بند کریں
صحت صحت کی خبریںمحکمہ خزانہ لاڑکانہ کی نااہلی ، اسپتال کے آکسیجن کی خریداری کے لیے آنے والی رقم جاری نہ کر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/12/2014 - 22:12:15 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 22:07:58 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 21:48:22 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 20:59:02 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 20:47:46 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 20:40:53 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 19:16:12 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 18:45:35 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 18:24:28 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 17:20:06 وقت اشاعت: 13/12/2014 - 16:25:25

محکمہ خزانہ لاڑکانہ کی نااہلی ، اسپتال کے آکسیجن کی خریداری کے لیے آنے والی رقم جاری نہ کر نے کے باعث چار نوزائیدہ بچوں سمیت پانچ بچے دم توڑ گئے،

چانڈکا میڈیکل اسپتال میں آکسیجن کا صرف48 گھنٹو ں کا کوٹہ موجود، سینکڑوں مریضوں کی جان کو خطرات لاحق

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 دسمبر 2014ء) محکمہ خزانہ لاڑکانہ کی نااہلی اندرون سندھ کے سب سے بڑے اسپتال کے آکسیجن کی خریداری کے لیے آنے والی رقم جاری نہ کر نے کے باعث چار نوزائیدہ بچوں سمیت پانچ بچے دم توڑ گئے۔ چانڈکا میڈیکل اسپتال میں آکسیجن کا صرف48 گھنٹو ں کا کوٹہ موجود، سینکڑوں مریضوں کی جان کو خطرات لاحق ۔تفصیلات کے مطابق اندرون سندھ کی سب سے بڑی اسپتال چانڈکا میڈیکل اسپتال جو کہ1350 بستروں پر مشتمل ہے ،آکسیجن کی خریداری کے لیے اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے اسپتال ذرائع کے مطابق سالانہ بجٹ آکسیجن کی خریداری کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے اور رقم محکمہ خزانہ ضلع لاڑکانہ کے دفتر میں بھجوائی جاچکی ہے تاہم لاڑکانہ کے ضلعی اکاونٹس آفیسر بلا جواز بجٹ روکے ہوئے ہیں جس کے باعث اسپتال میں صرف 48 گھنٹے کے لیے آکسیجن موجود ہے دوسری جانب آکسیجن کی کمی کے باعث شیخ زید چلڈرن اسپتال میں ایک ایک سیلنڈر سے چار چار بچوں کو گیس سپلائی کی جارہی ہے جب کے خالی سیلنڈروں کی قطاریں لگ چکی ہیں جبکہ آکسیجن گیس کی عدم فراہمی کے باعث28 آپریشن تھیٹروں میں بھی منگل کے روز سے آپریشن ملتوئی کر دیئے جائیں گے، جب کے ان ہی مسئلوں کے باعث چلڈرن اسپتال میں48 گھنٹوں کے دوران چار نوزائیدہ بچوں سمیت پانچ بچے بھی دم توڑ چکے ہیں ،جب کے وہاں داخل 60 پیدا ہونے والے بچوں سمیت سینکڑوں مریضوں کی جاں بھی داؤ پر لگ چکی ہے ۔

دوسری جانب ایم ایس چانڈکا اسپتال لاڑکانہ صفیع اللہ عباسی نے رابطہ کرنے پر انہوں نے 7سالہ برین ٹیومر کے بچے کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مزید کوئی بچے ہلاک نہیں ہوئے، چلڈرن اسپتال میں اس وقت 14بچے داخل ہیں وہ سب بہتر حالت میں ہیں ،البتہ آکسیجن ہمارے اسپتال میں وافر مقدار میں موجود ہے،سپلائی لائے بلیٹی کرنی ہیں جیسے ہی فنانس ڈپارٹمنٹ سے فنڈزریلیز ہونگے تو ہم ادا کردیں گے،بقایا جات میں سے دو کواٹر ادائیگی کرچکے ہیں گیس سپلائی کرنے والوں کو واعدہ ہے کہ سپلائی بند نہیں کریں گے۔

علاوہ ازیں ایس این پی کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کے خلاف مسلسل تین مہینے سے لاڑکانہ میں احتجاج جاری ہے جس پر نہ حکومت سندھ نے نوٹس لیا ہے اور نہ ہی لاڑکانہ کی اسپتال انتظامیہ نے۔ احتجاج کرنے والے ایس این پی رہنما ؤں نصر اللہ ابڑو اور دیگر کا موقف ہے کہ لاڑکانہ کے سرکاری اسپتالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دی جارہی اور اسپتالوں میں ڈاکٹر ڈیوٹیاں نہیں دیتے اور نہ ہی ٹیسٹ کی مشینیں بہتر ہیں۔

مریضوں کو ملنے والی ادویات بھی غیر معیاری ہے ا س کے علاوہ زچکی کے لیئے آنے والی عورتوں سے بھی یہیں سلوک کیا جاتا ہے۔کوئی بھی تجربے کار ڈاکٹر موجود نہیں ہے ، سرکاری اسپتالوں میں داخل مریض ڈاکٹر مافیا کے رویے کے باعث مایوس ہوکر پرائیوٹ میڈیکل سینٹر کا رخ کرتے ہیں، جہاں مریضوں کو ڈاکٹر مافیا کنگال بنا دیتی ہے ، میڈیکل سینٹروں میں ڈاکٹر ز لاکھوں روپے کماتے ہیں مگر افسوس ڈاکٹر مافیا کے ظلم کے خلاف ایس این پی گذشتہ چار ماہ سے تحریک چلا رہی ہے ، اس کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا صحیح علاج کرکے پرائیوٹ میڈیکل سینٹرز کی فیسوں میں کمی لائی جائے اور غیر معیاری کمپنیوں کی جعلی اد ویات چلانا بند کی جائے۔

13/12/2014 - 20:40:53 :وقت اشاعت