ایبولا وائرس ڈیزیز میں ہومیو پیتھک دوائیں مفید ثابت ہوسکتی ہیں، وائرس ممالیہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے،ایبولاپاکستان میں کسی بھی وقت پہنچ سکتا ہے ،

پاکستان سینٹرل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج و ہسپتال پرنسپل ڈاکٹر مختار احمدکا ایبولا وائرس پر لیکچر

ایبولا وائرس ڈیزیز میں ہومیو پیتھک دوائیں مفید ثابت ہوسکتی ہیں، وائرس ..

کراچی(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 06 دسمبر 2014ء)پاکستان سینٹرل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج و ہسپتال پرنسپل ڈاکٹر مختار احمدنے کہاہے کہ ایبولا وائرس ڈیزیز میں ہومیو پیتھک دوائیں مفید ثابت ہوسکتی ہیں، وائرس ممالیہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور پھر ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے پھیلتا ہے اسی لیے اب یہ وائرس دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور پاکستان میں کسی بھی وقت پہنچ سکتا ہے کیونکہ افریقی ممالک سے بڑے پیمانے پر مسافروں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔

وہ ہفتہ کو یہاں پاکستان سینٹرل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج و ہسپتال میں ایبولا وائرس ڈیزیز پر اسپیشل لیکچر پروگرام سے خطاب کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ایبولا وائرس بنیادی طور پر افریقی ممالک کی بیماری ہے اوریہ وائرس ممالیہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور پھر ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے پھیلتا ہے اسی لیے اب یہ وائرس دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور پاکستان میں کسی بھی وقت پہنچ سکتا ہے کیونکہ افریقی ممالک سے بڑے پیمانے پر مسافروں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔

(جاری ہے)

اس وائرس کی پانچ اقسام ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک ایبولا وائرس ہے۔یہ وائرس انسانی جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کرتا ہے اسی لیے مہلک تصور کیا جاتا ہے اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ وائرس انسانی اعضاء مثلاً جگر، گردے وغیرہ کو شدید متاثر کرتا ہے جس سے انسان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ اوکے مطابق ابھی تک اس بیماری کا نہ علاج ہے اور نہ ہی ویکسین موجود ہے، صرف علامات کے مطابق حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔

ہومیو پیتھک نظریے کے مطابق یہ بیماری ایک وبائی مرض ہے اور جن علاقوں میں یہ وبا موجود ہے اس علاقے کے لوگوں کو علامات کے مطابق اور حفظ ماتقدم کے طور پر ہومیو پیتھک دوائیں کھلانی چاہیے کیونکہ ہومیو پیتھک دوا انسانی جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتی ہیں جس سے انسان ان مہلک قسم کے وائرس سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس لیے ہومیو پیتھک فلسفہ کے مطابق وائرس کے جسم میں داخل ہونے سے لے کر مرض کے شدت اختیار کرنے سے پہلے تک اگر ہومیو پیتھک دوائیں استعمال کی جائیں تو مفید ثابت ہوسکتی ہیں جبکہ مرض کے شدت اختیار کرنے کے بعد ہومیو پیتھک دوا کی مدد سے شفایابی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

اس لیے ڈبلیو ایچ او کو چاہیے کہ جن علاقوں میں یہ مرض وبائی شکل میں موجود ہے وہاں تجرباتی طور پر ہومیو پیتھک دواوٴں کو بھی آزمایا جائے۔

Your Thoughts and Comments