بند کریں
صحت صحت کی خبریںکراچی کے ادارہ فراہمی نکاسی آب میں مالی اختیارات کی جنگ ،سندھ کے وزیر بلدیات نے ایم ڈی قطب ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 12/12/2014 - 16:55:20 وقت اشاعت: 12/12/2014 - 16:12:58 وقت اشاعت: 12/12/2014 - 15:31:18 وقت اشاعت: 12/12/2014 - 14:27:55 وقت اشاعت: 12/12/2014 - 12:34:02 وقت اشاعت: 11/12/2014 - 23:23:20 وقت اشاعت: 11/12/2014 - 23:21:20 وقت اشاعت: 11/12/2014 - 22:48:10 وقت اشاعت: 11/12/2014 - 22:48:10 وقت اشاعت: 11/12/2014 - 21:59:40 وقت اشاعت: 11/12/2014 - 21:59:40

کراچی کے ادارہ فراہمی نکاسی آب میں مالی اختیارات کی جنگ ،سندھ کے وزیر بلدیات نے ایم ڈی قطب شیخ کو تبدیل کر دیا ،

متحدہ قومی موومنٹ کے توسط سے نوکریاں حاصل کرنے والے افسران وملازمین کے تبادلوں کافیصلہ کر لیا گیا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11دسمبر 2014ء)کراچی کے ادارہ فراہمی نکاسی آب میں مالی اختیارات کی جنگ ،سندھ کے وزیر بلدیات نے ایم ڈی قطب شیخ کو تبدیل کر دیا ،متحدہ قومی موومنٹ کے توسط سے نوکریاں حاصل کرنے والے افسران وملازمین کے تبادلوں کافیصلہ کر لیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سندھ کے وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن نے ادارہ فراہمی نکاسی آب کے منیجنگ ڈائریکٹر قطب شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا۔

ذرائع کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈمیں مالی اختیارات کی جنگ پر قطب شیخ کو فارغ کیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ادارے میں شہر کے بڑے پانی کے منصوبوں کے لئے2دن قبل محکمہ سے فنڈ کے اجراء کا اختیار سیکرٹری بلدیات سے قطب شیخ نے بحیثیت ڈائریکٹر پروجیکٹ اپنے پاس منتقل کردیا اور خود بیرون ملک روانہ ہوگئے ۔جس کا علم وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کو ہوا تو انہوں نے پیر کو قطب شیخ کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور جمعرات کو عہدے سے ہٹا دیا ۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں مالی اختیارات اور من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے کی فراہمی کیلئے ایم ڈی واٹر بورڈ کے تبادلے ہوتے رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق قطب شیخ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد واٹر بورڈ میں خلاف ضابطہ 20گریڈ حاصل کرنے والے عمران آصف کو ایم ڈی واٹر بورڈ تعینات کئے جانے کا امکان ہے ۔ دوسری جانب کراچی کے ادارہ فراہمی و نکاسی آب میں متحدہ قومی موومنٹ کے توسط سے نوکریاں حاصل کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق 2008میں شعبہ ٹیکس کے 32ڈپٹی ڈائریکٹرز کی ترقیوں کی حکومت سندھ نے منظوری دی تھی کیونکہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سٹی گورنمنٹ کے ایس ایل جی او 2001کے بجائے واٹربورڈ ایکٹ 1996کے تحت کام کررہا تھا تاہم ادارے کی کرپٹ مافیا نے سٹی گورنمنٹ کی ایک قرار داد 323فروری 2008کا غیر قانونی اور جعل سازی سے استعمال کیا اور کئی ہزار ملازمین نے اندھا دھند ترقیاں حاصل کیں جبکہ یہ قرارداد ان محکموں کے لیے تھی جو سٹی گورنمنٹ کے ایس ایل جی او 2001کے تحت کام کررہے تھے،مذکورہ قرارداد کو بنیاد بناکر متحدہ قومی موومنٹ نے گریڈ 4سے گریڈ 16تک 7ہزار سے زائد بھرتیاں کروائی تھیں جس کی وجہ سے 70کروڑ میں سے 40کروڑ آمدنی حاصل کرنے والا ادارہ صرف تنخواہوں کی مد میں اب 30کروڑ روپے ادا کررہا ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ ان7 ہزار سے زائد ملازمین تک واٹر بورڈ ماہانہ تنخواہوں اور ان افسران کو ملنے والی دیگر سہولیات کی مد میں 15کروڑ روپے سے زائد اخراجات کررہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس افسران کی تعداد 100کے قریب ہے اور ان تمام افسران کو ادارے کی جانب سے گاڑیوں کی سہولت اور پیٹرول کی سہولت بھی میسر ہے اور فی افسر کو ماہانہ 300لیٹر پیٹرول ادارے کی جانب سے ملتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کو الطاف حسین کے خطاب اور رابطہ کمیٹیوں کو معطل کرنے کے بعدواٹر بورڈ لیبر ڈیژون کی از سر نو تنظیم سازی کی جائیگی کیونکہ گذشتہ 3سے 4ماہ کے دوران واٹر بورڈ لیبر ڈیژون کے ذمہ دار ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے افسر عظیم بھائی فنڈز جمع کرنے کے اہداف مکمل نہیں کرسکے ہیں ۔سابق سٹی ناظم مصطفی کمال کے دور میں واٹر بورڈ میں بھرتی ہونے والے افراد کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی تنخواہوں کا 10فیصد پارٹی اور تنظیم فنڈز کی مد میں عظیم بھائی کے پاس جمع کروائینگے جو ماہانہ تقریبا ایک کروڑ 30ٓلاکھ روپے بنتے ہیں تاہم تین سے 4ماہ کے دوران عظیم بھائی مرکز میں فنڈز جمع نہیں کراسکے تھے۔

11/12/2014 - 23:23:20 :وقت اشاعت