بند کریں
صحت صحت کی خبریںاتحاد اہلسنت والجماعت کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری کا داعش تنظیم ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/11/2014 - 21:44:18 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 21:39:02 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 21:34:29 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 21:34:29 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 20:43:59 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 20:43:59 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 20:11:15 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 19:59:06 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 19:59:06 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 19:40:57 وقت اشاعت: 24/11/2014 - 19:37:46

اتحاد اہلسنت والجماعت کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری کا داعش تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اظہار ،

داعش کے حوالے سے بہت سے سوالات موجود ہیں جن کا اب تک جواب نہیں دیا گیا،امریکہ کی طرف سے اس تنظیم کی سرپرستی اور اسے مالی ومادی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے خبروں کی بھی کوئی تردید نہیں کی گئی جس سے ہماری تشویش میں اضافہ ہورہا ہے،مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری

ملتان(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 24نومبر 2014ء)اتحاد اہلسنت والجماعت کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری نے عراق اور شام میں برسرپیکار داعش تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے حوالے سے بہت سے سوالات موجود ہیں جن کا اب تک جواب نہیں دیا گیا اور امریکہ کی طرف سے اس تنظیم کی سرپرستی اور اسے مالی ومادی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے خبروں کی بھی کوئی تردید نہیں کی گئی جس سے ہماری تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح داعش تنظیم قتل وغارت گری میں ملوث ہورہی ہے اس کا مقصد صرف اسلام کو بدنام کرنا ہی ہوسکتا ہے۔اس تنظیم پر ہر گز امت مسلمہ کا اتفاق نہیں اور اس کا کام کرنے کا انداز بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ دینی علماء کو جکڑنے کیلئے ملک میں اس کی موجودگی کا شوشہ چھوڑا گیا ہے،داعش کے ذریعے عراق میں بھی مختلف طبقوں کو شیعہ سنی اور کرد میں تقسیم کردیاگیا ہے اور یہ دشمن کا ہی ایجنڈا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہت سے جید علماء نے ملاعمر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی تو اس حوالے سے ہمارے نزدیک ابوبکر البغدادی کی خلافت کے اعلان کی کوئی وقعت نہیں،اسلام دہشتگردی اور درندگی سے نہیں پھیل سکتا بلکہ یہ ہمیشہ اخلاق سے پھیلا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے اس تنظیم کے مرکز میں اہم اشیاء گرانے اور امریکی کمپنیوں کی طرف سے اس تنظیم کو مالی اور مادی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے خبریں خود امریکی میڈیا میں آچکی ہیں اور امریکہ کی طرف سے اس کی کوئی تردید نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی سوال ہے کہ کہا جاتا ہے کہ داعش تنظیم کے افراد 60سے 70ہزار کی تعداد میں ہیں توجب یہ لوگ اکٹھے ہورہے تھے اس وقت امریکہ کہاں تھا؟،پاکستان اور دنیا بھر میں کسی جگہ دو چار افراد اکٹھے ہوجائیں تو امریکہ کو پتہ چل جاتا ہے اور وہ حملہ کردیتا ہے،لیکن ہزاروں افرادپر مشتمل یہ تنظیم وجود میں آئی اور اس کے پاس بھاری وسائل اور اسلحہ وگولہ بارود بھی آگیا لیکن امریکہ اس سے غافل رہا،یہ بات عقل میں آنے والی نہیں۔

ہم ملک میں امریکی تسلط کے خاتمے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں،اس مقصد کیلئے مذہبی جماعتوں کو اکٹھا کیا گیا ہے اور دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کئے جارہے ہیں،ہمارا مقصد مذہبی حلقوں کو اکٹھا کرکے مغربی تسلط سے نجات حاصل کرنا ہے اور ہم اپنے آخری سانس تک یہ جدوجہد جاری رکھیں گے ۔۔۔(ولی)

24/11/2014 - 20:43:59 :وقت اشاعت