بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں پہلی مرتبہ جنرل ہسپتال میں ڈی بی ایس کے ذریعے رعشہ اور پٹھو ں کے کھچاوٴ کی بیماری ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 01/11/2014 - 21:30:57 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 21:14:57 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 20:42:32 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 20:21:16 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 19:22:14 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 18:49:35 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 18:24:32 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 17:48:55 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 17:44:54 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 17:24:43 وقت اشاعت: 01/11/2014 - 16:57:01

پاکستان میں پہلی مرتبہ جنرل ہسپتال میں ڈی بی ایس کے ذریعے رعشہ اور پٹھو ں کے کھچاوٴ کی بیماری کا کامیاب آپریشن

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔یکم نومبر 2014ء) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈی بی ایس کے ذریعے (Deep Brain Stimulation) دماغ کے اندر توانائی پہنچا کر رعشہ اور پٹھوں کے کھچاوٴ کی بیماری کے علاج کے لیے لاہور جنرل ہسپتال میں دو کامیاب آپریشن کیے گئے ہیں۔

ضلع شیخوپورہ کے رہائشی19 سالہ شکیل احمد کے آپریشن کے اخراجات کے لیے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے فنڈز فراہم کیے۔یہ جدید آپریشن کرنے والے نوجوان پروفیسر آف نیورو سرجری ڈاکٹر خالد محمود نے امریکہ اور برطانیہ سے خصوصی تربیت حاصل کی ہے وہ آئندہ بھی جنرل ہسپتال میں ایسے مریضوں کا طبی معائنہ و علاج کریں گے ۔ہفتہ کے روز پروفیسر خالد محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے کہا کہ رعشہ، (پارکنسن (Parkinsonism اور پٹھوں کے کھچاوٴ میں مبتلا افراد کو علاج کے لیے بیرون ملک نہیں جانا پڑے گا بلکہ اس جدید آپریشن کی سہولت ایل جی ایچ میں دستیاب ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ علاج کافی مہنگا ہے، پاکستان میں بھی اس آپریشن پر تقریبا 20لاکھ روپے خرچ ہوں گے تاہم یہ رقم بیرون ممالک آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات کا تقریبا 20فیصد ہے جو ہمسایہ ملک بھارت میں اس آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات سے بھی کم ہیں جبکہ امریکہ، برطانیہ و دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ایسے مریضوں کو آپریشن کے لیے ایک کروڑ روپے تک اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اور یہ آپریشن چھ سے نو گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔

پروفیسر انجم حبیب وہرہ اور پروفیسر خالد محمود نے اس مرض کی علامات کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مریض کے بازو ، ہاتھ اور ٹانگیں کانپتی ہیں اور ٹانگوں میں کھچاوٴ بھی محسوس ہوتا ہے اور اگر مرض شدت اختیار کرجائے تو مریض ایک جگہ پر اپنا سر بھی قابو نہیں رکھ سکتا بلکہ سر مسلسل حرکت کرتا رہتا ہے اور ایسے مریضوں کا دوسروں پر انحصار ہوجاتا ہے اور اپنی بقایا زندگی معذوری کی حالت میں گزار دیتے ہیں۔

پروفیسر خالد محمود نے ڈی بی ایس سسٹم کے ذریعے آپریشن کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا کہ اس آپریشن میں مریض کے سر کے دونوں اطراف چھوٹا سا سوراخ کرکے باریک الیکٹروڈ لگادیئے جاتے ہیں جو ایک بیٹری کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔یہ بیٹری مریض کے سینے پر جلد کے نیچے پیوست کردی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بیٹری دل کے مریض کے سینے میں نصب پیس میکر کی طرز پر کام کرتی ہے۔

پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہاکہDBS کے آپریشن میں استعمال ہونے والے طبی آلات کے لئے حکومت پنجاب نے5 کروڑ روپے فراہم کئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں دور جدید کی طبی و تشخیصی سہولیات دستیاب ہو نے کی وجہ سے ملک بھر سے نیورو سرجری کے مریض لائے جاتے ہیں ۔ ٹریفک حادثات و دیگر دماغی امراض کے سالانہ 5ہزار سے زائد آپریشن کیے جاتے ہیں۔ مستقبل قریب میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کی تکمیل سے یہ خطے کی جدید علاج گاہ ہوگی۔ جہاں نوعمر بچوں سے لے کر بڑوں تک دماغی بیماریوں کا علاج و تشخیص کی سہولیات ایک چھت تلے دستیاب ہوں گی۔اس انسٹی ٹیوٹ کے مکمل ہونے پر نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور ریسرچ کے زیادہ مواقعے فراہم ہوں گے۔

01/11/2014 - 18:49:35 :وقت اشاعت