بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکومت گردوں کی چوری کے مذموم کاروبار میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/06/2007 - 11:12:02 وقت اشاعت: 02/06/2007 - 12:57:19 وقت اشاعت: 01/06/2007 - 16:21:56 وقت اشاعت: 31/05/2007 - 20:57:58 وقت اشاعت: 31/05/2007 - 11:23:51 وقت اشاعت: 29/05/2007 - 21:47:20 وقت اشاعت: 29/05/2007 - 20:39:10 وقت اشاعت: 29/05/2007 - 16:58:48 وقت اشاعت: 29/05/2007 - 16:18:20 وقت اشاعت: 28/05/2007 - 23:50:08 وقت اشاعت: 28/05/2007 - 00:11:11

حکومت گردوں کی چوری کے مذموم کاروبار میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29مئی۔ 2007ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ملک میں گردوں کی چوری کے بارے میں متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس قسم کے مذموم کاروبار میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے اور ان افراد کیخلاف سخت ایکشن لے تاکہ وہ لوگ عبرت کا نمونہ ثابت ہو سکیں، وزارت صحت کی سٹینڈنگ کمیٹی نے جمعہ کے روز فیروز پور روڈ لاہور میں نوجوان عارف کی گردہ چوری کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہونے والی پیشرفت سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو آگاہ کیا جائے۔

وزارت صحت کی سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز قومی اسمبلی میں ڈاکٹر حاجرہ طارق عزیز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان فارمیسی کونسل بل مجریہ 2007ء اور انتقال خون کے ذریعے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بل مجریہ 2007ء پر غور ہوا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں فرحانہ خالد بنوری، ایم این اے اور دیگر محرکین نے پاکستان فارمیسی کونسل کو بل مجریہ 2007ء پیش کیا تو اس موقع پر وفاقی وزیر صحت محمد نصیر خان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت پہلے ہی اس بل پر غور کر رہی ہے اور اسے جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں تفصیلی غور کے بعد قائمہ کمیٹی نے بل پر مزید غور کیلئے ڈاکٹر دونیا عزیز کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم کی جس میں نواب مرزا ایڈووکیٹ اور مسز یاسمین رحمن کے علاوہ مس فرحانہ خالد، سید نیئر حسین بخاری اور ڈاکٹر فرید احمد پراچہ پر مشتمل سب کمیٹی تشکیل دی جو دونوں بلوں کے ڈرافٹ کا جائزہ لینے اور غور و غوض کے بعد 7 دن کے اندر اندر اپنی تفصیلی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی۔

انتقال اقتدار خون کے بارے میں بل پر وزارت صحت نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس موضوع پر پہلے ہی حکومت آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں نے 6 بل پاس کئے ہوئے ہیں جبکہ اسی قسم کے ایک بل پر پہلے ہی وزارت صحت غور کر رہی ہے جس پر جلد فیصلہ کر لیا جائے گا جس پر مسز یاسمین رحمن اور دیگر محرکین نے حکومتی اقدامات سے متفق ہو کر اپنے بل پر مزید زور نہیں دیا۔

سٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت نے گردوں کی چوری پر ایک متفقہ قرارداد پاس کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ حکومت اس قسم کا کاروبار کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن لے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ جمعہ کے روز لاہور میں نوجوان عارف کی گردہ چوری کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے اور اس مذموم کاروبار میں چھپے افراد کے بارے میں ملوث افراد کو جلد از جلد بے نقاب کیا جائے۔

اجلاس میں چیئر پرسن ملک محمد سیف اللہ خان ٹوانہ کے علاوہ مسز یاسمین رحمن، نواب مرزا ایڈووکیٹ، شمشاد ستار بچانی، مسز بالم حسین، مس رونیزہ احسان، ڈاکٹر جنید ممتاز جوئیہ ایم این اے کے علاوہ وفاقی وزیر صحت محمد نصیر خان نے بھی شرکت کی۔ سیدہ فرحانہ خالد بنوری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، بختیار مانی، مسز نیئر سلطانہ، ایم پی بھنڈارہ، سید نیئر حسین بخاری، مولانا محمد خان شیرانی، قاری فیض الرحمان علوی، رانا محمود الحسن، صابر حسین اعوان، مولانا رحمت اللہ خلیل، اسد اللہ بھٹو، محمد حسین، حزب اللہ بگھیو، محمد صدر شاکر، مسز عائشہ منور، مسز رقیہ قائم سومرو اور زمرد خان ایڈووکیٹ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
29/05/2007 - 21:47:20 :وقت اشاعت