بند کریں
صحت صحت کی خبریں بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی حرج نہیں اس سے پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/11/2014 - 23:45:30 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 21:59:40 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:54:05 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:51:31 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:48:11 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:46:08 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:43:42 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:39:50 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:29:49 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:14:09 وقت اشاعت: 18/11/2014 - 20:14:09

بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی حرج نہیں اس سے پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے ، ڈاکٹرز

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 18نومبر 2014ء) سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان ارشد حسین بگٹی اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ماہر چائلڈ اسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن ،پروفیسر ڈاکٹر عائشہ مہناز ،ڈاکٹر مرزا اظہر ،ڈاکٹر سہیل اختر ،پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن بلوچستان کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے پلانے میں کوئی حرج نہیں اس سے بچوں میں پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے مسلم ممالک کے جید علماء کرام نے پولیو ویکسین کے حق میں فتویٰ دیا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ ترین ویکسین ہے تمام مسلم ممالک اسی ویکسین کے ذریعے پولیو کو ختم کرچکے ہیں جبکہ پاکستان ،افغانستان اور نائیجیریا مسلم ممالک میں پولیو وائرس معصوم بچوں کو زندگی بھر کیلئے اپاہج بنارہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں محکمہ صحت کے زیر اہتمام اور یونیسف کے تعاون پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی معاونت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا مقررین نے پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکہ جات کی افادیت کے بارے اور قطرے پلانے کے مثبت اثرات پر روشنی ڈالی پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین انتہائی موئثر ویکسین ہے اور بچوں کو جتنی بار بھی پولیو ویکسین پلائی جائے تو اس کے کوئی مضر اثرات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو والدین بچوں کو بار بار پولیو کے قطرے پلائے جانے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں تو وہ ایسے خیالات ذہن سے نکال دیں اور بچوں کو ویکسین پلانے سے محروم نہ رکھیں۔ کیونکہ پولیو وائرس جتنی تیزی سے پھیل رہا ہے بچوں میں قوت مدافعت پیدا کرنے کے لیے زیادہ ویکسینیشن کی ضرورت ہے اس موقع پر ڈاکٹر عائشہ مہناز نے روٹین امیونائزیشن یا حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو پیدائش کے بعد حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس لازمی مکمل کروایا جائے کیونکہ اس سے بچے نمونیا، ٹی بی، خسرہ، تشنج، پولیو، خناق، کالی کھانسی، ہیپاٹائٹس اور گردن توڑ بخار کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تقریب میں دیگر مقررین نے بھی پولیو ویکسین کو محفوظ ترین ویکسین قراردیتے ہوئے کہا کہ تمام مسلم ممالک کے جید علماء کرام پولیو ویکسین کے حق میں فتویٰ دے چکے ہیں۔

اور پولیو تمام مسلم ممالک سے اسی پولیو ویکسین کے ذریعے ختم ہو چکا ہے ، صرف پاکستان ، افغانستان اور نائجیریا وہ مسلم ممالک ہیں جہاں اب تک پولیو معصوم بچوں کو زندگی بھر کے لیے اپاہج بنارہا ہے مقررین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز معاشرے میں معتبر اورانسانیت کے مسیحا سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں اور جو بھی والدین اپنے بچوں کے علاج کے لیے آتے ہیں تو انہیں پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے پر ضرور آمادہ کریں کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے بہتر مستقبل کا سوال ہے پولیو ویکسین پلا کر پولیو وائرس کو اپنے ملک سے ختم کرکے بچوں کے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے بچوں اور ملک کے مستقبل کے معمار ہیں ۔

18/11/2014 - 20:46:08 :وقت اشاعت