بند کریں
صحت صحت کی خبریںانسانی حقوق سندھ کی لیگل ایڈکمیٹی کا جناح ہسپتال اورنجی فلاحی مرکز کا اچانک دورہ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2014 - 16:15:35 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 22:34:50 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 21:41:36 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 20:37:20 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 19:55:03 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 18:57:41 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 18:52:32 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 18:52:32 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 18:23:41 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 18:23:41 وقت اشاعت: 08/11/2014 - 17:51:08

انسانی حقوق سندھ کی لیگل ایڈکمیٹی کا جناح ہسپتال اورنجی فلاحی مرکز کا اچانک دورہ

کراچی(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 8نومبر 2014ء) وزیراعلی سندھ کی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق نادیہ گبول کی ہدایت پر محکمہ برائے انسانی حقوق کی لیگل ایڈکمیٹی نے جناح ہسپتال اور نجی فلاحی مرکز کااچانک دورہ کیا اورمتاثرہ مریضوں کے مسائل سن کرانھیں بروقت حل کرنے اور ان کو سہولیات دینے کے لیے تجاویز پیش کیں جووزیرصحت سمیت وزیراعلی سندھ کوبھی پیش کی جائے گی۔

وزیراعلی سندھ کی کوآرڈینیٹر برائے انسانی حقوق نادیہ گبول کی ہدایت پرسندھ کے عوام کوان کی دہلیزپرسہولیات پہنچانے کے لیے محکمہ انسانی حقوق سندھ کراچی کی قانون دانوں اورافسران پرمشتمل چھ رکنی لیگل ایڈکمیٹی نے جناح ہسپتال کے مختلف اداروں،ایمرجنسی،ادویات اورہڈیوں کے وارڈز اور کراچی میں واقع ایک نجی فلاحی مرکز کااچانک دورہ کیا اوروہاں موجود مریضوں کو ورپیش مسائل اور ان کے بروقت تدارک کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں جو کوآرڈینیٹروزیرصحت اوروزیراعلی سندھ کوپیش کریں گی۔

کمیٹی کوجناح ہسپتال میں مریضوں نے بتایا کہ یہاں بستروں اورادویات کی دستیابی زیادہ بڑامسئلہ ہے جبکہ ڈاکٹرزبھی وقت پر دستیاب نہیں ہوتے،مریضوں نے شکایت کی کہ جناح ہسپتال میں کوئی صفائی ستھرائی کا انتظام نہیں جبکہ انتظامیہ کا رویہ بھی مریضوں کے ساتھ دوستانہ نہیں۔کمیٹی نے اپنی سفارشات میں بتایا کہ دوردراز سے آنے والے مریضوں کے لواحقین بے یارومددگارہسپتال میں گھومتے رہتے ہیں جبکہ مریضوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔

اس موقع پرکمیٹی نے جناح اسپتال میں موجود ڈاکٹروں اورعملے سے بھی ملاقات کی اور مریضوں کودرپیش مسائل حل کرنے کے لیے تجاویز دیں۔بعدازاں کمیٹی نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع نجی فلاحی مرکزاولڈایج ہوم کا بھی اچانک دورہ کیا اور وہاں کے انتظامات کاباریک بینی سے جائزہ لیا۔اس موقع پر ادارے کی ٹرسٹی فاطمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے پاس جگہ کم اور مریض زیادہ ہیں جبکہ ان کا ادارہ لوگوں کی زکوت خیرات سے اپنے اخراجات برداشت کرتا ہے۔

کمیٹی نے نجی فلاحی مرکز میں موجودضعیف خواتین سے بھی بات کی اوران سے مسائل دریافت کیے۔کمیٹی نے دونوں دوروں کی مجموعی رپورٹ وزیرسندھ کی کوآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق کو سفارشات کے ساتھ جمع کرادی ہے جو جلد وزیرصحت سمیت وزیراعلی سندھ کو پیش کی جائے گی۔

08/11/2014 - 18:57:41 :وقت اشاعت