28سالہ سعودی شہری کا وزن 400کلوگرام تک پہنچ گیا،بسترسے اٹھنا ناممکن

28سالہ سعودی شہری کا وزن 400کلوگرام تک پہنچ گیا،بسترسے اٹھنا ناممکن

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3 نومبر 2014ء)اٹھائیس سالہ سعودی شہری آدم محمد عبدالحمید الجاسم کا وزن 400 کلوگرام تک پہنچ گیا ہے ۔ موٹاپے کی وجہ سے بستر سے اٹھنا بھی ممکن نہ رہا۔اپنے پاوں پر چلنا الجاسم کے لیے ایک خواب بن کر رہ گیا۔ علاج کے لیے شاہ عبدالعزیز تک جانا دوبھر ہونے سے علاج معالجہ بھی روک دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی قصبے الحفوف کا غربت زدہ رہائشی الجاسم پانچویں جماعت کے بعد سکول نہیں جا سکا۔

سکول چھوڑنے کے بعد وہ گھر ہی کا ہو کر گیا تو اسے موٹاپے نے آلیا۔ اب تک اس کا وزن 400 کلو گرام ہو چکا ہے۔اس غیر معمولی وزن نے اس کے روزمرہ کے معمولات کو بھی سخت مشکل سے دو چار کر دیا ہے، کیونکہ وہ اب آسانی سے چل سکتا ہے نہ بیٹھ سکتا ہے اس لیے بستر سے لگ کر رہ گیا ہے۔

(جاری ہے)

الجاسم جتنا موٹا ہے اس کا غربت کی وجہ گھر اسی قدر تنگی کا شکار یعنی صرف 40 مربع میٹر پر محیط ہے۔

مفلسی کے آئینہ دار اس گھر میں چوہوں اور کیڑوں مکوڑوں کی بھی یلغار رہتی ہے۔اپنی مفلسی کی وجہ سے الجاسم نے کوئی جم جوائن کیا ہے نہ ہی اپنی صحت کے پیش نظر کوئی سوشل انشورنس لے سکا ہے ۔ اس صورت حال میں وہ صرف بستر پر پڑا رہنے پر مجبور ہے۔الجاسم کے مطابق اپنے پاوں پر چلنا اب اس کا ایک خواب ہے کہ وہ کب بہتر ہو اور اپنے پاوں پر چلے ۔الجاسم کا کہنا ہے'' ایک رحم دل سعودی شہری باسم الغد یر میری مالی مدد کرتا ہے لیکن میری حالت جس قدر خراب ہے اس کے لیے مجھے اس سے کہیں زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے۔ الجاسم نے کہا کہ اب مجبورا میں نے شاہ عبدالعزیز نیشنل گارڈز ہسپتال سے اپنا علاج کرانا بھی بند کرا دیا ہے۔ کیونکہ میرے لیے تو اب ہسپتال پہنچنا ہی ممکن نہیں رہا ہے۔

Your Thoughts and Comments