بند کریں
صحت صحت کی خبریںپنجاب اسمبلی اجلاس میں حکومتی اراکین کا صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال اور ڈاکٹروں کی کمی پر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/12/2014 - 16:23:46 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 16:20:57 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 16:13:13 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 16:06:29 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 15:08:06 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 15:04:13 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 13:39:59 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 13:34:44 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 13:25:44 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 13:18:36 وقت اشاعت: 09/12/2014 - 13:15:54

پنجاب اسمبلی اجلاس میں حکومتی اراکین کا صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال اور ڈاکٹروں کی کمی پر شدید تحفظات کااظہار

لاہور( اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 09 دسمبر 2014ء)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی بنچوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے اپوزیشن کی کمی کو پورا کرتے ہوئے صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال اور صوبہ بھر میں ڈاکٹروں کی کمی پر اپنے شدید تحفظات کااظہار کیا جبکہ حکومت کی طرف سے ایوان میں کہا گیا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسائل درپیش ہیں جنہیں راتوں رات حل نہیں کیا جا سکتا ،اسپیکر نے ضمنی سوالات کے نتیجے میں سامنے آنے والی اچھی تجاویز کو زیر غور لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کی شکایات جائز ہیں اور ان کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،ایوان کو بتایا گیا کہ حکومت کا ایک ڈاکٹر پر اوسطاً تیس سے چالیس لاکھ روپے خرچ آتا ہے لیکن سرکاری میڈیکل کالجوں سے پڑھ کر ڈاکٹر بننے والے بعض نوجوان صحت کے شعبے میں آنے کی بجائے مقابلے کے امتحان میں شرکت کر کے پولیس ‘ ڈی ایم جی اور دیگر محکموں میں سی ایس ایس یا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہو جاتے ہیں ، ڈاکٹروں کے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے پر پابندی لگانا وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے ، اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے فیصل آباد کے سانحے پر گزشتہ روز بھی احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا جبکہ سینئر صحافی مجید نظامی مرحوم کوخراج تحسین پیش کرنے ،تمام یتیم بچوں او ربچیوں کو حکومتی ذمہ داری قرار دینے اور ملکی ضرورت سے زائد پیداوار ہونے کے باوجود 16کروڑ74لاکھ ڈالر مالیت کی گندم درآمد کے معاملہ کی تحقیقات سمیت مفاد عامہ سے متعلق چھ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت دس بجے کی بجائے تیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری خواجہ عمران نذیر نے محکمہ صحت سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔ ایوان کو بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے ضلعی ہسپتالوں ں میں علیحدہ برن یونٹس موجود نہیں ہیں تاہم برن کے مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں بطور ایمر جنسی دیکھ بھال کی تمام تر سہولیات دستیاب ہیں۔

ایوان میں اراکین اسمبلی کی طرف سے صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال اور خصوصاً ڈاکٹروں کی کمی کے بارے میں تحفظات اور احتجاج پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہے کہ پورے پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہر یں بہا دی ہیں لیکن صحت اور تعلیم کے شعبے حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سنٹرز میں ڈاکٹرز کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے سمری کی منظوری دیدی ہے اور اسے جلد پراسس میں لا رہے ہیں اور اسے دو سے تین ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا ۔

ڈاکٹروں کی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے بھی عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی درست ہے کہ سو فیصد کوٹے میں پچاس فیصد بچیاں ہوتی ہیں لیکن وہ اس شعبے کو جوائن نہیں کرتیں لیکن ہم سپریم کورٹ کے حکم کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ پالیسی لا رہی ہے کہ ڈاکٹروں کو دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی سر انجام دینے کیلئے ہارڈ شپ الاؤنس اور دیگر مراعات دی جائیں جبکہ یہ تجویز بھی ہے کہ میڈیکل کا امتحان پاس کرنے والے ڈاکٹروں کو دو سے تین سال کے لئے پابند کیا جائے کہ وہ دور درازکے دیہی علاقوں میں فرائض سر انجام دیں گے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ بھرتی کرنا ایک الگ معاملہ ہے اور ڈاکٹروں کو دور دراز علاقوں میں پہنچانا ایک الگ معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے تسلیم کرتی ہے کہ یہ حقیقی مسئلہ ہے اور اسکے لئے یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں اشد ضرورت ہو وہاں پر ایڈ ہاک پر تعیناتی کر لی جائے۔ حکومتی رکن ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اگر صرف ایک ضلع قصور یا نارروال کی بات کی جائے تو وہاں کے بی ایچ یو میں 112لوگوں کی ضرورت ہے جہاں پر صرف چالیس لوگ کام کر رہے ہیں اگر اسے ہی مد نظر رکھ کر شرح نکالی جائے توپنجاب میں ستر فیصد آسامیاں خالی ہیں ۔

جب تک حکومت اس کے لئے جامع پالیسی نہیں بنائے گی یہ معاملات حل نہیں ہو سکتے ۔اس موقع پر حکومتی رکن اسمبلی شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج فیکلٹی نہ ہونے کی وجہ سے بند ہونے جارہا ہے اور پی ایم ڈی سی نے نوٹس جاری کر دیا ہے کہ اس کالج کو بند کر کے اسے دوسرے کالج میں شفٹ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹرز پڑھ کر بیرون ممالک جارہے ہیں جبکہ ہم چین ‘ گلگت بلتستان اور کرغزستان کے ڈاکٹر لا رہے ہیں حکومت کیوں اپنے ڈاکٹروں کو باہر جانے سے روکنے کے لئے این او سی از جاری کرنے کا سلسلہ بند نہیں کرتی ۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ رکن اسمبلی اطمینان رکھیں فاطمہ جناح میڈیکل کالج اگلے ہفتے اور اگلے سال بھی چل رہا ہوگا ،فیکلٹی کی کمی ہوتی ہے جنہیں پر کر لیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر کئی دیگر اراکین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس پر اسپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی سوالات کے نتیجے میں جو اچھی تجاویز سامنے آتی ہیں حکومت کو انہیں زیر غور لانا چاہیے ۔

اب تک اراکین اسمبلی کی جو باتیں سنی ہیں انکی شکایات جائز ہیں اور ان کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اجلاس کے دوران حکومتی رکن اسمبلی طاہر سندھو ایڈووکیٹ نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سات سال سے صرف پالیسی ہی بنائی جارہی ہے اب بہت ہو گیا ہے اور عملی کام ہونا چاہیے ۔ اس دوران حکومتی رکن طاہر سندھو ایڈووکیٹ اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے درمیان معمولی نوک جھونک بھی ہوئی ۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے فیصل آباد میں پیش آنے والے واقعے کے متعلق دوبارہ احتجاج کیا اور (ق) لیگ کے عامر سلطان چیمہ اور خدیجہ عمر فاروقی نے سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کا کہا ۔ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ حالات مسلسل خراب ہوتے جارہے ہیں اور انہیں کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کرے کیونکہ اگر نظام کی بساط لپٹی جاتی ہے تو اس کا جمہوریت کو نقصان ہوگا ۔

عامر سلطان چیمہ نے کہا کہ حکومت شیشے کے گھر میں رہتی ہے ۔ کاش دو روز پہلے پی ٹی آئی والوں سے مذاکرات کر لئے جاتے ۔ حکومت کیوں مذاکرات نہیں کررہی اور ملک کو انارکی اور انتشار کی طرف بڑھنے سے روکا نہیں جارہا ۔ فیصل آباد سانحے کے بعد یہ آگ دوسرے شہروں میں بھی پھیل چکی ہے ۔ وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کی عوام کے پی ٹی آئی کو کال کو مسترد کر دیا تھا اور معمول کے مطابق کاروبار زندگی رواں دواں تھا ۔

عمران خان اور شیخ رشید جو کافی عرصہ سے کنٹینر سے جلاؤ گھیراؤ کی دھمکیاں دے رہے تھے اسکے مطابق انہوں نے فیصل آباد کے نو مقامات کو بلاک کرنے کا پروگرام بنایا لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے ۔ پی ٹی آئی کے لوگوں نے تین مقامات کو بلاک کرنے کی کوشش کی اور مارکیٹیں بند کرانے کی کوشش جس پر وہاں کے مقامی لوگ مشتعل ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو فری ہینڈ دیا ہوا تھا اور یہی وجہ ہے کہ کہیں بھی آنسو گیس یا لاٹھی چارج کا ستعمال نہیں کیا گیا اور صرف پانی کا استعمال کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ڈویژن میں پی ٹی آئی کے پاس صرف ایک سیٹ ہے اور فیصل آباد (ن) لیگ کا مضبوط گڑھ ہے یقینا (ن) کے کارکن مشتعل ہو کر نکل آئے ہوں گے۔ وہاں ایک شخص ہلاک ہوا ا، فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں ، وزیر اعلیٰ نے اس پر فور ی طو رپر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے اور فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری پر پچاس لاکھ روپے کا انعام رکھا ہے ۔

اس شخص کی یقینا گرفتاری کی جائے گی اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت تو مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن پی ٹی آئی والے خود میز سے اٹھ کر گئے ہیں۔ اس پر سردار حسن اختر موکل نے کہا کہ یہ تو وہ باتیں ہیں جو میڈیا میں آچکی ہیں وزیر قانون اصل حقائق بتائیں ۔ اسکے بعد اپوزیشن اراکین علامتی واک آؤٹ کر گئے ۔ اسپیکر کے چلے جانے کے بعد اجلاس کو چیئر کرنے والے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی نے صوبائی وزیر ملک آصف بھا کو اپوزیشن اراکین کو منانے کے لئے بھیجا ۔

پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری نے کہا کہ مشرف لیگ کے لوگوں نے بھی فیصل آباد میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کی بات کی تھی اور وہاں ہونیوالے جلاؤ گھیراؤ میں انکے لوگ بھی شامل تھے ۔سکولوں میں (ق) لیگ کے ڈنڈا بردار فورس گئی اور اس پر پردہ پوشی کرنے کے لئے (ق) لیگ والے یہاں باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے (ق) لیگ والوں کو انتخابات میں دھول چٹا دی ہے یہ تو صرف ” باجا شامل جماعت “ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

کچھ دیر بعد اپوزیشن اراکین احتجاج ختم کر کے واپس آ گئے ۔ اجلاس میں ڈاکٹر وسیم اختر کی 21اکتوبر 2014ء کے ایجنڈے سے زیر التوا رکھی گئی قرارداد بھی پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مجید نظامی مرحوم نظریاتی صحافت کا ایک تابنک اور زریں عہد تھے جو اپنے اختتام کو پہنچ گئے ۔ یہ ایوان اس تابناک اور روشن عہد صحافت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اللہ رب العزت سے دعا گو ہے کہ وہ انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا کرے ۔

اجلاس میں شیخ علاؤ الدین کی قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان رائے دیتا ہے کہ تمام یتیم بچوں ں اور بچیوں کو حکومتی ذمہ داری قرار دیا جائے اس قرارداد کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ حنا ء پرویز بٹ کی قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز ایک طالبعلم سے ساٹھ لاکھ سے نوے لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں لیکن اکثر پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس کی پروفیشنل تعلیم دینے کے لئے لیبارٹریز ‘ مکمل ہسپتال اور کوالیفائیڈ سٹاف نہیں جسکی وجہ سے انہیں معیاری تعلیم نہیں مل پاتااور انہیں سرکاری ہسپتالوں میں ہاؤس جاب بھی نہیں ملتی اور وہ میڈیکل کی نوکری حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔

ایوان کی رائے ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں اور تعلیمی سہولیات کو مانیٹر اور ریگولیٹ کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے ۔وزیر قانون نے اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی ترامیم کرائیں جسکے بعد اسے بھی متفقہ طور پرمنظور کر لیا گیا ۔ ڈاکٹر وسیم اختر کی زرعی زمینوں کے تحفظ کے لئے شہروں کی حدود مقرر کرنے اور پرانے شہروں کو وسعت دینے کی بجائے نئے شہر بسانے کی قرارداد میں بھی قانون کے مطابق کے الفاظ کی ترامیم ، لبنیٰ فیصل کی قرارداد کہ بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول میں درپیش رکاوٹوں ں کو دور کرنے اور ایک ہفتہ کے اندر پراسس کو مکمل کرنے کی قرارداد میں وفاق سے مطالبے کے الفاظ کی ترامیم جبکہ (ق) لیگ کے چوہدری عامر سلطان چیمہ کی قرارداد کہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں موجودہ سال گندم کی ضرورت سے زائد پیداوار ہونے کے باوجود 16کروڑ 74لاکھ ڈالر مالیت کی 6لاکھ46ہزار ٹن گندم درآمد کے معاملہ کی فوری تحقیقات کرائی جائے او رگندم درآمد کروانے والے عناصر کو بے نقاب کر کے ذمہ داری کو کڑی سزا دی جائے کی قرارداد میں بھی وفاقی حکومت سے مطالبے کے الفاظ کی ترامیم کے بعد متفقہ طو رپر منظور کر لی گئیں ۔

ایجنڈے کی کارروائی مکمل ہونے پر اجلاس کل بدھ صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

09/12/2014 - 15:04:13 :وقت اشاعت