بند کریں
صحت صحت کی خبریں غذائی قلت، پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور طبی سہولتوں کا فقدان تھر کے بچوں کی اموات کا سبب ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/11/2014 - 20:54:33 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 20:09:44 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 20:02:14 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 19:59:53 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 19:08:13 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 17:47:58 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 17:38:57 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 17:18:14 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 17:01:09 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 16:38:46 وقت اشاعت: 22/11/2014 - 16:10:18

غذائی قلت، پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور طبی سہولتوں کا فقدان تھر کے بچوں کی اموات کا سبب ہے،پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ

کراچی (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 22نومبر 2014ء) غذائی قلت، پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور طبی سہولتوں کا فقدان تھر کے بچوں کی اموات کا سبب ہے جس پر تاحال سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی ․تھرپار کر میں خرچ کئے گئے 6 ارب روپے کسی ایک معصوم بچے کی جان بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے․پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے سینئر رہنما علی اکبر گجر ، شیخ الحدیث برکت اللہ صدیقی، سردار نذیر،داکٹر رانا صفدر جاوید نے ایک مشترکہ بیان میں تھر میں نومولود بچوں کی اموات کے تسلسل اور صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کیمپ پر حملے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے صوبائی اداروں کی کوتاہیاں چھپانے کے لئے مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت پر انگلیاں اٹھانا کسی طور مناسب نہیں․ متحدہ قومی موومنٹ کے کیمپ پر حملہ شہر کا امن خراب کرنے کی سازش ہے جس طرف صوبائی حکو مت کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے․پاکستان مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت پنجاب میں مثالی خدمات سرانجام دے رہی ہے سرگودھا اور فیصل آباد میں قبل ازوقت پیدائش اموات کا سبب ہے لیکن تھرپار کر میں نومولود بچوں کی اموات کی وجہ غذائی قلت اور طبی سہولتوں کی کمی ہے․ حکمران مسلم لیگ(ن) کے سینئر صوبائی رہنما علی اکبر گجر نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کیمپ پر حملے کی مذ مت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات صوبے کی سیاسی فضا کو خراب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں سندھ حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں کے لئے خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دینا چاہئیے تاکہ شر پسند عناصر کسی سیاسی اجتماع یا جلسے جلوس کو نشانہ نہ بنا سکیں․ تھر میں بچوں کی اموات پر مسلم لیگ(ن) سندھ کی قیادت اور کارکنان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علی اکبر گجر نے کہا کہ مٹھی میں قحط اور طبی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے نومولود بچوں کی اموات کا موازنہ سرگودھا اور فیصل آباد میں نومولود بچوں ں کی طبعی اموات سے کرنے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مٹھی میں طبی سہولتیں ناپید ہیں، کوئی ڈاکٹر وہاں ڈیوٹی کرنے کو تیار نہیں اس کے ساتھ ساتھ غذائی قلت اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کا سبب بن رہی ہے جس کی تما م تر ذمہ داری سندھ حکومت کی متعلقہ وزارتوں پر ہے․ سرگودھا اور فیصل آباد میں نومولود بچوں کی اموات کا غذائی قلت یا طبی سہولتوں کی عدم دستیابی سے کوئی تعلق نہیں․ پنجاب حکومت کی تفتیشی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ سرگودھا میں بچوں کی اموات کا اصل سبب قبل از وقت پیدائش اور طبعی اسباب ہیں ․ تھر کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ محترم وزیر اعلی سندھ نے تھرپارکر میں چھ ارب روپے کہاں خرچ کئے کیونکہ تھر میں ہونے والی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے․ تھر کے واحد سرکاری ہسپتال میں طبی سہولتوں اور عملے کی کمی تاحال پوری نہیں کی جا سکی․ تھر پار میں قحط سالی کی وجہ سے ماؤں اور بچوں کی صحت پر مضر اثرات کا تدارک بھی نہیں کیا ․ تھر میں صوبائی محکمہ خوراک اور صحت کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے اس کے باوجود محترم شاہ صاحب تھرپار میں ہونے واکی اموات کا موازنہ سرگودھا اور فیصل آباد سے کر رہے ہیں جہاں پنجا ب حکومت کی تفتیشی ٹیم نے اموات کے حقیقی اسباب کی تفصیلی رپورٹ تک جاری کردی ہے جس سے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی کارکردگی کا فرق نمایاں نظر آتا ہے۔



22/11/2014 - 17:47:58 :وقت اشاعت