بند کریں
صحت صحت کی خبریںپولیو کے معاملے میں عالمی برادری پابندی کی باتیں کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ ہمدردانہ طرز عمل ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/11/2014 - 12:46:50 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 23:31:52 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 23:31:52 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 23:21:16 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 22:50:02 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 22:28:08 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 22:19:52 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 21:32:41 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 21:32:41 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 21:20:00 وقت اشاعت: 20/11/2014 - 21:20:00

پولیو کے معاملے میں عالمی برادری پابندی کی باتیں کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ ہمدردانہ طرز عمل اختیار کرے ‘ صدر مملکت،

پولیو کیخلاف قبائلیوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کر دی گئیں ،بنیادی وجہ وہ جنگ ہے جو ہماری نہیں تھی ،تمام نقصانات ہمیں اٹھانا پڑے ، , تین پہلو ؤں کو نظر انداز کرنے کانتیجہ تھر سانحہ کی صورت میں سامنے آیا ‘سید ممنو ن حسین کا عالمی کانفرنس سے خطاب

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20نومبر 2014ء)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پولیو کیخلاف قبائلیوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں ،اسکی بنیادی وجہ وہ جنگ ہے جو ہماری جنگ نہیں تھی لیکن اسکے تمام نقصانات ہمیں اٹھانا پڑے ، عالمی برادری کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ پابندی کی باتیں کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ ہمدردانہ طرز عمل اختیار کرے ،تین پہلو ؤں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تھر سانحہ کی صورت میں سامنے آیا ہے ،ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے ہمیں اقتصادی راہداری کے منصوبہ سے استفادہ کرنا چاہیے اس میں شامل منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے مقامی ہوٹل میں بچوں کے علاج کے بارے میں انٹرنیشنل پیڈیاٹرک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ میرے لئے یہ امر نہایت خوشگوارہے کہ آج ہم اس کانفرنس میں اپنی نئی نسل کے صحت کے معاملات پر غورو فکر کر رہے ہیں۔ ہمارے بچے جتنے صحتمند ،جتنے مضبوط اور جتنے توانا ہوں گے ہمارا قومی مستقبل بھی اتنا صحتمند ،مضبو ط اور توانا ہوگا ۔

اس موضوع پرگفتگوجتنی باعث اطمینان ہے اتنی ہی تکلیف دہ بھی ہے کیونکہ ہم نے قومی سطح پر اپنی نئی نسل کے بارے میں ایک اعتبار سے غیر منصفانہ طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے ۔ اس موضوع پر عالمی کانفرنس کا انعقاد امید کی ایک کرن ہے جسکے لئے پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن مبارکباد کی مستحق ہے ۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ اس کانفرنس کے ذریعے ہمارے ماہرین عالمی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسی قومی حکمت عملی مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں ایک ایسی قوم جسکے نتیجے میں ہم اپنی نسل کو زیادہ بہتر طریقے سے پروان چڑھا سکیں گے ۔

اس سلسلہ میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف دیگر اداروں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے لیکن میں یہ ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں اب بھی کئی شعبے ایسے ہیں جن میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس اجتماع میں بچوں کے ذہنی و جسمانی صحت او رانکے حقوق کے تعلق سے کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگلے دو ر روز کے دوران آپ ان نکات پر مزید غورو فکر کرینگے کلہ یہ مشق یقینی طو رپر ایک اچھے فیصلے کی طرف سے گامزن کرنے میں مدد گا ثابت ہو گی ۔

ان بچوں کے بارے میں سوچیں جو گزشتہ ایک ،ڈیڑھ دہائی سے انتہا پسندی ‘تشدد اور اسکے نتیجے میں جنم لینے والی خونریزی کا شکار ہو کر ذہنی اور جسمانی طو رپرمتاثر ہوئے ہیں۔ میں آپ کی توجہ ان بچوں کی طرف بھی مبذول کرانا چاہوں گا جو دور درازعلاقوں میں رہتے ہیں اور آپ جیسے ماہرین کی توجہ سے محروم رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس طرح کے بچوں کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہیں تو اسی معاشرے کا حصہ بلکہ بد قسمتی سے ایسے حالات کا شکار ہو گئے ہیں جن کے بارے میں سوچ کر ذہن پریشان ہو جاتا ہے ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ معاشرے کے ان فرزندوں کے بارے میں آپ کا طرز عمل ہمدردانہ نہیں ہے یا محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے یہ بچے آپکے سامنے لائے جائیں تو آپ انکی مدد نہیں کریں گے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کوئی ایسا انتظام موجود نہیں جسکے ذریعے بچے ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں جن سے ہمارے اور آپکے بچے مستفید ہوتے ہیں۔ ایسے کام حکومتیں کیا کرتی ہیں لیکن اس امر میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ زندہ معاشروں میں اس طرح کے اقدام معاشرے کے ذمہ دار ادارے بھی سر انجام دیتے ہیں۔

یہ پاکستانی معاشرے کی خوبی ہے کہ کسی قدرت آفت یا ہنگامی صورتحال میں لوگ رضاکارانہ متحرک ہو جاتے ہیں یہ اچھی بات ہے لیکن اس سے بھی بہتر یہ ہوگا کہ ہم اپنی اس درد مندی کو ایک قومی تحریک کی شکل دیں تاکہ ان مسائل کے مستقل حل کی صورت بن سکے ۔ ہمارے معاشرے میں بچوں کی بیماریان پھیلنے اور انکی شرح اموات میں اضافے کی وجہ ماؤں او راہل خانہ کی طبی اصولوں سے ناواقفیت بھی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے بیماریاں وباؤں کی شکل اختیار کر کے قابو سے باہر ہو جاتی ہے یہ ایسی بیماریاں ہیں جن سے ابتداء میں احتیاط کر کے بچا جا سکتاہے اور آگاہی مہمات چلا کر ہم یہ کام بہت آسان طریقے سے سر انجام دے سکتے ہیں۔ ہماری حکومتیں اور ادارے اس سے غافل نہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے ذمہ دار ادارے اس سلسلہ میں پیشرفت کریں تاکہ ہمارے پسماندہ علاقوں میں صحت عامہ کے اصولوں کے بارے میں عام آدمی کی معلومات میں اضافہ ہو سکے ۔

اس امر کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ بچوں کی صحت کے بارے میں مختلف اداروں کی طرف سے چلائی جانے والی بیشتر مہمات غیر ملکی یا غیر مقامی زبان میں ہوتی ہیں اگرقومی یا مقامی زبان کا استعمال کیا جائے تو اسے اتنا پیچیدہ اور ٹیکنکل بنا دیا جاتا ہے کہ عام آدمی کے لئے اس کا مفہوم سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ ڈاکٹرز حضرات اپنا کردا رادا کریں اور دوا ساز ادارں پر بھی زور دیں کہ صحت عامہ خاص طو رپر بچوں کی صحت کے بارے میں مہمات سادہ اور عام فہم میں چلایا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کے مرض نے ہمارے بچوں کے مستقبل کو ہی مخدوش نہیں بنا دیا بلکہ اس نے بین الاقوامی سطح پرہماے ملک کی ساکھ کو بھی نقصا پہنچایا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیو سے متاثرہ علاقوں میں مشنری جذبے سے کام کیا جائے ۔اس سلسلہ میں حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طبی عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہوں گا معاشرے میں ایسی ساکھ ہونی چاہیے کہ آپ کو سکیورٹی کی ضرورت ہی نہ رہے ۔

ہمیں غیر ملکی وفود کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ پولیو کے خلاف قبائلیوں کے ذہنوں میں غلط فہمی پیدا کر دی گئی ہے اسکی بنیادی وجہ وہ جنگ ہے جو افغانستان میں مسلط کر دی گئی جو ہماری جنگ نہیں تھی لیکن اسکے تمام نقصان ہمیں اٹھانا پڑے ہیں ۔جب کبھی عالمی برادری پابندی کی بات کرتی ہے تو دنیا بھر کے لوگوں کو خاص طور پر میڈیکل کے لوگوں کوانہیں سمجھانا چاہیے کہ یہ ہماری وجہ سے نہیں ہوا بلکہ ہمیں تو نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔

یہ ہمارے بچے ہیں ہم انہیں کیوں پولیو کے قطرے نہیں پلائیں گے ۔ بیرون ممالک سے آنے والے ڈاکٹرز اور ماہرین امراض اطفال واپس جا کر اپنی اپنی حکومتوں اوراداروں کو بتائیں پولیو کے پھیلاؤکا ذمہ داری پاکستان نہیں بلکہ وہ حالات اورعوامل ہیں جسکی وجہ سے خطے میں خون ریزی کا سلسلہ شروع ہوا ۔پاکستان میں پولیو کے خلاف مہمات میں مشکلات پیدا ہوئیں اس لئے بیرونی دنیا کوپاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے کی بجائے ہمدردانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے ۔

میں سمجھتا ہوں کہ کانفرنس کے شرکاء اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہر صاحب دل اس پر پریشان ہے ،ان حالات میں فلاحی او رطبی ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اورانکی سرگرمیاں قابل تعریف ہیں ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تین پہلو نظر انداز ہو گئے ہیں پہلا او ربنیادی پہلو طبی امداد کا طرز عمل ہے ،ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکل سٹاف کے دیہات میں کام نہ کرنے کی خواہش نے ایک ایسا عدم توان پیدا کر دیا ہے جسکا نتیجہ تھر کے سانحہ کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو ایک عظیم انسانی مقصد کے لئے قربان کر دیا جائے اس سلسلہ میں متعلقہ قومی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور سرکاری ملازمین بھی اپنا طر ز عمل بدلیں ۔ اس سلسلہ میں معاشرے کو بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے ۔دوسرا تھر کے لوگوں میں حفظان صحت سے عدم واقفیت ہے اداروں اور این جی اوز کو ایسی مہمات شروع کرنے کی ضرورت ہے جس سے تکلیف دہ صورتحال میں بہتری آ سکے ۔

تھر کے سلسلہ میں نظر انداز کیا گیا پہلو افلاس غیر ،معیاری خوراک یا خوراک کی عدم دستیابی بھی ہے تھر سے جب تکلیف دہ خبریں آنا شروع ہوتی ہیں تو فلاحی ادارے فوری طو رپر امدادی سر گرمیاں شروع کر دیتے ہیں ان کوششوں کے نتیجے میں فوری طو رپر مدد تو میسر آ جاتی ہے لیکن مستقل بنیادوں پرمسئلہ حل نہیں ہوتا میں اس لئے اسے مستقل بنیادوں پر اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کے حل میں بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے لیکن معاشرے کے دردمندطبقات‘منتخب نمائندوں اور این جی اوز کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تھر میں لوگوں کی آمدن اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے چھوٹے پیمانے پر منصوبے بنا کر انہیں عملی جامہ پہنائیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں لاہور کے ا یک ادارے نے چھوٹے پیمانے پر لوگوں کو قرضہ دے کر لاکھوں افراد کو باروز گار بنا دیا،اگر ہم تھر اور اس جیسے دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی ایسے ہی منصوبے عمل میں لائیں تو دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے کی معاشی اور سماجی حالت تبدیل ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کے نتیجہ میں مائیں بھی صحت مند ہوں گی اور بچے بھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ کانفرنس ایک ایسی پیشہ خیمہ ثابت ہوگی جسکے نتیجے میں ہمارے مسائل کا خاتمہ ہو جائیگا ۔

20/11/2014 - 22:28:08 :وقت اشاعت