بند کریں
صحت صحت کی خبریںامریکہ‘ کم عمر بچوں میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرات

صحت خبریں

وقت اشاعت: 16/09/2014 - 17:51:55 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 17:24:39 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 17:19:17 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 16:38:40 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 15:16:53 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 14:06:35 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 13:10:51 وقت اشاعت: 16/09/2014 - 12:59:51 وقت اشاعت: 15/09/2014 - 23:19:03 وقت اشاعت: 15/09/2014 - 23:11:38 وقت اشاعت: 15/09/2014 - 00:06:01

امریکہ‘ کم عمر بچوں میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرات

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16ستمبر۔2014ء)امریکا میں کم عمر بچوں میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں ہر دس میں سے 9 بچے بہت زیادہ نمک کا استعمال کرتے ہیں اور ان کی غذائی عادات اْن کی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ بڑے ہونے تک ان میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کی گوناگوں بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن CDC کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکا میں بچوں کی غذا میں شامل سوڈیم کی کْل مقدار کا 40 فیصد انہیں اپنی مرغوب غذاوٴں جیسے کہ پیزا، سینڈوچ میں استعمال ہونے والے گوشت، پنیر، چکن نگٹس اور پاسٹا ڈشز سے ملتا ہے۔ پاسٹا، سینڈوچ،6 سے 18 سال کی درمیانی عمر کے بچے روزانہ اوسطاً تین ہزار تین سو گرام سوڈیم تیار شدہ کھانوں سے حاصل کر لیتے ہیں۔

ان کھانوں کے میز پر آنے کے بعد کچھ بچے ان میں مزید نمک کا اضافہ کرتے ہیں۔ سوڈیم کی یہ مقدار اْس سے کئی گنا زیادہ ہے جو امریکیوں کے لیے وضع کردہ غذائی ہدایات میں شامل ہے۔ 2010ء میں امریکی باشندوں کے لیے جو غذائی ہدایات سامنے آئی تھیں، اْن کے مطابق روزانہ کی غذا میں اوسطاً دو ہزار تین سو ملی گرام سے زیادہ سوڈیم شامل نہیں ہونا چاہیے۔

سینٹرز فار ڈیزیز اینڈ کنٹرول CDC کے ڈائریکٹر ٹوم فریڈن کے بقول، "بچوں کی ایک بڑی تعداد بہت زیادہ نمک کا استعمال کر رہی ہے۔ اس کا نتیجہ مستقبل میں ہائی بلڈپریشراور دل کے امراض کے غیر معمولی خطرات کی صورت میں سامنے آئے گا"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت زیادہ نمک زیادہ تر ریستوران کے کھانوں اور تیار شدہ کھانوں میں موجود ہوتا ہے۔ ٹوم فریڈن کہتے ہیں، ”نمک کے استعمال میں کمی ہمارے بچوں کو المناک اور مہنگی بیماریوں سے بچانے میں مدد گار ثابت ہو گی"۔

مذکورہ اعداد و شمار کی بنیاد 2009ء اور 2010ء میں نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن اگزامینیشن سروے کے نتائج پر رکھی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی بچوں کا لنچ اور ڈنر نمک سے بھرپور ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ زیادہ تر سوڈیم اسٹورز میں دستیاب پکے پکائے کھانوں میں شامل ہوتا ہے۔ قریب 65 فیصد نمک اسٹور سے خریدے جانے والے کھانوں میں، 13 فیصد فاسٹ فوڈ اور پیزا جبکہ 9 فیصد اسکول کی کینٹینوں میں دستیاب کھانوں سے حاصل ہوتا ہے۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول سی ڈی سی نے والدین اور بچوں کی نگہداشت کرنے والے دیگر افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو کھانے کے لیے وافر مقدار میں پھل اور سبزی فراہم کریں اور پکے پکائے بازاری کھانوں کی بجائے گھر میں تیار شدہ تازہ کھانا کھلائیں۔دوسری جانب اسکولوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنی کینٹینوں میں تیار کیے جانے والے کھانوں میں نمک کا استعمال کم سے کم کریں۔

مزید یہ کہ وینڈنگ مشینوں یا سکوں سے چلائی جانے والی مشینوں میں دستیاب بہت زیادہ نمک کے حامل سنیکس کے متبادل اور کم سوڈیم والے سنیکس فراہم کیے جائیں۔ تحفظ صارفین کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ نمک سے بھرپور کھانوں کی دستیابی پر قابو پاتے ہوئے لاتعداد بچوں کو دل کے امراض اور فالج کے سبب قبل از وقت موت سے بچایا جا سکتا ہے۔

16/09/2014 - 14:06:35 :وقت اشاعت