بند کریں
صحت صحت کی خبریں پولیو کے خاتمے کا پروگرام چلانے کیلئے این ڈی ایم اے کے پاس کوئی نیٹ ورک نہیں ‘ پروگرام وزارت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/10/2014 - 21:50:07 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 21:02:56 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 19:47:13 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 19:31:17 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 18:32:38 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 17:01:47 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 17:01:41 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 15:48:15 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 15:04:27 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 14:34:31 وقت اشاعت: 29/10/2014 - 14:30:26

پولیو کے خاتمے کا پروگرام چلانے کیلئے این ڈی ایم اے کے پاس کوئی نیٹ ورک نہیں ‘ پروگرام وزارت صحت ہی چلائیگی ‘ سائرہ افضل تارڑ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29 اکتوبر۔2014ء)قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کا پروگرام چلانے کیلئے این ڈی ایم اے کے پاس کوئی نیٹ ورک نہیں ‘ پروگرام وزارت صحت ہی چلائیگی ‘ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے ‘آئی ایم بی کے خدشات درست نہیں ‘ ملک سے پولیو کے خاتمے کے لئے اپنے نیشنل ایکشن پروگرام پر کاربند رہیں گے ‘پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ‘مرض کے خاتمے کیلئے ہمیں بحیثیت قوم مل کر کام کرنا چاہیے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے آئی ایم بی کی جانب سے حکومت کو پولیو کے خاتمے کیلئے این ڈی ایم اے سے مدد لینے کا مشورہ دینے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لئے سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے آئی ایم بی کی جانب سے جو زبان استعمال کی گئی ہے اور جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے ‘ ہم اپنے ملک سے پولیو کے خاتمے کے لئے اپنے نیشنل ایکشن پروگرام پر کاربند رہیں گے۔

وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے یہ پروگرام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور انہوں نے بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز ہی کی مدد لینی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیو پروگرام کی ناکامی کی ذمہ دار موجودہ حکومت نہیں، ہماری حکومت نے اس پروگرام کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بیگم شہناز وزیر علی کو پروگرام جاری رکھنے کی درخواست کی مگر انہوں نے ہماری درخواست قبول نہیں کی ۔

انہوں نے کہاکہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پولیو پروگرام کو مشکلات کا سامنا ہے، فاٹا میں پولیو کا وائرس موجود ہے اور اس معاملے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کابینہ کی کمیٹی بنائی اب یہ سیکیورٹی ایشو بن چکا ہے۔ آئی ایم بی کی رپورٹ میں ہمیں نائیجیریا سے تشبیہ دی جارہی ہے جو درست نہیں ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک بھر میں کہیں بھی پولیو ویکسین کی قلت نہیں پولیو ورکرز کو تنخواہیں ادا کرنے کی ذمہ داری ڈبلیو ایچ او کی ہے کیونکہ یہ ادارہ صوبوں کی مدد سے یہ پروگرام چلا رہا ہے۔

پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اس مرض کے خاتمے کے لئے ہمیں بحیثیت قوم مل کر کام کرنا چاہیے ‘ ملک میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پولیو ورکرز نہیں جاسکتے۔ پولیو مہم کے راستے میں حائل مشکلات دور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کے تحت ہر رکن اسمبلی کو پولیو مہم کو موثر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پرویز ملک کے ای او بی آئی کی پنشنروں کے لئے حکومت کے کم سے کم پنشن کی حد میں اضافہ میں ناکامی سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ 1969ء کے ایکٹ کے تحت اس ادارے کے ذریعے کام ہو رہا تھا۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت یہ ادارہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ حکومت ایک بل تیار کر رہی ہے جس کے بعد مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اس ادارے کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہیں۔ 2021ء میں یہ فنڈز ختم ہو جائیں گے۔ وزارت خزانہ نے مالی امداد کے ضمن میں وزیراعظم کو سمری ارسال کردی انہوں نے کہا کہ ملک میں معمر افراد کی تعداد بہت بڑھ گئی اس حوالے سے کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ساٹھ دنوں میں رپورٹ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس کے بعد ہمارے بعض مسائل میں اضافہ ہوا ہے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ای او بی آئی 1976ء ایکٹ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے‘ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں رہا۔

جب تک مرکز کو دوبارہ اختیار نہیں ملے گا وفاقی حکومت کچھ کرنے سے قاصر رہے گی۔ وزیراعظم نے کمیٹی قائم کردی ہے اور حکومت اس معاملے کا مستقل حل سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ ادارہ بنا تھا اس وقت ریٹائرڈ لوگوں کی تعداد کم تھی اب یہ تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی تجاویز تیار کر رہی ہے جس کے بعد وزیراعظم فیصلہ کریں گے۔ ملک کے تمام اداروں کو اولڈ ایج بینیفٹ فنڈز میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ وہ بھی اس وزارت کے وزیر رہے ہیں‘ حکومت کی طرف سے ای او بی آئی کو کوئی فنڈ نہیں ملتا۔ اگر ملک کے صنعتکار چاہیں تو اس ادارے کی حالت بدل سکتی ہے۔ اس ادارے کی رجسٹریشن کی شرح 17 فیصد ہے 83 فیصد نہیں ۔ یہ ادارہ 2021ء میں ختم نہیں ہوگا۔

29/10/2014 - 17:01:47 :وقت اشاعت