بند کریں
صحت صحت کی خبریںملک بھر میں قیامت خیز گرمی، 37 افراد ہلاک، سینکڑوں بیمار و بے ہوش، ہسپتال مریضوں سے بھر گئے،گرمی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2007 - 12:57:18 وقت اشاعت: 14/06/2007 - 19:53:32 وقت اشاعت: 13/06/2007 - 16:04:52 وقت اشاعت: 13/06/2007 - 13:06:27 وقت اشاعت: 12/06/2007 - 23:30:41 وقت اشاعت: 10/06/2007 - 23:31:20 وقت اشاعت: 10/06/2007 - 19:53:10 وقت اشاعت: 10/06/2007 - 19:51:17 وقت اشاعت: 09/06/2007 - 22:59:34 وقت اشاعت: 09/06/2007 - 14:30:16 وقت اشاعت: 05/06/2007 - 19:26:00

ملک بھر میں قیامت خیز گرمی، 37 افراد ہلاک، سینکڑوں بیمار و بے ہوش، ہسپتال مریضوں سے بھر گئے،گرمی کے باوجود لوڈشیڈنگ ، عوام کا شدید احتجاج، لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ،گرمی کی شدید لہر آئندہ تین سے چار دن تک رہ سکتی ہے، محکمہ موسمیات،پاکستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا۔اپ ڈیٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10جون۔ 2007ء) پاکستان قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ دو روز کے دوران 37 افراد ہلاک اور سینکڑوں بے ہوش، گیسٹرو اور سن سٹروک کا شکار ہو چکے ہیں اور ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں، پاکستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شدید گرمی کی حالیہ لہر آئندہ تین سے چار روز تک جاری رہے گی لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دو روز سے ملک کے کئی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جس کے نتیجے میں 37 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں بے ہوش اور سن سٹروک کا شکار ہوگئے۔ پنجا ب بھر میں شدید گرمی کے باعث 26 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اتوار کو وزارت صحت حکام کے مطابق صوبے بھر میں شدید گرمی جاری ہے اورگزشتہ روز 9جون پنجاب کی تاریخ میں موسم کا گرم ترین دن تھا۔

حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران شدید گرمی نے 26 لوگوں کی جانب لے لی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کو لا ہور میں درجہ حرارت48درجے سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیااس طرح یہاں گرمی کا77سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیاجبکہ گرمی کی شدت بڑھتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔شدید گرمی کے باعث لاہور میں6افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد کولو لگنے یاتپش کے باعث اسپتالوں میں داخل کریا جا رہا ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے گرمی کی شدید لہر اگلے ہفتہ بھر بھی مزید جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال ملک بھر میں گرمی کی شدت سے 80افراد ہلاک ہوئے تھے۔جبکہ سال2003میں شدید گرم موسم میں230افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔جبکہ پنجاب کی تاریخ میں 9 جون 78 سالہ تاریخ میں گرم ترین دن رہا۔ اتوار کو بھی ملک کے بیشتر علاقے شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں رہے۔

میانوالی میں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو 77 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ شدید ترین گرمی سے محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر مزید چند روز تک جاری رہے گی۔ شدید گرمی کے باعث اوکاڑہ میں پچاس سالہ خاتون نذیراں بی بی ، تین سالہ منیر احمد ، شیر علی ، مجید اور صابر ، شور کوٹ میں محمد رمضان ، کوٹ مومن میں غلام محمد نامی شخص ، ایک نامعلوم نوجوان، مسز ملک دین محمد ، سرگودھا میں اجنالہ روڈ کا رہائشی اللہ دتہ ، چک 46 کا محمد امیر ، محمد اشرف بیگوال کارہائشی عبداللہ اور لاہور میں ایک نامعلوم راہگیر گرمی کی شدت کے باعث ہلاک ہو گئے جبکہ پنجاب بھر میں درجنوں افراد گرمی تپش اور لو لگنے سے بے ہوش ہو گئے مریدکے میں قیامت خیز گرمی کے باعث دو افراد حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق ہوگئے جبکہ درجنوں افراد بے ہوش ہوگئے گلیاں اوربازار سنسان رہے۔

جبکہ صوبہ سرحد کے علاقے بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں پشاور میں گرمی نے گزشتہ 10 سالہ ریکارڈ توڑ دیا اور اس حوالے سے جنوبی اضلاع میں درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ رہا۔ گرمی کی شدت سے بچنے کیلئے دریاؤں اور نہروں کا رخ کرلیا جبکہ شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ سے کئی لوگ بیمار ہوگئے اور ہسپتال بیماروں سے بھر گئے جبکہ ان دنوں میں گیسٹرو اور سن سٹروک کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ہسپتال ایسے مریضوں سے بھر گئے ہیں شدید گرمی کے باعث سڑکیں، بازار اور گلیاں سنسان رہیں اور لوگ سائے ڈھونڈتے رہے جبکہ لوگوں نے مشروبات کا استعمال بڑھا لیا۔

ہری پور میں قیامت خیز گرمی سے 4 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں بے ہوش ہوگئے۔ گرمی کے باعث پہاڑی یونین کونسلوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ ضلع بھر سے موصول اطلاعات کے مطابق شدید گرمی کے نتیجہ میں 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں دو عورتیں بھی شامل ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے بازار ویران ہوگئے ہیں ، سڑکوں پر ٹریفک بھی کم ہے جبکہ مختلف یونین کونسلوں میں پانی کی قلت کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔

پنجاب اور سرحد کی طرح سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے گرمی کی شدید لپیٹ میں ہیں۔ کراچی میں صبح دس بجے درجہ حرارت 33 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا جو دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا دوسری طرف شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ آٹھ سے دس گھنٹے تک پہنچ گیا ہے لاڑکانہ میں درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ حیدر آباد میں 451 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

گزشتہ روز سب سے زیادہ گرمی سبی میں پڑی جہاں درجہ حرارت 52 درجے سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ دوسری جانب شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس حوالے سے دل اور بلڈپریشر کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ملک بھر کے کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ پر لوگوں نے واپڈا کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کئے اور شدید نعرہ بازی کی اور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ گرمی کی شدید لہر آئندہ تین سے چار روز تک جاری رہے گی اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ گرمی سے بچنے کیلئے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ جبکہ آزاد کشمیر کے کئی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے جس سے کئی افراد کے بے ہوش ہونے کی اطلاع ہے۔
10/06/2007 - 23:31:20 :وقت اشاعت