بند کریں
صحت صحت کی خبریں صوبے کے صرف 5 سرکاری اسپتالوں میں ایم آی آر مشین نصب کی گئی ہیں ،وزیر صحت سندھ ،
3 اسپتالوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/12/2014 - 22:57:07 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 22:54:06 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 22:54:06 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 22:54:06 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 21:04:38 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 21:04:38 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 20:30:00 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 20:30:00 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 20:15:39 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 18:36:11 وقت اشاعت: 10/12/2014 - 17:51:45

صوبے کے صرف 5 سرکاری اسپتالوں میں ایم آی آر مشین نصب کی گئی ہیں ،وزیر صحت سندھ ،

3 اسپتالوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر وہ مریضوں کو سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں،جام مہتاب کا اسمبلی میں بیان

کراچی ( اُردو پوائنٹ تاز ترین اخبار۔ 10 دسمبر 2014ء ) سندھ کے وزیر صحت جام مہتاب ڈہر نے اعتراف کیا ہے کہ صوبے کے صرف 5 سرکاری اسپتالوں میں ایم آئی آر مشین نصب کی گئی ہیں ، جن میں سے 3 اسپتالوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر وہ مریضوں کو سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں ۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے بدھ کو سندھ اسمبلی میں محکمہ صحت کے حوالے سے پوچھے گئے وقفہ سوالات میں مختلف ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات کے دوران کیا ۔

وزیر صحت جام مہتاب ڈہر نے اعتراف کیا کہ کراچی کے سول اسپتال میں فروخت کنندہکی جانب سے بجلی کی عدم دستیابی ، پی ایم سی ایچ نواب شاہ میں لیکویٹر ہیلیم کی عدم دستیابی جبکہ سی ایم سی ایچ لاڑکانہ میں تاحال ایم آئی آر کی تنصیب نہ ہونے کے باعث مریضوں کے لیے یہ سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں ۔ صرف جناح اسپتال کراچی اور ایل یو ایچ حیدر آباد میں ہی یہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔

وزیر صحت نے اعتراف کیا کہ صوبے میں 2013 اپریل تک 192 او پی ایس ڈاکٹرز موجود تھے تاہم اس وقت بھی چند ایک جگہ پر کچھ ڈاکٹڑز او پی ایس کے موجود ہیں اور ان کو بھی ان کے اصل محکموں میں بھیجنے کے لیے محکمہ صحت ڈاکٹرز کی بھرتی کر رہے ہیں اور اس وقت 15 ڈاکٹرز ہیں جو او پی ایس پر ہیں ان کو بھی چند روز میں ختم کر دیں گے ۔ محکمہ صحت جن ڈاکٹرز کی پرموشن ہونی ہے ، وہ بھی کر رہی ہے ۔

ایک تحریری سوال کے جواب میں وزیر صحت جام مہتاب ڈھر نے بتایا کہ جناح اسپتال ، این آئی سی ایچ او این آئی سی وی ڈی 18 ویں ترمیم کے بعد اب صوبے کے پاس آگئی ہے اور ان میں کسی قسم کے فنڈز کی کمی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اسپتال میں جب یہ وفاق کے پاس تھے تو بھی اس میں ملازین زیادہ تر سندھ کے ہی تھے تاہم کچھ ملازمین دیگر صوبے سے ہیں لیکن ان میں سے کسی بھی ملازمین کو نہیں نکالا جا رہا ۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں 101 سرکاری اسپتال کام کر رہے ہیں اور جن جن تعلقہ میں تعلقہ اسپتال نہیں ہیں وہاں اسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے تمام تعلقہ میں تعلقہ اسپتال بنائے جا رہے ہیں ۔ ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ کراچی میں سرکاری اسپتالوں کی حالت زار خراب ہے ، جو دو ماہ میں نہیں ہوئی ۔

اس لیے اس کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہاکہ میں تو اس خوش فہمی میں تھا کہ کراچی کے دعویدار کراچی کے اسپتالوں کو بہتر کیے ہوئے ہوں گے لیکن جو حالت زار سامنے آئی ہے وہ قابل افسوس ہے وہ اس سلسلے میں جلد سے جلد تمام اسپتالوں کا دورہ کریں گے اور ان کی حالت زار کو بہتر بنائیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ اس وقت کراچی کے جناح اسپتال میں 1185 بستر موجود ہیں اور تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی اس اسپتال میں بستر کی تعداد بڑھانے اور نئی بلڈنگ بنانے کا بھی حکومت ارادہ رکھتی ہے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام ہائی ویز پر ٹراما سینٹرز بنانے اور وہاں موجود اسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں اور انہیں ایمبولینس بھی فراہم کی جائیں گی تاہم تاحال سپرہائی وے پر ایمبولینس سروس دستیاب نہیں ہے اس پر بھی کام جاری ہے ۔

10/12/2014 - 21:04:38 :وقت اشاعت