کنٹرول لائن پر ہونے والے جانی نقصان کا ذمہ دار بھارت ہے،نوازشریف،

پوری دنیا کشمیر کو متنازعہ مسئلہ تسلیم کرچکی،بھارتی رویے میں تبدیلی ہمارے مؤقف کی تائید ہے،ہم روز اول سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں،اسلام آباد میں دھرنے دینے والے ملکی ترقی کے خیرخواہ نہیں، لوگوں نے دیکھ لیاعمران خان نے کونسا نیا خیبرپختونخوا بنایا ہے جہاں خطرناک قیدی فرار ، پولیو ورکر مارے جارہے ہیں،تحریک انصاف کا دھرناآخری سانسیں لے رہا ہے، طیارے میں صحافیوں سے گفتگو

کٹھمنڈو(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28نومبر 2014ء)وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت ہونی چاہئے،دنیا اس مسئلے کو متنازعہ مسئلہ تسلیم کرچکی ہے،بھارتی مؤقف میں تبدیلی ہمارے مؤقف کی تائید ہے،کنٹرول لائن پر انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار بھارت ہے،اسلام آباد میں دھرنے والوں کو عوام نے دھرنے کیلئے ووٹ نہیں دئیے تھے،دھرنوں کا مقصد ملک کو اندھیروں کی طرف دھکیلنا ہے،ہم کسی صورت یہ نہیں ہونے دیں گے۔

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں سارک کانفرنس کے اختتام کے بعد وطن واپسی کے دوران طیارے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ دھرنے سے ملکی ترقی کا راستہ نہیں روکا جاسکتا،دھرنوں کا مقصد ملک کو اندھیروں میں دھکیلنا ہے،خیبرپختونخوا میں پولیو کارکن مارے جارہے ہیں اور یہاں بیٹھے لوگ نیا پاکستان بنانے کے نام پر لوگوں اور ملک کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں،عوام نے عمران خان کو دھرنے کیلئے نہیں ملکی ترقی اور مسائل کے حل کیلئے ووٹ دئیے تھے،صوبے میں جیلیں توڑ کر خطرناک مجرم فرار اورپولیو ورکر مارے جارہے ہیں اور یہ دھرنا دیکر یہاں بیٹھے ہوئے ہیں،عمران خان کا ایجنڈا قومی نہیں بلکہ ذاتی ہے،اگر یہ ایجنڈا قومی ہوتا تو ایسا ہرگز نہ ہوتا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ کونسا نیا خیبرپختونخوا بنایا ہے کہ نئے پاکستان کے نام پر دھرنوں میں خیبرپختونخوا کا سرکاری ڈیزل استعمال کیا جارہا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا دھرناآخری سانسیں لے رہا ہے ، وہاں صرف خالی کرسیاں پڑی ہیں ، حکومت کے حوصلے کی داد دی جائے کہ دھرنے پر بیٹھے پندرہ بیس لوگوں کو بھی نہیں اٹھایا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہیکہ سب کو سمجھ آجانی چاہیے کہ دھرنا ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے ہے ، انہوں نے سیاست میں حدیں پھلانگنے کی کوشش نہیں کی ، نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان نے نیا خیبر پختونخوا بنالیا ،وزیراعظم کا کہنا تھاکہ دھرنوں کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اورترقی کے راستے سے روکنا ہے ، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کا دروازہ تو کھلا رہتاہے ،پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مؤقف روز اول سے واضح ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ تمام معاملات اور تنازعات کے حل کیلئے بامقصد اور بامعنی مذاکرات چاہتے ہیں،پوری دنیا مسئلہ کشمیر کو ایک عالمی تنازعہ تسلیم کرچکی ہے اور دنیا کی بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی رویے میں تبدیلی ہمارے مؤقف کی تائید ہے،ہم اب بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ تمام معاملات پر بامقصد مذاکرات کئے جانے چاہئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار بھارت ہے،ہم ملکی غیرت ،وقار اور سلامتی پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دیں گے۔دریں اثناء وزیراعظم جمعرات کو رات گئے وطن واپس پہنچ گئے ہیں ۔

Your Thoughts and Comments