بند کریں
صحت صحت کی خبریںدھرنوں کا کرشمہ، ایوان صدر کے عین سامنے اوپن ائیرحمام ، دھوبی گھاٹ،، ڈینگی وائرس کی افزائش ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 12/09/2014 - 21:09:01 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 19:51:08 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 19:40:19 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 18:29:20 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 17:14:17 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 15:13:42 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 15:11:20 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 15:06:10 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 14:34:19 وقت اشاعت: 12/09/2014 - 12:41:43 وقت اشاعت: 11/09/2014 - 20:37:51

دھرنوں کا کرشمہ، ایوان صدر کے عین سامنے اوپن ائیرحمام ، دھوبی گھاٹ،، ڈینگی وائرس کی افزائش کا بڑاخطرہ بن چکے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12ستمبر 2014ء)دھرنوں کی خبریں کوزبان زد عام ہیں تاہم ان کا کرشمہ یہ بھی ہے کہ ایوان صدر کے عین سامنے اوپن ائیرحمام اوردھوبی گھاٹ کھل چکے۔ ماہرین صحت کاکہناہے کہ یہ مقام ڈینگی وائرس کی افزائش کا بڑاخطرہ بن چکاا ورکئی بیماریوں کودعوت دی جارہی ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے شرکاء جمع ہیں کیبنٹ ڈویڑن اور ایوان صدر کے دروازے کے عین سامنے۔

اس اوپن ائیرحمام میں۔ جی ہاں ! دھرنیمیں شرکت کی لئے صبح ہی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔کہیں صابن کی جھاگ بن رہی ہے تو کہیں میل خوب رگڑ رگڑ کر اتارا جارہاہے۔ ذرا ادھر کا بھی نظارہ کرلیں ، یہاں دھوبی گھاٹ کھل چکا۔جگہ کم ہے اس لییکئی باری کیہیں منتظر۔دھوبی گھاٹ اورحمام کیکھیل اپنی جگہ لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ جگہ جگہ کھڑے پانی کی نکاسی کاکوئی بندوبست نہیں اوریہ صورت حال بیماریوں کومدعوکررہی ہے۔

چیئرمین ڈینگی ایکسپرٹ کمیٹی پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ یہ ماحول حفظان صحت کے لئے ناقص (Unhygienic)ہے مچھروں کے لئے بیماریوں کے لئے۔خاص طور پر ملیریا ، ٹائیفائٹد اور ڈینگی کے لئے۔اور اسلام آباد اس وقت رسک پر ہے ، کیونکہ پنجاب میں کیسزز رپورٹ ہو رہے ہیں اور اسلام آباد میں رپورٹنگ سسٹم بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہو ڈاکٹرز کو پتہ ہی نہ ہو۔

ڈی چوک اور پارلے منٹ ہاوس کے اطراف گندگی کیڈھیروں کی بھی کمی نہیں اور بہتے پانی کا گندگی کے ساتھ سفر جاری ہے اورکھانیپینیاسٹالزبھی یہیں موجودہیں۔ایسیمیں بیماریوں کاراستہ کیسیروکاجاسکتاہے۔ شرکاء کہتے ہیں کہ بیماریاں ہوتی ہیں اور کیمپس میں کچھ لوگ بیمار بھی ہوئے انہیں ہم واپس لے گئے۔ظاہرہے گندگی ہوتی ہے مچھر بھی ہوتے ہیں یہاں مکھیاں بھی۔یہ گندگی ہم خود ہی اٹھاتے ہیں لیکن ہم کتنی اٹھا لیں گے۔یہ جو ڈینگی کے ٹھیکیدار بنے تھے اب کدھر ہیں ، اگر یہاں کسی کو ڈینگی ہو گیا تو کون ذمہ دار ہو گا ؟دھرنے کے شرکاء کہتے ہیں کہ گندگی اٹھانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اورحکمران شایدمنتظرہیں کہ وہ دھرنیمیں بیٹھے لوگ بیمارپڑجائیں اوریہاں سیچلتے بنیں۔

12/09/2014 - 15:13:42 :وقت اشاعت