بند کریں
صحت صحت کی خبریںلو گ پولیو کو خطرناک سمجھتے ہیں حالانکہ باقی 8بیماریاں بھی پولیو کی طرح خطرناک ہیں،ڈاکٹر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/12/2014 - 12:44:41 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 10:58:17 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 23:12:18 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 22:53:12 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 22:22:00 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 22:22:00 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 21:45:31 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 21:18:59 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 20:39:30 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 20:32:56 وقت اشاعت: 08/12/2014 - 20:25:25

لو گ پولیو کو خطرناک سمجھتے ہیں حالانکہ باقی 8بیماریاں بھی پولیو کی طرح خطرناک ہیں،ڈاکٹر دُرِ ناز جمال،

جنوبی ایشیا میں سالانہ 45لاکھ بچے نمونیا کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان پہلا ملک ہے جس نے سرکاری طور پر پی سی وی ٹین کو متعارف کرایا ہے، پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 08 دسمبر 2014ء) صوبائی ٹیکہ جات پروگرام برائے سندھ کی ڈپٹی پروگرام مینیجرڈاکٹر دُرِ ناز جمال نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی 9مہلک بیماریوں میں سے کسی ایک کا شکار ہوئے تھے ۔پولیو میں ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں اورشاید ہمیں اور ہمارے بچوں کو پھر دنیا میں کہیں بھی جانے کے لیے ویزاہی نہ مل سکے ،ہم ایک بچے کی ایمونائزیشن پر 23ہزار روپے خرچ کرتے ہیں جوپولیو سمیت 9بیماریوں سے بچاتی ہے ۔

سب کچھ مفت ہونے کے باوجود والدین بچوں کی ایمونائزیشن نہیں کراتے جو افسوس ناک ہے۔ جس دن والدین ایمونائزیشن کو اپنا حق سمجھ کر کھڑے ہو گئے اس دن بیماریوں کا خاتمہ کرنا آسان ہو جائے گا۔وہ یونیسیف اورصوبائی ٹیکہ جات پروگرام برائے سندھ کے تحت کراچی پریس کلب میں حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں۔ پروگرام سے ماہر امراض اطفا ل ڈاکٹر نواز ملاح نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر درِ ناز جمال نے کہا کہ لو گ پولیو کو خطرناک سمجھتے ہیں حالانکہ باقی 8بیماریاں بھی پولیو کی طرح خطرناک ہیں۔جنوبی ایشیا میں سالانہ 45لاکھ بچے نمونیا کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان پہلا ملک ہے جس نے سرکاری طور پر پی سی وی ٹین کو متعارف کرایا ہے ۔ہم ان ٹیکوں پر 18ہزار خرچ کرتے ہیں یہ ٹیکے ڈیڑھ سال کی عمر تک بچے کو 3مرتبہ لگتے ہیں جو نیموکو کل ،نمونیہ اور گردن توڑ بخار سے زندگی بھر کے لئے نجا ت دے دیتے ہیں۔

اس کا پہلا ٹیکہ 6ماہ ، دوسرا 10ماہ اور تیسرا 14ماہ میں لگتا ہے۔ پینٹا اور پی سی وی 10دو ٹیکے ایک ساتھ لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکثر مائیں دو ٹیکے اکھٹے دیکھ کر انکار کردیتی ہیں حالانکہ پینٹا 5بیماریوں جبکہ پی سی وی 10بیشتر خطرناک بیماریوں سے بچاتا ہے ،اس لئے والد ین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ ٹیکے ضرور لگوائیں کیونکہ بچوں کے لئے روٹین ایمونائزیشن بہت ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ میں آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے شاید ای پی آئی اپنا پیغام دلچسپ انداز میں آگے نہیں پہنچا سکی تاہم ہم نے اپنا ہدف رکھا ہے کہ 2018تک تمام بیماریوں سے بچاؤ کی ایمونائزیشن کی کوریج 80سے 85فیصد تک لے کر جائیں گے۔ ڈاکٹرنواز ملاح نے کہا کہ احتیاطی تدابیر سے نہ صرف بیماریاں کم ہو سکتی ہیں بلکہ ختم بھی ہو سکتی ہیں دنیا بھر میں اس حوالے سے جو نظام اپنایا گیا ہے ہمارے ہاں وہ نظام نہیں اپنایا جا رہا، امریکہ وغیرہ میں ایسے بچے جن کی ویکسینیشن نہ ہو اسکول میں نہیں جاسکتے والدین کے بے فارم میں ان کا اندراج نہیں ہوتا والدین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی ایمونائزیشن کرائیں ، اس لیے ہمیں بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے ۔

والدین اس پر آمادہ ہو جا ئیں اور ہمارے بچے بیماریوں سے نجات پا کر صحت مند زندگی گزار سکیں۔

08/12/2014 - 22:22:00 :وقت اشاعت