بند کریں
صحت صحت کی خبریں سندھ میں کسی سرکاری اسپتال میں فالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں ہے،ماہرین ذہنی مریض ،
روزانہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/12/2014 - 21:48:48 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 21:30:10 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 20:06:48 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 19:55:36 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 18:36:00 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 18:11:14 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 16:37:58 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 16:09:02 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 15:04:55 وقت اشاعت: 17/12/2014 - 14:55:19 وقت اشاعت: 01/12/2014 - 17:22:03

سندھ میں کسی سرکاری اسپتال میں فالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں ہے،ماہرین ذہنی مریض ،

روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں فالج کے مریض نہ صرف موت کے منہ میں جارہے ہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے مفلوج بھی ہوجاتے ہیں،پریس کانفرنس

کراچی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17دسمبر 2014ء)ملک کے مایہ ناز ذہنی امراض کے ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ میں کسی سرکاری اسپتال میں فالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں ہے جس کی وجہ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں فالج کے مریض نہ صرف موت کے منہ میں جارہے ہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے مفلوج بھی ہوجاتے ہیں، حکومت کوٹیچنگ اور ضلعی اسپتالوں میں فالج یونٹ قائم کرنے چاہئیں تاکہ فالج کے حملے کا شکار ہونے والے مریضوں کی زندگی بچائی جا سکیں ، پاکستان میں روزانہ400افراد فالج کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ،جن میں 250خواتین بھی شامل ہیں۔

روزانہ ملک میں ایک ہزار افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں بشمول 550خواتین کے اور تقریباََ 600افراد زندگی بھر کے لیے اس مہلک بیماری سے مفلوج ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان نیورولوجی سوسائٹی ، پاکستان اسٹروک سوسائٹی اور نیورولوجی ایویرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت کراچی پریس کلب میں بدھ کے روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیورولوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹرواسع محمد شاکر، پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر عبد المالک ، تین روزہ 14ویں انٹرنیشنل نیورولوجی اپ ڈیٹس اینڈ7ویں قومی اسٹروک کانفرنس کے سیکریٹری ڈاکٹرنادر علی سید اور ڈاکٹرنائلہ شہباز خطاب کر رہی تھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر واسع محمد شاکر نے کہا کہ بدقسمتی سے کراچی سمیت سندھ کے کسی سرکاری اسپتال میں فالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں ہیں اور یہ سہولت صرف دو نجی اسپتالوں کے پاس ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے تحت کراچی میں 19سے 21دسمبر تک تین روزہ عالمی نیورولوجی اپ ڈیٹس اینڈ قومی اسٹروک کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے ۔جو آغاخان اسپتال میں منعقد ہوگی۔

کانفرنس کا پہلا اور آخری دن دماغ کی مختلف بیماریوں سے متعلق ہوگا جس میں سعودی عرب ، برطانیہ ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک سے دماغی بیماریوں کے ماہرین شریک ہوں گے ۔ دوسرے دن20دسمبر کو قومی فالج کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں ملک بھر سے فالج کی بیماری سے متعلق ماہرین شریک ہوں گے۔ تین روزہ کانفرنس میں لیکچرز ، سیمینار ، دماغ کی بیماریوں سے متعلق ہونے والی جدید تحقیق ، تحقیقی مقالوں کے علاوہ ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ فالج کا شکار ہونے والے افراد کو ابتدائی 24سے 40گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں اگر اس دوران مریض کو علاج کی بہتر سہولیات میسر آجائیں تو ہم فالج سے ہونے والی اموات کو 15فیصد تک لا سکتے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے ملک کے کسی اسپتال میں بھی فالج یونٹ اور بحالی سینٹر موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان اموات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہدنیا بھر میں 13فیصد اور پاکستان کے 10فیصدیعنی دو کروڑ سے زائد افراد دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں ۔

یہ تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر کے مرض سے زیادہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ فالج دل کی بیماریوں کے بعد دوسرے نمبر کی بیماری ہے جوسب سے زیادہ موت کی وجہ بن رہی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق 4سے 11فیصد اعصابی بیماریاں موت کی وجہ بن رہی ہیں جبکہ غریب اور متوسط ممالک میں یہ شرح 12فیصد تک ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں دماغی ا ور اعصابی امراض میں مبتلا افراد کو کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہدنیا بھر میں روزانہ 18ملین افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 6ملین روزانہ انتقال کر جاتے ہیں ،دنیا اورخصوصاً پاکستان میں معذور افراد میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ انہو ں ں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں فالج کے 90فیصد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں ہر عمر کے افراد کو فالج کا حملہ ہوتا ہے ۔ پاکستان میں گزشتہ 18سالوں کے دوران خواتین میں فالج کی شرح 28فیصد سے بڑھ کر 45فیصد ہوگئی ہے ۔ پاکستان میں عورتوں کو فالج ہونے کا خدشہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ، کیوں کہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک عورت کوفالج ہو جاتا ہے جبکہ مردوں میں یہ تعداد ہر 6میں سے ایک ہے ۔ زندگی میں روزانہ ورزش کا نہ ہونا ، نمک کا زیادہ استعمال اور زیابطیس ایسے عوامل ہیں جن سے ہر انسان کو فالج کا خطرہ ہوتا ہے ،مردوں میں سگریٹ نوشی اور گٹکافالج کا ایک بہت بڑا سبب ہے ۔

ڈاکٹر نادر علی سید نے کہا کہ پاکستان میں رعشہ (پارکنسنز) سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 40لاکھ سے زائد ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ تعداد 6 ملین سے تجاوز کرچکی ہے اور امکان ہے کہ 2030 تک یہ تعداد دگنی ہوسکتی ہے۔ رعشہ کے علاج کے لیے سرجری کے دوران دماغ میں سوراخ کرکے ایک ڈیوائس ڈی برین کمیونیٹر (سی ڈی ایف) ڈالی جاتی ہے ، جو پیس میکر کی طرز پر مقناطیس کے زریعے کام کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں رعشہ کے مرض کے دوران لرزہ پر قابو میں آجاتا ہے ۔رعشہ کا مرض 60سال کی عمر کے بعد زیادہ ہوتا ہے اور ساٹھ سال کی عمر کے ایک سو میں سے ایک فرد کو رعشہ کا مرض لاحق ہے ۔ اسی طرح 60سال سے کم عمر افراد میں ایک ہزار میں سے ایک فرد کو رعشہ کا مرض لاحق ہے ۔

17/12/2014 - 18:11:14 :وقت اشاعت