بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں پولیو کی صورتحال پریشان کن ہے ‘ امریکی ماہرین

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2014 - 15:38:24 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 15:36:33 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 14:59:39 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 14:46:43 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 14:38:48 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 13:46:12 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 12:09:07 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 11:47:37 وقت اشاعت: 15/11/2014 - 10:58:00 وقت اشاعت: 14/11/2014 - 23:17:16 وقت اشاعت: 14/11/2014 - 22:03:06

پاکستان میں پولیو کی صورتحال پریشان کن ہے ‘ امریکی ماہرین

نیویارک (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 15نومبر 2014ء)امریکہ کی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول یا امراض پر قابو پانے کے مرکز کے ماہرین نے کہا ہے کہ اقوامِ عالم پہلی دفعہ پولیو کے مرض کو شکست دینے والی ہے ‘ پاکستان میں پولیو کے حوالے سے صورتِ حال پریشان کن ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکن سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے کہا کہ پولیو کے مرض کو عالمی سطح پر ختم کرنے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا ہے۔

مرکز کے ماہرین کے خیال میں پولیو کے وائرسز کے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے ذریعے ختم کیا گیا پولیو کی تیسری خطرناک قسم کے وائرس ٹائپ تھری گذشتہ دو سالوں میں کہیں پر بھی نہیں ملے ہیں۔ ٹائپ ٹو وائرس کو سنہ 1999 میں ختم کیا گیا تھا پولیو ایک خطرناک مرض ہے اور اس سے 200 میں سے ایک بچہ اپاہج ہو جاتا ہے جبکہ بعض بچے اس سے مر بھی جاتے ہیں۔

لیکن اس پر قابو پانے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے۔پولیو کے کیسز 1988 میں ساڑھے تین لاکھ تھے جو 2013 تک کم ہو کر 416 رہ گئے تھے۔سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق تیسری قسم کے وائرس کا آخری کیس نومبر 2012 میں پاکستان میں سامنے آیا تھا۔سی ڈی سی کے گلوبل ہیلتھ کے سینیئر مشیر ڈاکٹر سٹیفین کوچی نے کہا کہ ہم نے تیسری قسم کے دوسرے وائرس کو ختم کیا ہوگا، یہ ایک بہت بڑا سنگ میل ہے تاہم ٹائپ تھری وائرس کے ختم ہونے کا سرکاری طور پر اعلان کرنے کیلئے ایک طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے جس میں پولیو گوبل سرٹیفیکیشن کمیشن کو شامل کرنا پڑتا ہے اور اس پر تقربیاًایک سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے پولیو کا ٹائپ ون یا پہلی قسم کا وائرس پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں باقاعدگی سے سامنے آتا ہے۔

ڈاکٹر سٹیفین نے بتایا کہ یہ سب سے زیادہ چبھنے والا ہے یہ وائرس سب سے زیادہ پولیو کی وبا کا باعث بنتا ہے اور اس کی وجہ سے بچے آپاہج کرنے والی پولیو مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ڈاکٹر سٹیفین نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں صورتِ حال ہے پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے صرف 59 کیسز تھے اور سنہ 2014 میں یہ 236 تک پہنچ گئے ہیں اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر کوچی کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے اچھی خبر یہ ہے کہ اب ان علاقوں کے بچے پناہ گزین کیمپوں میں دستیاب ہیں جہاں انھیں پولیو سے نجات کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے تاہم اس کے ساتھ بری خبر یہ ہے کہ پولیو کا وائرس اس کے ساتھ پورے ملک میں پھیل گیا اور پنجاب اور کراچی سے پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے دوسرے ممالک میں بھی وائرس کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔



15/11/2014 - 13:46:12 :وقت اشاعت