بند کریں
صحت صحت کی خبریںکانگو اور ڈینگی وائرس انسانی جسم میں تیزی سے پھیلتا ہے جس سے جسم میں خون منجمد ہونے کی صلاحیت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 30/09/2014 - 13:05:36 وقت اشاعت: 30/09/2014 - 11:49:18 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 18:40:43 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 18:01:28 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 17:26:23 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 17:25:21 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 17:08:02 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 17:05:12 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 17:03:35 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 17:00:32 وقت اشاعت: 29/09/2014 - 16:54:37

کانگو اور ڈینگی وائرس انسانی جسم میں تیزی سے پھیلتا ہے جس سے جسم میں خون منجمد ہونے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے،ڈاکٹرظفر اقبال

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29ستمبر۔2014ء)وفاقی اردو یونیورسٹی ، شعبہ مائیکرو بائلوجی کے تحت ”ڈینگی اور کانگو وائرس سے بروقت بچاؤ“ پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ کانگو اور ڈینگی وائرس انسانی جسم میں تیزی سے پھیلتا ہے جس سے جسم میں خون منجمد ہونے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈینگی وائرس سے بچاؤ کیلئے صاف پانی کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیئے کیونکہ ڈینگی مچھر صاف پانی پر پرورش پاتا ہے اسکے علاوہ سورج نکلنے اور غروب ہوتے وقت خصوصا گھر کے دروازوں اورکھڑکیوں کو بند رکھنا چاہئے کینوکہ اسوقت یہ مچھر پرواز کرتا ہے۔ ڈینگی بخار کی علامات میں تیز بخار اورجلد پر کالے یا سرخ دھبے ہونا شامل ہیں ایسی صورت میں فورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

سیمینار سے پروفیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی،صدر شعبہ مائکرو بائلوجی عطیہ نعیم، سیما ناز صدیقی، ڈاکٹرسکندر شیروانی، ڈاکٹر صلاح الدین، ڈاکٹر زاہد ،ڈاکٹر حنا رحمن ،پروفیسر امتیاز علی اورڈاکٹر سید نعمان نے بھی خطاب کیا۔پروفیسر شاہانہ عروج نے کہا کہ کانگو مرض کے باعث جسم پر ہونیوالے زخموں سے مسلسل خون بہتا رہتاہے یہ مرض عام طور پر ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں بڑی تعداد میں مویشی پالے جاتے ہیں۔

ڈینگی اور کانگو وائرس کے تشخیص کردہ مریض فوری طورپر کسی اچھے معالج رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ملکر اس وائرس کے خلاف مہم چلانا چاہیے۔ کانگو وائرس ایک ایسا وائرس ہے جوجانوروں سے پھیلتا ہے اس بیماری کی علامت میں بخار ، چہرہ سرخ اور قے کے ساتھ خون آنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ شخص کا فوری علاج نہ کرایا جائے تو موت بھی مواقع ہوسکتی جبکہ متاثرہ شخص کا علاج کرنے والے عملے کو بھی سخت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر حنا رحمن نے کہا کہ ماہرین طب کے مطابق مویشی منڈی میں خواتین اور بچوں کو اپنے ہمراہ ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ حساس ہونے کے باعث جانوروں سے منتقل ہونیوالا کانگو وائرس بچوں کو زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔ڈاکٹرسکندر شیروانی نے کہا کہ ان وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاط کی ضرورت ہے مریض کے پاس ہمیشہ ماسک اور گاؤن پہن کر جائیں ۔ مریض کو دستانے پہنے بغیر ہاتھ نہ لگائیں انجکشن لگاتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ہاتھ سرنج پر نہ لگے۔پروگرام کے اختتام پر صدر شعبہ عطیہ نعیم نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

29/09/2014 - 17:25:21 :وقت اشاعت