واٹر بورڈ کے افسران صوبائی وزیر شرجیل میمن کے فیصلوں اور احکامات پر من و عن عمل کریں ،قطب الدین شیخ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2 اکتوبر۔2014ء) صوبائی وزیر بلدیات ، اطلاعات و چیئرمین واٹر بورڈ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور احکامات پر واٹر بورڈ افسران من و عن فوری عمل کریں اوراس کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں ، تاخیر یا عدم تعمیل سے قطعی گریز کیا جائے ،اس لئے کہ اب جزا و سزا کا عمل شروع ہوگا، ان خیالات کا اظہار ایم ڈی واٹر بورڈ قطب الدین شیخ کی زیر صدارت واٹر بورڈ کے افسران کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا ، جس میں چیئر مین واٹر بورڈ کی جانب سے دیئے گئے احکامات پر فوری عملدرآمد کی ٹھوس حکمت عملی وضع کی گئی ، اجلاس میں ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز افتخار احمد خان تمام چیف انجینئرز ، اویس ملک ، امداد مگسی ، نور محمد چوہان ،غلام قادر عباس ،محمد عارف اور جمیل اختر ،انچارج ہائیڈرنٹس راشد صدیقی ،چیف سیکورٹی آفسر میجر (ر) محمد نواز گوندل اور متعلقہ افسران نے شرکت کی ، ایم ڈی واٹر بورڈ نے سختی سے کہا کہ وزیر بلدیات و چیئرمین واٹربورڈ شرجیل انعام میمن کی ہدایت پر تمام غیر قانونی ہائیدرنٹس جو واٹر بورڈ کی مین لائنوں سے پانی چوری کررہے ہیں یا بورنگ کے پانی میں واٹر بورڈ کا چوری شدہ پانی ملا کر فروخت کرررہے ہیں ان کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے ، بورنگ کا پانی پینے کے قابل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے واٹربورڈکا پانی ملایا جاتا ہے ،چیئرمین واٹربورڈ شرجیل انعام میمن کی ہدایت پر عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے باوجود 10اکتوبر تک عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ، ہائیڈرنٹس مسمار کرنے کے لئے انٹی انکروچمنٹ سیل، ضلعی بلدیات ، پولیس رینجرز اور ضلعی انتظامیہ تعاون کرے گی ، اس سلسلہ میں وزیر بلدیات نے ضروری ہدایات جاری کردی ہیں ، جبکہ ہوم ڈپارٹمنٹ ، آئی جی سندھ اور متعلقہ اداروں کے سربراہان سے ملاقات کے ساتھ ساتھ لازمی تعاون کیلئے خطوط ارسال کردیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ WTM اور بلک ( ڈسٹری بیوشن ) کے تمام چیف انجینئرز ہائیڈرنٹس کی فہرست آج ہی ( جمعرات کو ) فراہم کریں ، علاوہ ازیں پانی چوروں کے خلاف آپریشن میں WTMبلک کے علاوہ چیف سیکورٹی آفیسر ، انچارج ہائیڈرنٹس ،تمام چیف انجینئرز اور ان کے افسران و اسٹاف بھی ضروری مشینری اور افرادی قوت کے ساتھ شامل ہوں گے یہ ایک جوائنٹ ونیچر ہوگا اگر پانی چوری میں چیف انجینئر ،سپریٹنڈنگ انجینئر ،ایگزیکٹیو انجینئر اور اسٹاف سمیت کوئی بھی ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،یہ افسران اپنے ضلع میں اس کے ذمہ دار ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ بورنگ کا پانی فروخت کرنے والے ہائیڈرنٹس (کنووٴں ) کو جو واٹر بورڈ کی تنصیبات سے 500 میٹر کے اندر ہوں گرادیا جائے جبکہ FIR کے اندراج میں قابل گرفت و سزا کی شق شامل کرائی جائے ، آپریشن کے بعد ہر چیف انجینئر تصدیق نامہ دے گاکہ ان کے علاقہ میں آپریشن کے بعد اب کوئی غیر قانونی ہائیڈرنٹس نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ پانی چور ی میں جو بھی ملوث ہے وہ شہریوں کو پانی سے محروم کررہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اس کی سزا ضرور دے گا تاہم واٹر بورڈ کی ساکھ اس ہی صورت میں بحال رہے گی کہ جب ہم نیک نیتی اور صدق دل سے انسانیت کے جزبے کے ساتھ اس آپریشن کو کامیاب بنائیں ، ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز اس آپریشن کی براہ راست نگرانی کریں گے ، انہوں نے کہا کہ آپریشن پولیس، ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں کیا جائے گا ،جبکہ وزیربلدیات نے بلدیاتی ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں ، لہٰذا بلاتاخیر فوری طور پر آپریشن شروع کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ قانونی سقم دور کرنے کے لئے سندھ اسمبلی میں قانون سازی کے لئے بل پیش کیا جارہا ہے اور واٹربورڈ بھی پٹیشن دائر کررہا ہے تاکہ پانی چوروں کو سزا مل سکے اور اس طرح پانی چوری کا خاتمہ ممکن ہو ، اجلاس میں سابق ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز نجم عالم صدیقی (مرحوم ) کیلئے مغفرت کی دعا بھی کی گئی ۔

Your Thoughts and Comments