بند کریں
صحت صحت کی خبریںاسلام آباد میں تعینات پنجاب کانسٹیبلری کا ایک اہلکار مبینہ طور پر بروقت طبی امداد نہ ملنے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/06/2007 - 16:11:42 وقت اشاعت: 23/06/2007 - 16:00:45 وقت اشاعت: 23/06/2007 - 15:15:56 وقت اشاعت: 22/06/2007 - 17:59:36 وقت اشاعت: 21/06/2007 - 12:15:44 وقت اشاعت: 19/06/2007 - 13:35:53 وقت اشاعت: 18/06/2007 - 22:58:16 وقت اشاعت: 18/06/2007 - 17:16:20 وقت اشاعت: 16/06/2007 - 15:17:17 وقت اشاعت: 15/06/2007 - 12:57:18 وقت اشاعت: 14/06/2007 - 19:53:32

اسلام آباد میں تعینات پنجاب کانسٹیبلری کا ایک اہلکار مبینہ طور پر بروقت طبی امداد نہ ملنے پر دم توڑ گیا

واقعے کیخلاف پنجاب کانسٹیبلری کے 15 سو اہلکاروں نے اسلام آباد میں سکیورٹی فرائض انجام دینے سے انکار کردیا اور آبپارہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا، ضلعی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی‘ ٹائر جلائے گئے‘ آبپارہ چوک ٹریفک کیلئے بند‘ ضلعی انتظامیہ اور احتجاجی اہلکاروں میں مذاکرات ناکام‘ ایس پی اشرف گجر کیخلاف کارروائی تک احتجاج جاری رہے گا‘ مظاہرین کا اعلان

اسلام آباد (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار19 جون 2007) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے پیش نظر تعینات پنجاب کانسٹیبلری کا ایک اہلکار مبینہ طور پر بروقت علاج نہ ہونے کے باعث دم توڑ گیا‘ پنجاب کانسٹیبلری کے پندرہ سو سے زائد اہلکاروں نے واقعے کے خلاف احتجاجاً دارالحکومت میں فرائض سرانجام دینے سے انکار کردیا‘ آبپارہ میں احتجاجی مظاہرہ‘ ضلعی انتظامیہ کیخلاف شدید نعرے بازی‘ ٹریفک بند‘ دھکم پیل میں ایک اہلکار کا بازو کٹ گیا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح اسلام آباد میں سکیورٹی کیلئے تعینات پنجاب کانسٹیبلری کا ایک اہلکار امام بخش عدالت کے باعث مبینہ طور پر بروقت علاج نہ ہونے پر دم توڑ گیا۔ واقعے کیخلاف پنجاب کانسٹیبلری کے پندرہ سو سے زائد اہلکاروں نے احتجاجاً دارالحکومت میں سکیورٹی فرائض کی ادائیگی سے انکار کردیا اور آبپارہ چوک میں احتجاجی جلوس نکالا۔

احتجاجی جلوس میں پنجاب کانسٹیبلری کے پندرہ سے زائد اہلکار موجود تھے۔ مظاہرین اہلکاروں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ضلعی انتظامیہ کیخلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے اس موقع پر ٹائر جلائے اور آبپارہ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کردیا تھا۔ پنجاب کانسٹیبلری کا موقف ہے کہ گزشتہ رات کانسٹیبل امام بخش سکنہ خوشاب کی حالت علالت کے باعث انتہائی خراب ہوگئی اور اس نے ایس پی اشرف گجر کو چھٹی کیلئے درخواست دی تاہم انہوں نے اس کی درخواست انتہائی نامناسب انداز میں مسترد کردی پیر کی رات حالت زیادہ خراب ہونے پر ساتھی اہلکار اسے با ربا رہسپتال لے جانے پر اصرار کرتے رہے لیکن ایس پی نے انہیں ہسپتال جانے کی اجازت نہ دی جس کے باعث اہلکار جاں بحق ہوگیا۔

ادھر احتجاجی مظاہرے کے موقع پر ایک اور ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جب دھکم پیل کے باعث ایک اہلکار اظہر کا بازو کٹ گیا۔ زخمی ہونے والے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ مظاہرے کے موقع پر اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے پاس بلیڈ تھا جس کے باعث کٹ لگنے سے اس کا بازو کٹ گیا۔ زخمی کو ہسپتال منتقل کردیاگیا مظاہرین نے مزید الزام لگایا کہ اسلام آباد میں سکیورٹی کیلئے تعینات پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں کیساتھ انتہائی نامناسب رویہ روا رکھا جارہا ہے جبکہ انتہائی ناقص کھانا دیا جارہا ہے مظاہرین نے اعلان کیا کہ واقعے کے ذمہ دار اشرف گجر کے خلاف کارروائی تک احتجاج جاری رہے گا۔

احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیلئے ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن (ر) ظفر اقبال‘ ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی اور اسلام آباد انتظامیہ کے دیگر افسران موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین سے طویل مذاکرات کئے اور ڈی آئی جی راولپنڈی مروت شاہ کی یقین دہانی پر مشتعل پولیس اہلکاروں نے احتجاج ختم کردیا۔ اسلام آباد انتظامیہ کا موقف ہے کہ پنجاب کانسٹیبلری کا اہلکار بروقت علاج نہ ہونے کے باعث نہیں بلکہ گرمی کی وجہ سے انتقال کرگیا ہے۔

اس موقع پر ٹریفک کی بندش کی وجہ سے صبح کے وقت ڈیوٹی کیلئے آنیوالے ملازمین کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مشتعل پنجاب پولیس اہلکاروں کے مظاہرے کے دوران آبپارہ مارکیٹ پانچ گھنٹے تک بند رہی اس دوران چند دکانداروں نے دکانیں کھولنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے حملہ کردیا اور توڑ پھوڑ شروع کردی ڈیوٹی مجسٹریٹ کی موجودگی کے دوران مشتعل پولیس اہلکار دکانداروں پر حملہ آور ہوگئے ارم ریسٹورنٹ‘ بابر سنیکس بار‘ پنجاب ملک شیک شاپ اوردیگر دکانداروں کا سامان اٹھاکر پھینک دیا۔
19/06/2007 - 13:35:53 :وقت اشاعت