بند کریں
صحت صحت کی خبریںسندھ کی تقسیم کے خلاف ہڑتال کی کامیابی کے لیئے ٹرانسپورٹر تاجر اور تمام طبقات اپنا بھرپور ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/10/2014 - 20:35:35 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 19:26:48 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 18:14:24 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 17:27:34 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 17:08:34 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 17:06:10 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 17:03:32 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 16:53:37 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 16:52:03 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 16:48:22 وقت اشاعت: 22/10/2014 - 16:08:33

سندھ کی تقسیم کے خلاف ہڑتال کی کامیابی کے لیئے ٹرانسپورٹر تاجر اور تمام طبقات اپنا بھرپور کردار ادا کریں،ایاز لطیف پلیجو

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 اکتوبر۔2014ء)قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے سندھ کی تقسیم کے مطالبے کے خلاف آج( جمعرات) 23 اکتوبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام شٹرڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے ٹرانسپورٹر تاجر اور تمام طبقات کے پرامن لوگ اپنا بھرپور کردار ادا کریں اردو بولنے والے سندھ کا لازمی حصہ اور ہمارے بھائی ہیں لیکن ایم کیو ایم عالمی اور گروہی مفادات کے لئے سندھ اور پاکستان کو توڑنے کی سازش پر عمل پیرا ہے، سندھ کے تمام زبانیں بولنے والے 6 کروڑ میں سے جب تک کوئی بھی زندہ ہے عالمی طاقتیں اور اس کے ایجنٹ اپنے مذموم ارادوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

وہ قاسم آباد میں پلیجو ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں عبدالقادر رانٹو، انور سومرو اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔قومی عوامی تحریک کے صدر ایازلطیف پلیجو نے بتایا کہ تمام قوم پرست سیاسی دینی جماعتوں نے جمعرات کی ہڑتال کی مکمل حمایت کی ہے یہاں تک کہ پیپلزپارٹی کے کئی ارکان اسمبلی اور عہدیداروں نے بھی ہم سے رابطہ کرکے ہڑتال میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ٹکراؤ اور اسلحہ کی سیاست کے خلاف ہیں یہ ہڑتال مکمل پرامن ہو گی اور کہیں کسی گاڑی کا شیشہ بھی نہیں توڑا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جب بھی پیپلزپارٹی کی حکومت سے وزارتوں اختیارات بھرتیوں اور فنڈز پر کوئی جھگڑا ہوتا ہے کوئی اور سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کے لئے سیاسی طور پر خطرہ بنتی ہے یا الطاف حسین کے خلاف لندن میں مقدمات میں پیش رفت ہوتی ہے کراچی میں کوئی خاص جرائم پیشہ افراد پکڑے جاتے ہیں تو ایم کیو ایم فوری سندھ کی وحدت کو سوالیہ نشان بنانے کے لئے نئے صوبے بنانے کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری ایم کیو ایم کی قیادت سے اپیل ہے کہ وہ اس وقت جبکہ ملک مختلف بحرانوں کا شکار ہے سندھ کو تقسیم کرنے کی باتوں سے باز رہے یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور سندھ کے عوام اسے کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ فاروق ستار حیدر عباس رضوی فیصل سبزواری اور دیگر رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ وہ ایم کیو ایم کی قیادت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی اس پالیسی کو تبدیل کرے، انہوں نے کہا کہ دراصل ایم کیو ایم کے پاکستان میں عہدیدار اور ارکان اسمبلی بھی جب لندن سے خطاب شروع ہو جاتا ہے تو سہم جاتے ہیں اور ان کے چہرے اڑے ہوئے نظر آتے ہیں کہ نہ جانے انہیں کس نئی مصیبت میں ڈال دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ترقی کے لئے چھوٹے یونٹس قائم کرنے کی بات کرتی ہے لیکن کراچی کی 2 کروڑ کی آبادی میں وہ اضلاع بنانے کے خلاف ہے اور نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں ہونا دینا چاہتی اختیارات کی مرکزیت کے قیام کے لئے کراچی کو ایک یونٹ رکھنے کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ حیدرآباد کو اپنے مفاد کے لئے اس نے 4 اضلاع میں تقسیم کرا دیا، انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات فوری کرائے جائیں اور اختیارات منتخب نمائندوں کو سونپے جائیں، ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن وہاں کی سیاسی جماعتوں نے باہمی اختلافات کے باوجود کبھی اس کی وحدت کو توڑنے کا مطالبہ نہیں کیا دنیا کے کئی ممالک میں بلوچستان سے بھی دگنے رقبے کے صوبے قائم ہیں۔

ایاز لطیف پلیجو نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم نے دراصل عالمی ایجنڈے کے تحت سندھ کو ٹارگٹ کیا ہے پہلے وہ ضلعی حکومتوں کے ذریعے گرفت حاصل کرنا چاہتی ہے پھر الگ صوبے کی بات کی جائے گی جس میں سندھ اور پاکستان توڑنے کی قرارداد منظور کرائی جائی گی، انہوں نے کہا کہ دراصل ایم کیو ایم باقی تمام سیاسی قوتوں اور زبانیں بولنے والوں کو اپنا محکوم بنا کر رکھنا چاہتی ہے اور وہ نئے صوبے کا نام "جناح پور"، "الطاف نگر" یا کچھ اور بھی رکھ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے یہ بھی بعید نہیں کہ وہ اپنے نئے صوبے میں گرفت مضبوط کرنے کے بعد قرارداد منظور کرکے اقوام متحدہ نیٹو امریکا اور برطانیہ سے اپیل کرے کہ وہ انہیں تحفظ دینے کے لئے مداخلت کریں، انہوں نے کہا کہ دراصل پاکستان کو توڑ کر اس خطے میں ایک نیا اسرائیل قائم کرنے کی جنگ جاری ہے، انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والے ہمارا حصہ ہیں جینا مرنا ہمارا سب کا اکٹھا ہے وہ 1987ء سے پہلے کی صورتحال پر غور کریں کہ کیا اس وقت بھی حالات ایسے تھے اور ایم کیو ایم کے وجود میں آنے کے بعد کیا تبدیلی آئی ہے، انہوں نے کہا کہ عبدالستار افغانی، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی اور اردو بولنے والے دیگر رہنماؤں اور قائدین کے دور سیاست میں بھی کیا ایسے ہی بوری بند لاشیں ملتی تھیں جیسا کہ گذشتہ 20 سال سے مل رہی ہیں، کیا اردو بولنے والی ماؤں کی گودیں اسی طرح اجڑتی تھیں حکیم محمد سعید، مدیر تکبیر محمد صلاح الدین، ڈاکٹر عمران فاروق کیا یہ سب مہاجر اور اردو بولنے والے نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ خدارا پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ذاتی مفادات کے ٹکراؤ میں سندھ کی وحدت کو سوالیہ نشان نہ بنائیں عالمی طاقتیں سندھ میں ٹکراؤ پیدا کرکے یہاں بھی بلوچستان جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہیں تاکہ خونریزی ہو اس کے لئے وہ مقامی ایجنٹوں کو متحرک کر رہی ہیں ایک سوال پر ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے پر بھی عمل ہو رہا ہے اور دونوں پارٹیوں کے مفادات کا ٹکراؤ بھی ہے دراصل کرپشن کے ذریعے لوٹ مار کرکے اپنی دولت اور اپنے خاندانوں کو تحفظ دینے کے لئے بھی اس سازش میں ملوث عناصر کو غیرملکی طاقتوں کی سرپرستی کی ضرورت ہے تاکہ وہ انہیں پناہ دے سکے، اس سوال پر کہ آپ کس بنیاد پر ایم کیو ایم کے خلاف سندھ اور پاکستان کو توڑنے کا سنگین الزام لگا رہے ہیں ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ میرے پاس کسی غیرملکی طاقت کی کوئی لکھی ہوئی تحریر تو نہیں لیکن ٹھوس شواہد سے ضرور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کراچی میں نیٹو کے اسلحہ بردار سینکڑوں کنٹینر غائب ہو گئے اعلیٰ پولیس حکام اور رینجرز نے بھی عدالت میں اس کی تصدیق کی نیٹو نے بھی پہلے اس کو تسلیم کیا اور بعد میں انکار کر دیا، اسی طرح کراچی میں وہ انڈین اسلحہ بھاری مقدار میں پکڑا گیا جو کہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیراستعمال ہے، یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کس تنظیم کی سفارش پر امریکا برطانیہ اور یورپ کے ملکوں کے ویزے بلارکاوٹ جاری ہو رہے ہیں اور اس کے لئے ہدایات کہاں سے آتی ہیں، امریکی برطانوی اور یورپی سفارتکار نائن زیرو کے کیوں چکر لگاتے رہتے ہیں، الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ سمیت سنگین مقدمات ہونے کے باوجود انہیں 20 سال سے برطانیہ نے پناہ دے رکھی ہے۔

22/10/2014 - 17:06:10 :وقت اشاعت