بند کریں
صحت صحت کی خبریں آرمی چیف نے اپنے خطاب میں جوباتیں کیں یہ سب کچھ ایک حاضر سروس جنرل یا پاک فوج کے سربراہ نے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/12/2014 - 22:03:48 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:45:48 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:40:57 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:40:57 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:37:53 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:37:53 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:33:53 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:29:36 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 21:25:52 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 20:46:28 وقت اشاعت: 05/12/2014 - 20:33:07

آرمی چیف نے اپنے خطاب میں جوباتیں کیں یہ سب کچھ ایک حاضر سروس جنرل یا پاک فوج کے سربراہ نے نہیں ، کسی سیاست دان یا حکومتی سربراہ نے کہا ہوتا تو یقیناً پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا طبقہ عش عش کر اٹھتا، لوگ کہتے کہ آخرکار ملک کو وہ رہنما مل ہی گیا جو جنرل ضیاء کے پھیلائے شیطانی عمل کو لپیٹ سکے ،غیر ریاستی عناصر کے خطرے کے مقابلے کیلئے فوج نہیں ایک مضبوط سویلین سکیورٹی اور حکومتی عزم چاہیے، کیا حکومت پاکستان اس کے لیے تیار ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا موجودہ آرمی چیف کا ڈوبتے جہاز کو بچانے کا فارمولا وہی ہو گا جو پرویز مشرف کا تھا؟ ،

برطانوی نشریاتی ادارے کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دفاعی نمائش آئیڈیاز2014سے خطاب بارے تجزیاتی رپورٹ

لندن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5دسمبر 2014ء ) برطانوی نشریاتی ادارے نے آرمی چیف کے دفاعی نمائش آئیڈیاز2014سے خطاب کے حوالے سے رپورٹ میں کہاکہ جنرل راحیل شریف نے جوباتیں کیں یہ سب کچھ ایک حاضر سروس جنرل یا پاک فوج کے سربراہ نے نہیں بلکہ ایک سیاست دان یا حکومت کے سربراہ نے کہا ہوتا تو ہمارا ردِ عمل کیا ہوتا؟۔یقیناً پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا طبقہ عش عش کر اٹھتا۔

لوگ کہتے کہ آخرکار ملک کو وہ رہنما مل ہی گیا جو اس شیطانی عمل کو لپیٹ سکے جس کے ذریعے جنرل ضیا نے ایک ہنستے کھیلتے ملک کو جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا اکھاڑا بنا دیا، امریکہ کی جنرل راحیل شریف کے بارے میں وہ رائے نہیں جو جنرل مشرف یا جنرل کیانی کے بارے میں تھی۔ کچھ کے خیال میں تو وہ امریکہ کو سمجھانے ہی یہ گئے تھے کہ نہ تو وہ مشرف ہیں اور نہ ہی کیانی اور بظاہر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب لوٹے ہیں، غیر ریاستی عناصر کے خطرے کے مقابلے کے لیے فوج نہیں ایک مضبوط سویلین سکیورٹی اور حکومتی عزم چاہیے، کیا حکومت پاکستان اس کے لیے تیار ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا موجودہ آرمی چیف کا ڈوبتے جہاز کو بچانے کا فارمولا وہی ہو گا جو پرویز مشرف کا تھا؟،اس کا جواب ہمیں تبھی ملے گا جب یہ واضح ہو گا کہ جنرل راحیل شریف ہی نہیں بلکہ تمام شریف وہی بات کہہ رہے ہیں جو فی الوقت صرف ایک امریکہ پلٹ جرنیل کہہ رہا ہے۔

جمعہ کو برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہاگیا کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر صرف ملک کے قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے چپے چپے میں یا تو براہ راست یا اپنے مذہبی اور سیاسی حواریوں کے ذریعے پھیلے ہوئے ہیں۔کیا یہ سب کچھ وہی نہیں جسے سننے کی تمنا کروڑوں پاکستانیوں کو برسوں سے ہے؟جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے اندرونی سکیورٹی متاثر ہو رہی ہے اور ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورتِ حال گمبھیر ہو سکتی ہے۔

ان کا تجزیہ ہے کہ سکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورت حال کو سمجھنا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا نہایت مشکل۔ان کا اصرار ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے اور خاص طور پر یہ کہ پاکستانی عوام کی حمایت کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے ملک میں دہشت گردی کو ختم کر دیا جائے گا۔فرض کریں کہ یہ سب کچھ ایک حاضر سروس جنرل یا پاکستان کی بری فوج کے سربراہ نے نہیں بلکہ ایک سیاست دان یا حکومت کے سربراہ نے کہا ہوتا تو ہمارا ردِ عمل کیا ہوتا؟۔

یقیناً پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا طبقہ عش عش کر اٹھتا۔ لوگ کہتے کہ آخرکار ملک کو وہ رہنما مل ہی گیا جو اس شیطانی عمل کو لپیٹ سکے جس کے ذریعے جنرل ضیا نے ایک ہنستے کھیلتے ملک کو جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا اکھاڑا بنا دیا۔مذہبی طبقوں میں شاید یہ بیان کچھ اضطراب پیدا کرتا لیکن بایاں بازو تو جھوم اٹھتا۔ رہی بات دائیں بازو کی تو اس کا کیا، وہ دایاں کہلاتا ہی اس لیے ہے کہ حاکم وقت کے ساتھ رہے۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ لیکن یہ سب کچھ تو تب ہوتا جب جنرل راحیل شریف صرف شریف ہی ہوتے، جرنیل نہیں۔پاکستان کے کئی سینئیر سرکاری اہلکار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ داعش پاکستان میں صرف وال چاکنگ اور پیمفلیٹوں میں ہی نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔رپورٹ میں کہاگیاکہ قصہ کچھ یوں ہے کہ یہ باتیں پاکستان میں پہلے بھی ہوئی ہیں۔

ٹھیک 15 برس پہلے اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے چند مدیران کو خاص طور پر کراچی کے فوجی ہیڈکوارٹرز میں بلا کر کہا تھا کہ اگر ایک جہاز ڈوب رہا ہو اور اس میں عوام اور سیاست دانوں کے ساتھ فوج بھی سوار ہو تو کیا فوج کو صرف اس لیے چپ کر کے بیٹھے رہنا چاہیے کہ جہاز بچانے کی ذمہ داری سیاست دانوں کی ہے؟۔اور پھر جواباً خود ہی عرض کیا کہ ہرگز نہیں۔

اس کے چند ہی ماہ بعد انھوں نے حکومت کا تختہ الٹا اور ڈوبتا جہاز بچانے خود آ ٹپکے۔اور پھر وہی جنرل مشرف تھے جنھوں نے جنوری سنہ 2002 میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں جہاد کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ ملک میں نہ تو کسی لشکر کی جگہ ہے نہ کسی سپاہ کی اور نہ کسی جیش کی اور سوائے حکومت کے کوئی کسی کو جہاد کے لیے نہیں پکار سکتا۔

رپورٹ میں کہاکہ جب تک موصوف اقتدار سے الگ ہوئے، ملک میں چار سو لشکر، سپاہ اور جیش پھیلے تھے اور معاملہ اس قدر بگڑ چکا تھا کہ پاکستان کے دارالحکومت میں ایک مسجد اور مدرسے سے چند طالبات اور کچھ گنے چنے جنگجووٴں کو نکالنے کے لیے ہمیں اپنے کئی فوجی کمانڈو قربان کرنے پڑے۔رپورٹ میں کہاگیاکہ تاریخ پر اس نظر کا مقصد جنرل راحیل شریف کی نیت یا ارادوں پر شک کرنا نہیں ہے، بلکہ اس خوف کی طرف توجہ دلانا ہے جو پاکستانیوں کے دل میں ہر باوردی بیان سے جڑا ہوتا ہے۔

ملک بھر کے تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ کی جنرل راحیل شریف کے بارے میں وہ رائے نہیں جو جنرل مشرف یا جنرل کیانی کے بارے میں تھی۔ کچھ کے خیال میں تو وہ امریکہ کو سمجھانے ہی یہ گئے تھے کہ نہ تو وہ مشرف ہیں اور نہ ہی کیانی اور بظاہر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب لوٹے ہیں۔شاید اسی لیے ان کے ہر نئے بیان کی اہمیت بھی پہلے سے بڑھ گئی ہے۔

خاص طور پر ان کا یہ کہنا کہ سکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورت حال میں قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، اس کو سمجھنا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا نہایت مشکل۔رپورٹ میں کہاگیاکہ کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر صرف ملک کے قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے چپے چپے میں یا تو براہ راست یا اپنے مذہبی اور سیاسی حواریوں کے ذریعے پھیلے ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقوں سے تو انھیں فوجی کارروائی کے ذریعے ہی بھگایا جا سکتا ہے لیکن شہروں اور دیہاتوں میں انھیں حکومت اور پولیس کے بغیر نہیں روکا جا سکتا۔پاکستان کے کئی سینیئر سرکاری اہلکار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ داعش پاکستان میں صرف وال چاکنگ اور پیمفلٹوں میں ہی نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے اور داعش کا فوکس ہمیشہ شہروں پر رہا ہے نہ کہ دور دراز کے قبائلی علاقوں پر۔

اس خطرے کے مقابلے کے لیے فوج نہیں ایک مضبوط سویلین سکیورٹی اور حکومتی عزم چاہیے۔رپورٹ کے مطابق کیا حکومت پاکستان اس کے لیے تیار ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا موجودہ آرمی چیف کا ڈوبتے جہاز کو بچانے کا فارمولا وہی ہو گا جو ان کے پیش رو کا تھا؟اس کا جواب ہمیں تبھی ملے گا جب یہ واضح ہو گا کہ جنرل راحیل شریف ہی نہیں بلکہ تمام شریف وہی بات کہہ رہے ہیں جو فی الوقت صرف ایک امریکہ پلٹ جرنیل کہہ رہا ہے۔

05/12/2014 - 21:37:53 :وقت اشاعت