بند کریں
صحت صحت کی خبریںقومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث‘ تعلیم صحت اور روزگار کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/06/2007 - 22:58:16 وقت اشاعت: 18/06/2007 - 17:16:20 وقت اشاعت: 16/06/2007 - 15:17:17 وقت اشاعت: 15/06/2007 - 12:57:18 وقت اشاعت: 14/06/2007 - 19:53:32 وقت اشاعت: 13/06/2007 - 16:04:52 وقت اشاعت: 13/06/2007 - 13:06:27 وقت اشاعت: 12/06/2007 - 23:30:41 وقت اشاعت: 10/06/2007 - 23:31:20 وقت اشاعت: 10/06/2007 - 19:53:10 وقت اشاعت: 10/06/2007 - 19:51:17

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث‘ تعلیم صحت اور روزگار کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں‘حکومتی ارکان۔ تنخواہوں میں اضافہ ناکافی ہے یہ غریبوں کا نہیں بلکہ ایلیٹ کلاس کا بجٹ ہے بجٹ کی بلاجواز تعریفیں کی جارہی ہیں قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے خسارے کی صورت بھی اس کے سامنے ہے اس ملک کا پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض ہے ۔اپوزیشن ارکان

اسلام آباد(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار13 جون 2007قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو ناکافی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ ایلیٹ کلاس کا بجٹ ہے قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے ‘خسارے کا سامنا ہے اور پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض ہے -سولہ کروڑ عوام کے ملک میں صرف3700 گھر بنا کر دینابھی ناکافی ہے جبکہ حکومتی ارکان نے بجٹ کو عوام دوست قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم‘صحت اور روزگار کے حوالے سے اقدامات قابل ستائش ہیں اور عوام کو کافی ریلیف دیا گیا ہے اسمبلی کا اجلاس بدھ کو سپیکر چوہدری امیر حسین کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا تلاوت کلام پاک کے بعد لیاقت بلوچ نے وفاقی وزیر پانی وبجلی کے چچا کی وفات پر دعائے مغفرت کرائی جس کے بعد شیر اکبر خان نے وفاقی بجٹ2007-08 پر بحث کا آغاز کیا انہوں نے کہاکہ یہ عوام دوست اور ریلیف بجٹ ہے وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے موجودہ بجٹ میں تعلیم صحت اور روزگار کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع بونیر میں لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے پاور پلانٹ لگایا جائے اسی دوران ہی کرسی صدارت ڈپٹی سپیکرسردار یعقوب خان نے سنبھالی منظور حسین نے بجٹ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کا پانچواں بجٹ ہے لیکن حالات مزید تشویشناک ہورہے ہیں تنخواہوں میں اضافہ ناکافی ہے یہ غریبوں کا نہیں بلکہ ایلیٹ کلاس کا بجٹ ہے بجٹ کی بلاجواز تعریفیں کی جارہی ہیں قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے خسارے کی صورت بھی اس کے سامنے ہے اس ملک کا پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی گیس اور آئل پر رائلٹی دی جائے ذوالفقار احمد ڈھلوں نے کہا کہ حکومت سخاوت اور ہمدردانہ جذبات سے بھرپور بجٹ پیش کرنے پرمبارکباد کی مستحق ہے یہ ہماری حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے انہوں نے صدرمشرف وزیراعظم شوکت عزیز اور پاکستان مسلم لیگ کا شکریہ ادا کیا محترمہ تہمینہ دولتانہ نے اس موقع پر کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 15 فیصد اضافہ کیاگیا جس میں ٹیکنیکل سٹاف شامل نہیں ہے تنخواہوں میں اضافہ گریجویٹی اورپنشن سے کاٹا گیا ہے اس کے علاوہ سولہ کروڑ عوام کے ملک میں صرف3700 گھر بنا کر دینابھی ناکافی ہے انہوں نے عدلیہ کے بحران کا ذکر کیا انہوں نے ایوان میں آلودہ پانی کی بوتل دکھائی اور کہا کہ اس ملک کے عام آدی پیتے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت پیدا کی جائے-بیگم بشری رحمان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف ہماری لیڈر شپ پر بلا جواز الزام تراشی کر رہی ہے حالانکہ ان کی لیڈر شپ ملک سے فرار ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ صدر مشرف ہمارا لیڈر ہے انہوں نے بجٹ کو عوام دوست اور ریلیف بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ہر طبقہ فکر کے لوگوں کا خیال رکھا گیا ہے انہوں نے بجٹ میں زراعت کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کا خصوصی ذکر کیا اور حکومت کو مبارکباد پیش کی- مولانا عبدالغفور حیدری نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ کو اس صدی کا سب سے اعلی بجٹ کہنا بلا جواز ہے تجارتی خسارہ 13.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے کہاکہ اثاثے بیچ کر قرضے لے کر معیشت کی تیزی بتایا جا رہا ہے انہوں نے معیشت کو غیر مستحکم قرار دیا اس ایوان کے درجنوں اراکین کے اربوں کے قرضے معاف کئے گئے ہیں جو ایک شرمناک فعل ہے تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات کی خرابی ناکام خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کو منصفانہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ جب تک صوبوں کے تحفظات دور نہیں کئے جائیں گے نفرتیں بڑھتی جائیں گی انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرا حلقہ وسیع و عریض رقبے پر محیط ہے اس کیلئے پچاس لاکھ کے ترقیاتی فنڈز ناکافی ہیں-لیاقت بلوچ نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ گورنرسندھ نے متعدد سیاسی لیڈروں سے ملاقات میں یہ عندیہ ظاہر کیا تھا کہ وہ کراچی کے حالات کوبہتری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں لیکن گزشتہ روز سندھ کے ایک طالب علم واصف عزیز کو اغواء کے بعد قتل کر دیاگیا انہوں نے اس قتل کی انکوائری کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر ایوان سے کارکن واک آؤٹ کریں گے اس کے بعد حزب اختلاف کے تمام اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے-مہناز رفیع نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو انتہائی نامساعد حالات کے باوجود شاندار طریقے سے ایوان کی کاروائی چلانے پر مبارکباد پیش کی انہوں نے صدر مشرف کی عورتوں کو ہر محاذ پر بااختیار بنانے کی کوششوں کو سراہا- انہوں نے حکومت کی عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی بھی تعریف کی- انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عورتوں کی ویلفیئر کے ادارے گریپ کے لیے 22 لاکھ کی رقم ناکافی ہے اسے بڑھایاجائے- انہوں نے توانائی کے بحران کے حوالے سے سابقہ حکومت پر آئی پی پی کے ساتھ معاہدوں کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے تین ڈیم تعمیر کررہی ہے انہوں نے حکومت کے غریبوں کیلئے چھت فراہم کرنے کے پروگرام کو سراہا اور مزدور کی کم سے کم اجرت میں اضافے کی بھی تعریف کی- ڈاکٹر فاروق ستار نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ کراچی میں طالب علم رہنماء کا قتل بھی اسی سازش کاحصہ ہے جو 12 مئی کو پیش آیا انہوں نے کہا کہ کراچی میں تمام سیاسی دھڑے اس حوالے سے متحد ہیں اور کراچی میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں-غلام مرتضی ستی نے اس موقع پر کہا کہ اس بجٹ کے حوالے سے اعد اد و شمار بڑھا چڑھاکر پیش کئے گئے انہوں نے کراچی میں ہونے والی خون ریزی پر افسوس کا اظہار کیا انہوں نے آخری دن پی ایس ڈی پی میں ایک سو ارب کے اضافے کو بھی تنقید کانشانہ بنایا- انہوں نے کہا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن جس کیلئے اٹھارہ ارب روپے رکھے گئے ہیں اس ایوان کے سامنے جوابدہ نہیں ہے تعلیم کے حوالے سے انہوں نے صورتحال کو تشویشناک قرا ردیا حکمران نجکاری کے نام پر ملک بیچ رہے ہیں - یہاں دولت کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے سوشل سیکٹر کیلئے مختص کی جانے والی رقم نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کیلئے بھی رقم کم رکھی گئی ہے-

سینیٹ کے اجلاس میں‌ ارکان نے کراچی کی صورتحال، بجٹ اور دیگر امور پر اظہار خیال کیا۔

ایم ایم اے کے پروفیسر محمد ابراہیم نے کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما کےقاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔اے این پی کے اسفند یارولی نے حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت سندھ سانحہ بارہ مئی کی ذمہ دار ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بجٹ میں متوسط طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے اور 1973ء کے بعد پہلی مرتبہ صوبائی خود مختاری کی بات کی گئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اسیروں کو رہا کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ جاوید ہاشمی کو جلد رہا کردیا جائے گا۔ ایم ایم اے کے سینیٹر بنگلزئی نے بجٹ کو غیر ترقیاتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔حکومتی رکن نعیم حسین چٹھہ نے بجٹ کو متوازن ۔ٹیکس فری اور غریب دوست قرار دیا اور کالا باغ ڈیم سمیت تمام آبی ذخائر جلد تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ۔

اے این پی کے الیاس بلور نے کہا کہ موجودہ بجٹ کو عوامی ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومتی رکن ہارون اختر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بجٹ کو سراہا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے ۔ فاٹا کے رکن حمید اللہ جان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں قبائلی علاقہ جات کی ترقی کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا ۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر میاں رضا ربانی نے کہا کہ اپوزیشن کراچی لوڈشیڈنگ کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر ایک گھنٹہ کیلئے دھرنا دے گی ۔ اس سے پہلے اپوزیشن ارکان نے ایوان میں وزراء کی غیر حاضری پر احتجاجاً علامتی واک آؤٹ کیا
13/06/2007 - 16:04:52 :وقت اشاعت