بند کریں
صحت صحت کی خبریں آبی وسائل کو مربوط کئے بغیر انکی حیات کی بقاء ممکن نہیں، بھارت سے پانی واگزار کرائے بغیر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:33:22 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:32:40 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:27:26 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:20:05 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:17:36 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:17:36 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 17:05:15 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 16:37:42 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 16:12:21 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 14:54:00 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 13:32:44

آبی وسائل کو مربوط کئے بغیر انکی حیات کی بقاء ممکن نہیں، بھارت سے پانی واگزار کرائے بغیر بھارت کیساتھ پائیدار دوستی نہیں ہوسکتی، پانڈ ایریا کو ختم کرنا لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے،پینے کے صاف پانی کے بغیر انسانی صحت کا برقرار رہنا مشکل ہے، پانی کی کمی اور فراوانی دونوں صورتوں میں نقصان دہ ہے جس سے محفوظ رہنے کے لئے پانی پر قابو پانا بے حدضروری ہے،مقررین کاتقریب سے خطاب

` بہاولپور (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 17نومبر 2014ء)مقررین نے کہا کہ آبی وسائل کو مربوط کئے بغیر انکی حیات کی بقاء ممکن نہیں، بھارت سے پانی واگزار کرائے بغیر بھارت کیساتھ پائیدار دوستی نہیں ہوسکتی۔ بہاولپور کے علاقے میں پانڈ ایریا کو ختم کرنا لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پینے کے صاف پانی کے بغیر انسانی صحت کا برقرار رہنا مشکل ہے پانی کی کمی اور فراوانی دونوں صورتوں میں نقصان دہ ہے جس سے محفوظ رہنے کے لئے پانی پر قابو پانا بے حدضروری ہے ان خیالات کا اظہار چولستان ڈویلپمنٹ کونسل آف پاکستان اور آبی وسائل کے مربوط نظام کے لئے کوشاں تنظیم پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کئے جانے کی تقریب کے موقع پر مقررین نے اپنے الگ الگ خطاب میں کیں۔

پاکستان واٹر پارٹنر شپ تنظیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویز امیر نے بتایا کہ ان کی تنظیم کو پاکستان کے اعلی ترین آبی ماہرین کی معاونت حاصل ہے جو پانی کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ایریا واٹر پارٹنر شپ کے تحت بلوچستان اور سندھ میں کام پہلے سے جاری ہے جبکہ پنجاب میں چولستان ڈویلپمنٹ کونس پہلی تنظیم ہے جن کے ساتھ کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں142ملین ایکٹر فٹ پانی دستیاب ہے جس کا صرف 12.6فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں 750ملین ایکڑ فٹ پانی پایا جاتا ہے جس میں سے 278 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کیا جاتا ہے۔ جو قومیں پانی پر کنٹرول کرتی ہیں وہی دوسری قوموں پر حاوی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں پانی کی خراب صورت حال کا موسم پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران عالمی سطح پر پاکستان میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا 2010میں پاکستان نے 55ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کیا جسکی قیمت 55ارب امریکی ڈالرز بنتی ہے جبکہ پاکستان کا قل قرضہ 62ملین ڈالر بنتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین میں امدادی رقوم کی تقسیم وسائل کا ضیاع ہے رقم کو آبی وسائل پر قابو پانے کے لئے خرچ ہونا چاہیے ۔ دریائے جہلم کا پانی تھل و چولستان سے گزارا جائے۔ پاکستانی صحراء بھی گل و گلزار بن سکتے ہیں ۔ پاکستان کا مسئلہ انرجی کی بجائے پانی پر کنٹرول پانا ہے ۔ پانی کی صحیح نگہداشت بہت ضروری ہے۔ معروف دانشور اور کالم نگار ملک حبیب اللہ بھٹہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے اس علاقہ کے دریا بیچ ڈالے جسکی وجہ سے لوگوں کو پانی کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے اور زیر زمین پانی میں آرسینک کی مقدا ر میں خطرناک حد تک اضافے سے حیات کو خطرات لاحق ہیں پروفیسر ڈاکٹر خواجہ ہارون خورشید پاشا پرنسپل قائد اعظم میڈیکل کالج نے تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان واٹر پارٹنر شپ ایسا ادارہ نہیں جسکے پاس انفراسٹرکچر نہ ہو بلکہ یہ بہت اہم ادرہ ہے جو کہ عوام الناس کے اندر پانی کے متعلق اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جو قابل تحسین ہے ۔

پاکستانی عوام اس مسئلہ کو مہنگائی سے بڑا مسئلہ سمجھ کر اٹھیں اور اس کے حل کے لیے ارباب اختیار کی توجہ دلوائیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ یہ انسانیت اور پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے ۔اور آئندہ چند سالوں میں پانی ایک بہت بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے والا ہے ۔ڈاکٹر منیر اظہرچوھدری نے پانی کی اہمیت پہ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جسم میں 60فیصد پانی ہے ۔

ہمارے جسم کے تمام خلیوں اور اعصاب کا دارومدار پانی پر ہے اس میں سب سے اہم چیز اس کا صاف اور شفاف ہونا ہے اگر وہی پانی آلودہ ہو جائے تو جسم کا صحت مند رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات میں پانی کی کمی پر اور اس میں آرسینک کی زیادتی پر آواز نہ اٹھائی گئی یا کوئی اقدام نہ کئے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں اس مسئلہ کا زمہ دار ٹھہرائیں گی ۔

فاروق احمد خان ایگزیکٹو ڈائریکٹر چولستان ڈویلپمنٹ کونسل آف پاکستان نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی زندگی ہے اور زندگی کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں پانی کے ضیاع کو روکنا اور صاف پانی کے استمال کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہئیے۔تاکہ آنے والی نسلیں صحت مندانہ زندگی بسر کر سکیں۔انہوں نے پی ڈبلیو پی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سی ڈی سی کے ساتھ مل کر اتنے اہم موضوع پر بہاول پور میں کام شروع کیا ہے۔ بعد ازاں سی ڈی سی اور پی ڈبلیو پی کے مابین مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کئے گئے۔



17/11/2014 - 17:17:36 :وقت اشاعت