بند کریں
صحت صحت کی خبریںخیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال طرز پر صوبے کے چھ ڈویژنل شہروں کے بڑے ہسپتالوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:16:42 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:16:30 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:13:58 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:12:34 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:04:14 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:04:14 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 22:01:33 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 21:42:33 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 21:40:43 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 21:17:01 وقت اشاعت: 17/11/2014 - 20:33:19

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال طرز پر صوبے کے چھ ڈویژنل شہروں کے بڑے ہسپتالوں کو ٹیچنگ ہسپتالوں کا درجہ دینے اور انہیں تمام مطلوبہ سہولیات، آلات اور طبی عملے سے آراستہ کرنے کا اعلان

پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17نومبر 2014ء )خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی طرز پر صوبے کے باقی چھ ڈویژنل شہروں کے بڑے ہسپتالوں کو بھی ٹیچنگ ہسپتالوں کا درجہ دینے اور انہیں تمام مطلوبہ سہولیات، آلات اور طبی عملے سے آراستہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس ضمن میں فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے انہوں نے واضح کیا کہ اس ضمن میں فنڈز کی کمی آڑے نہیں آنے دی جائیگی تاہم متعلقہ حکام بھی اپنا فرض پوری جانفشانی سے ادا کریں ہم نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی اسی بنیاد پر نافذ کی ہے کہ ضروری قانون سازی کے بعد اس ضمن میں نتیجہ خیز اقدامات ہوں اور عوام کوان سے حقیقی معنوں میں مستفید بھی کیا جائے انہوں نے اس مقصدکیلئے وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں پر مشتمل اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دینے اور اسے اپنا کام تیزی سے نمٹانے کی ہدایت کی اور کہا کہ محکمہ صحت کے حکام کا فرض ہے کہ اس اہم ہدف کے حصول کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں اور یہ بات یقینی بنائیں کہ آئندہ سوات، چترال، شانگلہ، دیر ،ڈیرہ ، بنوں ، کوہاٹ اور لکی مروت سمیت صوبے کے کسی بھی دور افتادہ شمالی یا جنوبی حصے سے کسی مریض کو اپنے سنگین یا پیچیدہ مرض کے علاج کیلئے پشاور آنے کی ضرورت نہ پڑے اورعلاج کی یہ تمام سہولیات متعلقہ ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں اُسے زیادہ بہتر انداز میں مہیا ہوں اگر ہمارے چند ہزار ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل ملازمین اپنی ڈیوٹی جانفشانی سے انجام دیں تو صوبے کے کونے کونے کے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں آنے والے 5 لاکھ سے بھی زائد مریضوں کی شکایات ختم ہو جائیں گی اور انہیں مایوس گھر نہیں لوٹنا پڑے گا بلکہ وہ شفایابی کے احساس کیساتھ سب کو دعائیں دینگے اور شاید یہ معاشرے میں امراض کی کمی کا باعث بھی بنے انہوں نے کہا کہ علاج میں غفلت بھی ایک سنگین جرم ہے اور اسکی اتنی ہی سخت سزا بھی ہونی چاہیئے اسی طرح انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں طبی عملے کی حاضری نیز عطائی ڈاکٹروں اور جعلی ادویات کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے اب بعض سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں کیونکہ عوام نے کرپٹ نظام کے خاتمے اور بہتر تبدیلیوں کی اُمید پر ہمیں ووٹ دیا ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچنے دینگے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے کرپشن کے خاتمے اورقانون، میرٹ اور انصاف کی بالادستی کیلئے کام کیا اور جامع قوانین بنائے اب ان پر عمل درآمد کے علاوہ عوام کو محفوظ اور خوشحال معاشرے کے قیام کا احساس دلانا ضروری ہے جس کیلئے تمام محکموں کے وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں شبانہ روز محنت کرکے اہداف کا حصول یقینی بنانا ہو گا وہ سول سیکرٹریٹ کے کیبنٹ روم میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے وزراء کے علاوہ چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے بھرپور تعداد میں شرکت کی اجلاس میں عوامی فلاح و بہبود کے اُمور اور قوانین کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیااور ضروری فیصلے کئے گئے وزیر اعلیٰ نے محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اوردیگر تمام شعبوں کے سربراہوں پر زور دیا کہ وہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور دو نمبر اشیاء کی تیاری کی موثر حوصلہ شکنی کیلئے بھی قوانین کو جامع بنائیں اور ان پر سختی سے عمل درآمدکریں انہوں نے ایڈہاک ڈاکٹروں اور دیگر ایڈہاک ملازمین کی ریگولرائزیشن سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایڈہاک ازم قصہ پارینہ بن چکا ہے اب حکومت کا ہر کام وسیع تر قومی مفاد میں مستقل بنیادوں پر باقاعدہ قانون سازی کے تحت ہونا ضروری ہے نہ کہ اسکی آڑ میں کرپشن اور اقرباء پروری کو فروغ دیا جائے معاشرے میں انصاف ہو گا تو ہم ترقی کرینگے انہوں نے کہا ہم کسی بھی قیمت پر عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور انکی توقعات اور آرزؤں کی تکمیل یقینی بنائیں گے انہوں نے حکام کو حکومتی قوانین اور اقدامات میں ہر قسم کا ابہام ختم کرنے کی ہدایت بھی کی پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارے اقدامات کا مقصد غریب عوام کو سہولیات کی فراہمی ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کا شک و شبہ عوامی مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے انہوں نے پشاور کے ساتھ ساتھ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز، شہروں وقصبوں کی تعمیر وترقی اور خوبصورتی کیلئے اقدامات کی ہدایت بھی کی اجلاس میں محکمہ جنگلات کے تحت مزید شجرکاری کرنے ،شاہراہوں کو زیادہ پرکشش بنانے ، جنگلات کی سائنٹیفک منیجمنٹ، بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ اور ریڈ وکاربن پلس پروگرام کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ۔

17/11/2014 - 22:04:14 :وقت اشاعت