بند کریں
صحت صحت کی خبریں بچوں کی بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم جاری رہے گی،رحمت صالح

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/11/2014 - 12:55:21 وقت اشاعت: 27/11/2014 - 12:53:53 وقت اشاعت: 27/11/2014 - 12:52:05 وقت اشاعت: 27/11/2014 - 12:29:38 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 23:32:54 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 23:24:02 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 23:24:02 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 23:21:13 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 22:42:46 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 22:31:26 وقت اشاعت: 26/11/2014 - 22:31:26

بچوں کی بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم جاری رہے گی،رحمت صالح

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 26نومبر 2014ء)صوبائی وزیرصحت رحمت صالح بلوچ اورچیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چھٹہ کی زیرصدارت منعقدہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس عزم کااظہارکیاگیاہے کہ بچوں کی بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم جاری رہے گی اوراس میں کسی قسم کی رکاوٹ خاطرمیں نہیں لائی جائے گی ۔جبکہ مہم میں شریک رضاکاروں اورسرکاری اہلکاروں کومکمل اوربھرپورسیکورٹی فراہم کی جائے گی ،صوبے کو پولیو اوربچوں کی دیگر بیماریوں سے پاک بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلائے جائیں گے،اجلاس میں شریک کوئٹہ کی مختلف یونین کونسلوں کے میڈیکل آفیسروں کی جانب سے بھی اس عزم کااظہارکیاگیا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے اورمہم میں شریک ٹیمیں معمول کے مطابق اپناکام جاری رکھیں گی۔

بدھ کے روز منعقدہونے والے اس اجلاس میں کوئٹہ کے نواحی علاقے میں حفاظتی ٹیکہ جاتی مہم میں شریک رضاکاروں پرنامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے افسوسناک واقعہ کے تمام پہلوؤں پرتفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس بات کافیصلہ کیاگیا کہ مہم جاری رہے گی اوراس میں شریک رضاکاروں کی حفاظت کو ہرصورت یقینی بنایاجائے گا اس حوالے سے محکمہ صحت کے حکام اورمذکورہ یونین کونسلوں کے میڈیکل افسروں کی مشاورت سے مہم کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مہم کے لئے قائم سپورٹ مراکز اوررضاکاروں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دی گئی اجلاس میں چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ آئندہ سے حفاظتی ٹیکہ جاتی مہم اورپولیومہم کے دوران متعلقہ علاقے کومکمل طورپرسیل رکھتے ہوئے موٹرسائیکل چلانے پرمکمل پابندی عائد رکھی جائے اوراس کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی کی جائے اورایسی کوئی بھی گنجائش نہ چھوڑی جائے کہ دہشت گردوں کو کاروائی کرنے کا کوئی موقع مل سکے چیف سیکرٹیری نے کہاکہ ضرورت پڑنے پرسول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی خدمات بھی مہم کے لئے حاصل کی جائینگی اورکسی بھی صورت اس مہم کوملتوی نہیں کیاجائے گا انہوں نے کہاکہ اپنے بچوں کو پولیوسمیت دیگر موذی امراض سے محفوظ رکھنا ایک قومی ذمہ داری ہے اورہم کسی بھی صورت اپنے بچوں کے صحتمندمستقبل کوداؤپرلگنے نہیں دیں گے اوراس حوالے سے دہشت گردوں کے عزائم کوکامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا ہم نے ڈٹ کاان کامقابلہ کرناہے اوراپنے بچوں کے صحت مندمستقبل کو یقینی بناناہے۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہم فائرنگ کے واقعہ کے شہداء کو واپس تونہیں لاسکتے لیکن وزیراعلیٰ کی ہدایت کی روشنی میں ان کے ورثہ کومعاوضہ دیاجائے گا اوران کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری محکمے میں ملازمت بھی دی جائے گی۔چیف سیکرٹری نے کہاکہ وہ کل خودمتعلقہ یونین کونسلوں میں جا کر جاری مہم کاجائزہ لیں گے اورمہم میں شریک رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے افسوسناک واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے گی بظاہر اس کی وجہ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کافقدان ہوسکتی ہے تاہم جوبھی وجہ ہوگی اس کاتدارک کیاجائے گا اوراس بات کویقینی بنایاجائے گا کہ آئندہ ایسی کوئی کوتاہی نہ ہو۔اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے وزیرصحت رحمت صالح بلوچ نے کہاکہ آج کاواقعہ انتہائی دردناک اورافسوسناک ہے ہمیں ہرصورت واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو بے نقاب کرکے کیفرکردارتک پہنچاناہوگا تاکہ آئندہ کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کیلئے ویکسینیشن کی مہم میں کسی بھی طریقے سے رکاوٹ ڈال سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ واقعہ میں شہیدہونے والے افراد کے لواحقین کے پاس تعزیت کیلئے گئے اورانہیں یہ دیکھ کرفخرہوا کہ لواحقین اورعلاقہ مکینوں کے حوصلے بلند تھے اورانکا ایک ہی مطالبہ تھاکہ واقعہ میں ملوث عناصر کو گرفتارکرکے کیفرکردارتک پہنچایاجائے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ میرسرفرازبگٹی اورمشیرخزانہ میرخالدلانگو کے ہمراہ ہسپتال جاکر زخمیوں کی عیادت بھی کی ۔

اجلاس میں میڈیکل افسروں کوہدایت کی گئی کہ پولیس کی جانب سے سیکورٹی اہلکاروں کے پہنچنے تک ٹیموں کو فیلڈمیں نہ بھیجاجائے رضاکاروں کی بھرپورحوصلہ افزائی کی جائے اورانہیں احساس تحفظ فراہم کیاجائے۔اجلاس کو بتایاگیا کہ کوئٹہ سمیت دیگر سات اضلاع میں حفاظتی ٹیکہ جاتی خصوصی مہم کاآغازکیاگیاہے اورآج اس مہم کاتیسرا دن تھااس ضمن میں کوئٹہ کو (32)زون میں تقسیم کیاگیاہے اور(18)سپورٹ سینٹرقائم کئے گئے ہیں مہم میں 209ٹیمیں شامل ہیں ۔

اس موقع پر فیصلہ کیاگیا کہ ٹیموں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی اہلکاروں کی تعدادمیں اضافہ کیاجائے گا اورمتعلقہ علاقوں میں پولیس کی گشت بھی بڑھائی جائے گی اجلاس میں واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردی ،تعزیت اوریکجہتی کااظہارکرتے ہوئے شہدأ کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی ۔سیکرٹری داخلہ اکبرحسین درانی ،آئی جی پولیس عملش خان،سیکرٹری صحت ارشد بگٹی،ایڈیشنل آئی جی ،آرپی اوکوئٹہ،سی سی پی اوکوئٹہ،ڈپٹی کمشنرکوئٹہ اوردیگرمتعلقہ حکام کے علاوہ یونیسف اورڈبلیوایچ او کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

26/11/2014 - 23:24:02 :وقت اشاعت