بند کریں
صحت صحت کی خبریںکانگو وائرس کی روک تھام،محکمہ صحت اور محکمہ لائیو سٹاک مشترکہ حکمت عملی پر عملدر آمد کریں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/09/2014 - 14:45:47 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 13:59:55 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 13:58:43 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 13:41:17 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 13:33:29 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 13:26:39 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 13:10:22 وقت اشاعت: 23/09/2014 - 12:29:08 وقت اشاعت: 22/09/2014 - 21:39:43 وقت اشاعت: 22/09/2014 - 21:06:35 وقت اشاعت: 22/09/2014 - 20:26:40

کانگو وائرس کی روک تھام،محکمہ صحت اور محکمہ لائیو سٹاک مشترکہ حکمت عملی پر عملدر آمد کریں گے‘ خواجہ سلمان رفیق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23ستمبر۔2014ء) مشیر وزیر اعلی پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے عید الاضحی کے پیش نظر ملک کے دور دراز علاقوں خصوصا بلوچستان سے قربانی کے جانوروں کی بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے پیش نظر کانگو وائرس کی روک تھا م کیلئے ہدایت کی ہے کہ محکمہ صحت اور محکمہ لائیو سٹاک مربوط کوششوں کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر کام کریں ،انہوں نے محکمہ لائیو سٹاک کے افسران کو ہدایت کی کہ لاہور سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں مویشی منڈیوں اور سیل پوانئٹس پر آنے والے جانوروں پر سپرے یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے یہ بات صوبے میں عید الاضحی کے موقع پر کانگو وائرس کی روک تھام کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ صحت اور لائیو سٹاک کے افسران کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز،ایڈیشنل سیکرٹری صحت (ٹیکنیکل) ڈاکٹر سلمان شاہد،ڈائریکٹر ہیلتھ ای ڈی ای ڈاکٹر احمدعفیفی اور لائیوسٹاک کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر احمدعفیفی نے بتایا کہ کانگو بخار عموما بھیڑوں ،چھتروں اور گائیوں کی جلد پر موجود چچڑوں (Tics)کے کاٹنے یا انفیکشن زدہ جانور کے خون اور دیگرآلائشوں کے لگنے سے ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس سے زیادہ تر مویشوں کا کاروبار کرنے والے مویشی پالنے والے یا عید کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی ہینڈلنگ کرنے والوں کے متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

علاوہ ازیں کانگو بخار میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز،نرسز اور تیمار دار بھی متاثر ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق کانگو وائرس سے شرح اموات بھی 50سے70فیصد تک ہو سکتی ہے ۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز نے کہا کہ کانگو وائرس سے متاثرہ مریض کا علاج کرنے والے میڈیکل سٹاف اور تیمار دار کو احتیاط تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت اس سلسلہ میں تمام میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کو گائیڈ لائنز جاری کر چکا ہے اور حفاظتی کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں ،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صومیہ اقتدار نے کہا کہ کانگو بخار اور ڈینگی کی علامات میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے تاہم ڈینگی صرف مچھر کے کاٹنے سے جبکہ کانگو وائرس مریض کے خون ،پسینہ اور دیگررطوبتوں کے دوسرے انسان کو لگنے سے منتقل ہو جاتا ہے ۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے بتایا کہ محکمہ لائیو سٹاک لوکل گورنمنٹ کے ساتھ ملکر بلوچستان اور دیگر علاقوں سے آنے والے قربانی کے جانوروں کے چیچڑ کشی کیلئے سپرے کر رہا ہے اور مویشی منڈیوں میں بھی سپرے کرایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ چیچڑ بلوچستان سے آنے والے جانوروں میں زیادہ پائے جاتے ہیں ۔

سیکرٹری ہیلتھ جواد رفیق ملک نے ہدایت کی کہ کانگو بخار کے مریضوں کے علاج کے دوران احتیاطی تدابیر پر مشتمل گائیڈ لائنز دوبارہ یاد دہانی کیلئے تمام اضلاع کے ڈی سی او ز ،ای ڈی اوز ہیلتھ اور تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ایک مرتبہ پھرفوری طور پر بھجوا دی جائیں ۔انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت کی کہ عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے فوری طور پر لاہور ،راولپنڈی اور ملتان میں ڈاکٹرز ،نرسز کیلئے کانگو وائرس کی کیس مینجمنٹ کی تربیت کا بندوبست کیا جائے ۔

انہوں نے لائیو سٹاک کے افسران کو کہا کہ وہ کانگو وائرس کی روک تھام کے سلسلہ میں اپنے محکمہ کی جانب سے تمام سرگرمیوں کی verificationکریں اور عوامی آگاہی کیلئے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کرائیں۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ کانگو وائرس کی Preventionمیں لائیو سٹاک کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔

23/09/2014 - 13:26:39 :وقت اشاعت