بند کریں
صحت صحت کی خبریںنیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی مرتب کرنے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، ہم شوگر میں سرپلس ہو گئے ہیں، سکندر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/12/2014 - 20:06:29 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 19:53:50 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 19:11:10 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 18:26:31 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 17:44:01 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 16:03:01 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 13:54:51 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 13:42:20 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 13:35:24 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 13:30:55 وقت اشاعت: 04/12/2014 - 12:52:11

نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی مرتب کرنے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، ہم شوگر میں سرپلس ہو گئے ہیں، سکندر حیات خان بوسن

کراچی(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 04 دسمبر 2014ء) وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی مرتب کرنے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جامع پالیسی بنانے کے لئے تمام متعلقین سے تجاویز طلب کی ہے، ہم چینی (شوگر) میں سرپلس ہو گئے ہیں، ایکسپورٹ کے لئے چینی ان شوگرز ملوں سے لی جائے گی جو کسانوں کے واجبات پہلے ادا کریں گے اور وقت پر کرشنگ شروع کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں سندھ مینگو گرورز اینڈ ایکسپورٹرز کی جانب سے منعقدہ تقریب میں بحثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آسٹریلیا کے پاکستان میں تعینات ہائی کمشنر پیٹر ہیورڈ، پروفیسر رے کولینس، پروفیسر ٹونی ڈیونی، ڈاکٹر پیٹر جانسن، ڈائریکٹر پلانٹ پروڈکشن ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر مبارک اور افتخار احمد نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں ٓسٹریلیا سے آئی ہوئی ٹیکنکل ٹیم کے علاوہ آم کے آبادگاروں اور ایکسپورٹرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ جامع نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی بنا رہے ہیں اور اس کے لئے ہم نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ اینڈ سیکورٹی نے بھی اپنے رائے دی ہے اور ہم پالیسی مرتب کرنے کو حتمی شکل دے رہے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چینی (شوگر) میں سرپلس ہو گیا ہے اور ہم 5 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کریں گے لیکن اس کے لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چینی ان شوگرز ملوں سے لی جائے گی جو پہلے کسانوں کے واجبات ادا کریں گے اور وقت پر کرشنگ شروع کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آم کے آباد گار اور ایکسپورٹرز کو جن مسائل کا سامنا ہے اس میں معلومات، ٹریننگ کی کمی اور عالمی مارکیٹ تک رسائی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سابقہ دور وزرات میں آسٹریلیا حکومت سے زراعت کے شعبے میں تعاون طلب کیا تھا جس پر آسٹریلوی حکومت نے اچھا ردعمل کا اظہار کیا تھا اور آسٹریلیا کے تعاون سے جو پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا اس کا مقصد آم کی شیلف لائف کو بڑھانا تھا، آم کے لئے نئی مارکیٹ تلاش کرنا تھا، یورپ، برطانیہ اور دبئی میں صارفین کی ترجیحات کا مطالعہ کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے اچھے نتائج مرتب ہوئے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ایک اچھا پروگرام ہے اور اس لئے میں آسٹریلیا حکومت سے کہتا ہوں کہ وہ اس پروگرام کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا حکومت زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں ہمارے ساتھ تعاون کرے اور آسٹریلوی کمپنیوں کو پاکستان لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹریننگ، کیپسٹی بلڈنگ کے شعبوں میں بھی تعاون کی ضرورت ہے۔ تقریب کے آخر میں وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن نے حکومت پاکستان کی جانب سے آسٹریلوی حکومت، ہائی کمشنر اور ٹیکنکل ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔



04/12/2014 - 16:03:01 :وقت اشاعت