نوجوانوں میں بھی اپنی جان لینے کا رجھان دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2012 میں زیادہ آمدنی والے ملکوں میں خود کشی کی شرح زیادہ رہی جہاں ایک لاکھ میں سے 12.7 لوگوں نے خودکشی کی جبکہ اس کی نسبت درمیانے اور کم درجے کے ملکوں میں یہ شرح 11.2 رہی۔لیکن اگر آبادی کے اعتباد سے دیکھا جائے تو یہ شرح کل اموات کا تین چوتھائی حصہ بنتی ہے۔تاہم پاکستان میں شرح نسبتاً کم ہے جہاں ایک لاکھ افراد میں سے سالانہ 9.3 افراد خودکشی کرتے ہیں، اس میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی سربراہ مارگریٹ چین نے کہا کہ ایک موت میں خودکشی کی کئی بار کوشش کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا خاندان، دوستوں اور برادری پر انتہائی برا اثر ہوتا ہے اور اس کے اس شخص کی موت کے کئی مہینوں بعد تک اثرات رہتے ہیں۔دنیا کے 25 ملکوں خصوصاً افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں خودکشی یا اقدام خودکشی ایک جرم تصور کیا جاتا ہے۔

خودکشی کے حوالے سے دنیا میں سب سے بدترین مقام گیانا ہے جہاں ایک لاکھ میں سے 44.2 افراد خودکشی کرتے ہیں، اس کے بعد شمار اور جنوبی کوریا میں یہ تعداد بالترتیب 38.5 اور 28.9 ہے۔اس کے بعد سری لنکا میں 28.8، لتھوانیا(28.2)، سْری نامے(27.8)، موزم بیک(27.4)، نیپال اور تنزانیہ(24.9)، برونڈی(23.1)، ہندوستان(21.1) اور جنوبی سوڈان (19.8) ہے۔اس کے بعد روس اور یوگنڈا (19.5)، ہنگری(19.1)، جاپان(18.5) اور بیلاروس میں 18.3 ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد 2020 تک خودکشی کے تناسب کو کم کر کے 10 فیصد تک پہنچانا ہے۔

05/09/2014 - 13:07:41 :وقت اشاعت